Inquilab Logo Happiest Places to Work

ویٹ لیز پر چلائی جانے والی بسوں کے ڈرائیور زیادہ حادثوں کےذمہ دار!

Updated: June 17, 2026, 3:03 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

اگست۲۰۲۵ء تا مئی۲۰۲۶ء ہونے والے۹؍ سو سے زائد حادثوں میں سےساڑھے ۸؍سو حادثے ویٹ لیز بسوں کے ڈرائیور وں کے سبب ہوئے۔

Best Bus.Photo:INN
بیسٹ کی بس۔ تصویر:آئی این این
 بیسٹ انتظامیہ نے جب سے ویٹ لیز پر اپنی بسوں کو چلانے کا ٹھیکہ دیا ہے، گزشتہ۱۰؍ماہ میں ایک دو نہیں بلکہ ویٹ لیز پر چلائی جانے والی بسوں کے ڈرائیوروں کی لاپروائی کے سبب ۸؍ سو سے زائد سڑک حادثات ہوئے ہیں۔ قابل ذکر یہ بھی ہے کہ شہر کے الگ الگ علاقوں میں۲۳؍جان لیوا حادثات بھی شامل ہیں جس میں۲۲؍افراد کی موت ہوئی ہے۔
بیسٹ کی جانب سے ویٹ لیزکے تحت حاصل کی گئیں الیکٹرک اور اے سی بسوںکے باوجود یکے بعد دیگرے ہونے والے حادثات اور ان میں لگنے والی آگ سے کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یکم اگست۲۰۲۵ء تا۳۱؍مئی۲۰۲۶ء کے درمیان شہرو مضافات میں  ایسی بسوں کے ذریعہ کل ۹۰۷؍ حادثات پیش آئے ۔ ان میں سے ویٹ لیز کے ذریعہ چلائی جانے والی بسوں کے ڈرائیور ۸۸۷؍ حادثات کے ذمہ دار رہے ۔ حیرت انگیز طور پر ان میں سے جو ۲۳؍جان لیوا حادثات پیش آئے ہیں وہ ویٹ لیز پر چلائی جانے والی بسوں کے ڈرائیوروں کی لاپروائیوں کا نتیجہ تھے جس میں۲۲؍ افراد کی موت ہوئی تھی۔
وہیں بیسٹ بسوں کے ڈرائیوروں کے ذریعہ چلائی جانے والی بسوں سےگزشتہ ۱۰؍ ماہ میں ۲۰؍ حادثات ہوئے ہیں جن میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے ۔قابل ذکر یہ ہے کہ بیسٹ انڈر ٹیکنگ کی عام اور الیکٹرک اے سی بسوں کی کل تعداد۲؍ہزار سے زائد ہے جس میں سے۲؍ہزار۵۵۳؍بسیں ویٹ لیز کے ذریعہ چلائی جارہی ہیں۔تاہم بیسٹ انڈر ٹیکنگ کے زیر انتظام محض ۲۴۹؍بسیں ہی چلائی جارہی ہیں ۔ امسال۳؍مئی سے۱۰؍جون کے درمیان ویٹ لیز بسوں کے ڈرائیوروں کی لاپروائی کے سبب کم از کم۱۶؍حادثات پیش آئےتھے۔
 
 
ان حادثات نےمسافروں کی حفاظت کے خدشات میں مزید اـضافہ کر دیا ہے۔ اس طرح کے واقعات اور حادثات میں بسوں میں آگ لگنا، بیٹری کا اچانک جل جانا، تکنیکی خرابی، تصادم، بریک فیل اوردیگرسنگین مسائل شامل ہیں ۔حال ہی میں۸؍ جون کو دادر پلازہ سنیما کے قریب ہونے والا حادثہ قابل ذکر ہے جس میں ایک راہگیر کی اس وقت موت ہوگئی تھی جب ایک ویٹ لیز بس ڈرائیور مبینہ طور پر بریک لگانے میں ناکام ہوگیاتھا۔
 
 
ویٹ لیز پر چلنے والی بسوں کے ذریعہ پیش آنے والے حادثات پر ’آپلی بیسٹ آپلی ساتھی ‘ کے صدر روپیش شیلاتکر کا کہنا تھا کہ ’’ویٹ لیز بسوں کے بس ڈ رائیوروں کو بلی کا بکرا بنائے جانے کے بجائے بسوں میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔بیسٹ انتظامیہ یا ویٹ لیز کے ذمہ دار ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا کر مسافروں کی جان سے کھلواڑ نہیں کر سکتے ۔ مذکورہ بسوں کا لازمی طور پر آڈٹ ہونا ضروری ہے ۔‘‘وہیں ماہر ٹرانسپورٹ ودیا دھر ڈیٹ کا کہنا تھا کہ ’’ ویٹ لیز بسوں میں تکنیکی خرابیوں کے علاوہ جو سب سے بڑی کمزوری ہے ،وہ ان کے غیر تربیت یافتہ ڈرائیور ہیں ۔ جبکہ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی ملازمت کے تحفظ کی کوئی گارنٹی نہیں ہے اور ساتھ تنخواہ بھی کم دی جارہی ہے اور کام زیادہ لیا جارہا ہے ۔ میرے خیال سے ان تمام خامیوں کو بھی دور کیا جانا چاہئے ۔‘‘

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK