اسرائیل میں امریکی سفیر مائک ہکابی نے ایک بیان میں کہا کہامریکہ کا اپنا وجود اسرائیل کا مرہون منت ہے، ان کا یہ بیان صدر ٹرمپ کے اس موقف سے یکسر مختلف ہیں کہ اسرائیل کا وجود امریکی امداد پر منحصر ہے۔
EPAPER
Updated: June 17, 2026, 3:59 PM IST | Washington
اسرائیل میں امریکی سفیر مائک ہکابی نے ایک بیان میں کہا کہامریکہ کا اپنا وجود اسرائیل کا مرہون منت ہے، ان کا یہ بیان صدر ٹرمپ کے اس موقف سے یکسر مختلف ہیں کہ اسرائیل کا وجود امریکی امداد پر منحصر ہے۔
امریکی سفیر مائیک ہکابی نے یہ کہہ کر تنازع کھڑا کر دیا ہے کہ امریکہ کا اپنا وجود اسرائیل کا مرہون منت ہے، یہ دعویٰ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بالکل برعکس ہے جنہوں نے اس کے برعکس کہا تھا۔اسرائیل میں گفتگو کرتے ہوئے ہکابی نے کہا، ’’یہودی بنیادوں کے بغیر امریکہ وجود میں نہ آتا‘‘ اور مزید کہا کہ’’ امریکہ کا اپنا پورا وجود اس سرزمین میں ہونے والے واقعات کے مرہون منت ہیں۔‘‘واضح رہے کہ یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے جب ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو عوامی طور پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسرائیل کے لیے امریکی امداد کی حد پر زور دیا ۔ بعد ازاں ہکابی کے دعوے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے موقف سے براہِ راست متصادم ہیں، جنہوں نے حال ہی میں اسرائیل کی بقا کا سارا سہراخود کو دیا۔
یہ بھی پڑھئے: لبنان سے اسرائیلی فوجیں نہیں ہٹائی جائیں گی: نیتن یاہو
فرانس میں سالانہ جی ۷؍ سمٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اسرائیلی قیادت کی سخت عوامی سرزنش کی۔ٹرمپ نے کہا،’’امریکہ کے بغیر اسرائیل نہ ہوتا۔ میرے بغیر اسرائیل نہ ہوتا کیونکہ کوئی دوسرا صدر وہ کام کرنے کو تیار نہیں تھا جو میں نے کیا۔‘‘یہ باہمی کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ جمعہ کو جنیوا میں طے شدہ دستخطی تقریب سے قبل تہران کے ساتھ ایک تاریخی امن معاہدہ حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو کھل کر للکارا ہے، ان کے فیصلے کوپاگل پن قرار دیا ہے اور لبنان میں حالیہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر تنقید کی ہے جن سے واشنگٹن-تہران مذاکرات کو خطرہ لاحق تھا۔ٹرمپ نے خبردار کیا، آپ کو ہر بار جب کسی ایک شخص کو ہدف بنانا ہو تو ایک پوری عمارت کو گرانے کی ضرورت نہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکی ویزا مشکلات کے باعث ایتامار بن گویر کا اہل خانہ کے ساتھ دورہ منسوخ
اپریل۲۰۲۵ء میں تصدیق شدہ، ہکابی، جو ایک بپٹسٹ مسیحی مبلغ اور سابق آرکنساس گورنر ہیں، کو مسلسل اس بات پر تنقید کا سامنا ہے کہ وہ امریکی مفادات پر اسرائیلی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ صحافی ٹکر کارلسن کے ساتھ ایک معروف قدامت پسند انٹرویو میں، سفیر نے بار بار دائیں بازو کے اسرائیلی نکات کو دہرایا، مقبوضہ مغربی کنارے کو بیان کرنے کے لیے ’’یہودیہ اور سامریہ‘‘کی اصطلاحات استعمال کیں اور اسرائیل کے توسیعی علاقائی عزائم کی توثیق کی۔سفیر نے اسرائیلی فوجی جارحیت کا دفاع کرنے کے لیے اپنے ہی ملک کی مسلح افواج پر براہِ راست حملہ بھی کیا۔جب شہری ہلاکتوں پر سوال اٹھایا گیا تو ہکابی نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج عراق اور افغانستان کی جنگوں کے دوران امریکی فوج کے مقابلے میں شہری جانوں کے تحفظ میں زیادہ محتاط ہے۔مزید برآں، ہکابی نے جوناتھن پولارڈ سے اپنی ملاقاتوں کا دفاع کیا، جو ایک امریکی انٹیلیجنس تجزیہ کار تھا جسے اسرائیل کی طرف سے امریکہ کے خلاف جاسوسی کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔