Updated: January 15, 2026, 4:09 PM IST
| Beijing
چین نے ’’آر یو ڈیڈ‘‘ نام کا ایک ایسا ایپ لانچ کیا ہے جو ہر ۴۸؍ گھنٹے بعد صارف سے یہ پوچھتا ہے کہ ’’کیا آپ مر گئے ہیں؟‘‘ اپنے مختلف نام کی وجہ سے یہ ایپ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اس ایپ کے بارے میں سوشل میڈیا پر لوگوں نے ملے جلے تبصرے کئے ہیں۔
چین کی طرف سے لانچ کیا گیا نیا اسمارٹ فون ایپ بہت عجیب و غریب وجہ سے عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بناہوا ہے۔ اس ایپ کا نام ہے ’’آر یو ڈیڈ‘‘ (کیا آپ مر گئے ہیں)، اور یہ بالکل وہی کرتا ہے جو نام سے ظاہر ہوتا ہے۔ ہر ۴۸؍ گھنٹے بعد یہ ایک پیغام بھیجتا ہے جس میں صارفین سے اس بات کی تصدیق کرنے کو کہا جاتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ اگر صارف کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوتا تو ایپ صارف کے ذریعے منتخب کردہ فرد کو خبردار کرتا ہے، جیسے کوئی دوست یا خاندان کا فرد۔
یہ بھی پڑھئے: تنظیم ہند رجب نے اسرائیلی فوجی کیخلاف آسٹریا میں فوجداری مقدمہ دائر کیا
ایپ کس طرح کام کرتا ہے؟
یہ ایپ استعمال کرنے میں بالکل آسان ہے، ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد صارف کو اپنے کسی بھروسے مند قریبی کےرابطے کی تفصیلات کا اندراج کرنا ہوتاہے۔ ہر دو دن کے بعد یہ ایپ صارفین کو ایک نوٹیفیکیشن بھیجتا ہے جس میں ان سے ایک بٹن دبانے کیلئے کہا جاتا ہے جس سے اس بات کی تصدیق ہو سکے کہ وہ ٹھیک ہیں۔ اگر صارف مقررہ وقت کے اندر جواب نہیں دیتا ہے، تو ایپ ہنگامی رابطہ کرنے والے کو ایک پیغام بھیجتاہے، جس سے انہیں مطلع کیا جاتا ہے کہ کچھ غلط ہو سکتا ہے۔ یہ ایپ مفت نہیں ہے لیکن سستا ہے۔ اس کی قیمت ایک پیالہ کافی کی قیمت کے برابر ہے۔ یہ ایپ اپنے عام اور بنیادی ڈیزائن کے باوجود، انتہائی مقبول ہو گیا ہے، خاص طور پر بڑے شہروں میں جہاں بہت سے لوگ اکیلے رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’امریکہ اور ایران میں کشیدگی پیدا ہوئی تو خطے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے ‘‘
لوگ اسے کیوں استعمال کر رہے ہیں؟
پہلے اس ایپ کا نام بالکل عجیب لگتا ہے، حتیٰ کہ کچھ لوگ تو اس پر ہنستے ہیں کہ یہ نام کتنا عجیب و غریب ہے۔ لیکن اس کی کامیابی کی وجہ بڑی سنجیدہ ہے۔ آج بہت سے لوگ اکیلے رہتے ہیں، خاندان اور قریبی دوستوں سے دور رہتے ہیں۔ اس حال میں اگر ان کے ساتھ کوئی حادثہ ہو جائے تو شاید ایسے میں ان کی مدد کیلئے کوئی موجود نہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے: گولڈن گلوبز ایوارڈز ۲۰۲۶ء: ہالی ووڈ اداکار مارک روفالو کا ٹرمپ پر حملہ، انہیں ’بدترین انسان‘ قراردیا
سوشل میڈیا پر ملے جلے تبصرے
اس ایپ کو کچھ لوگ پسند نہیں کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس کا نام بہت سخت اور منفی ہے، تو کچھ لوگ رازداری کے بارے میں فکر مند ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ کیا ایسی حساس معلومات کے ساتھ ایپ پر بھروسہ کیا جانا چاہیے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی حقیقی انسانی تعلق کی جگہ نہیں لے سکتی۔ ان سب کے باوجود بہت سے صارفین کا کہنا ہے کہ یہ ایپ ان کے تنہائی کے احساس کو کم کرتا ہے۔ ان کیلئے یہ خوف کا معاملہ نہیں، بلکہ یقین دہانی کا ذریعہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں ۹۵۰۰۰؍ بچے غذائی قلت کا شکار، ۱۸۰۰۰؍ افراد کو فوری طبی ضرورت: یو این
’’آر یو ڈیڈ؟‘‘ کی شہرت ہمارے سماج کی خامی کو واضح کرتی ہے جو ہے تنہائی۔ شہر ترقی کر رہے ہیں اور لوگوں کا طرزِ زندگی بدل گیا ہے، لوگ مزید خود مختار اور آزاد ہوتے جا رہے ہیں بلکہ الگ تھلگ بھی ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ ایپ عجیب لگ سکتا ہے لیکن یہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ کس طرح ٹیکنالوجی لوگوں کو روزمرہ کی زندگی میں زیادہ محفوظ اور زیادہ مربوط محسوس کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔