سماجی کارکن کا احتجاج رنگ لایا، درجنوں غیرقانونی چالیوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے۔
EPAPER
Updated: April 03, 2026, 10:08 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai
سماجی کارکن کا احتجاج رنگ لایا، درجنوں غیرقانونی چالیوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے۔
کھاڑی کنارے مینگرووز کو کاٹ کر اور زمین کی غیر قانونی بھرائی کے ذریعے تعمیر کی گئی درجنوں چالیوں کے خلاف ممبئی کے آزاد میدان پر جاری بھوک ہڑتال بالآخر رنگ لے آئی ہے۔ ڈومبیولی کے ایک شہری کی جانب سے گزشتہ ۶ ؍روز سے جاری اس احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) انتظامیہ نے سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ میونسپل حکام نے اعلی افسران کو فوری احکامات جاری کئے ہیں کہ کوپر روڈ پر واقع مہاڑسائی چال، کوپر ۱۰؍فٹ روڈ اور اندوبائی مہاترے چال کے گرد و نواح میں مینگرووز کو نقصان پہنچا کر کھڑی کی گئی تمام غیر قانونی تعمیرات کو فی الفور منہدم کیا جائے۔ انتظامیہ کا یہ سخت موقف نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کی سمت میں ایک اہم قدم ہے بلکہ زمین مافیا کیلئے بھی ایک واضح انتباہ ہے۔ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک سال سے مقامی سماجی کارکن ونود جوشی اور کلپیش جوشی ڈومبیولی (مغرب) کے سرور نگر اور کوپر گاؤں علاقوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف میونسپل کمشنر اور دیگر متعلقہ حکام سے مسلسل شکایات کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ زمین مافیا نے کھاڑی پر موجود قیمتی مینگرووز کو کاٹ کر وہاں بڑے پیمانے پر مٹی کی بھرائی کی اور اسی زمین پر ۷۰؍سے زائد غیر قانونی چالیں تعمیر کر دی ہیں۔ ماحولیات کے ماہرین اور مقامی شہریوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ساحلی پٹی کو پاٹنے کے نتیجے میں قدرتی آبی بہاؤ متاثر ہو رہا ہے۔ اگر یہ تعمیرات برقرار رہیں تو بارش کے موسم میں کھاڑی کا پانی ان چالیوں کے علاوہ کوپر گاؤں کی قدیم بستیوں اور قریبی رہائشی عمارتوں میں داخل ہونے کا سنگین خطرہ پیدا ہو سکتا۔ادھر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر شکایت کنندہ ونود جوشی گزشتہ چھ دنوں سے ممبئی کے آزاد میدان میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ریاستی حکومت فوری مداخلت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ، وزیر برائے شہری ترقی اور وزیر محصولات اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔ مسلسل چھ دنوں سے فاقہ کشی کے باعث ان کی صحت بگڑنے کی اطلاعات ہیں۔ بھوک ہڑتال کی سنگینی اور عوامی دباؤ کو دیکھتے ہوئے میونسپل انتظامیہ اب متحرک ہو گئی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر سشما مانڈگے نے غیرقانوی تعمیرات کے انہدام کا حکم جاری کیا ہے۔