Inquilab Logo Happiest Places to Work

دبئی: آبادی ۴۵؍ لاکھ ۸۰؍ ہزار سے تجاوز، ۱۴۴؍ سال قبل ۱۲؍ ہزار تھی

Updated: July 31, 2026, 9:33 PM IST | Dubai

دبئی کی رہائشی آبادی پہلی بار ۴۵؍ لاکھ ۸۰؍ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جو امارت کی تاریخ میں سالانہ اضافے کی تیز ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔ حکام نے ’’دبئی پاپولیشن ناؤ‘‘ کے نام سے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ریئل ٹائم آبادی نگرانی کا نظام بھی متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے آبادی میں ہونے والی تبدیلیوں کو مسلسل ریکارڈ کیا جائے گا تاکہ شہری منصوبہ بندی، ٹرانسپورٹ، صحت، تعلیم اور دیگر عوامی خدمات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دبئی نے آبادی کے حوالے سے ایک نیا سنگِ میل عبور کرتے ہوئے ۴۵؍ ہزار ۸۰؍ ہزار باشندوں کی تعداد حاصل کر لی ہے۔ حکام کے مطابق یہ امارت کی تاریخ میں سالانہ آبادی میں ہونے والے تیز ترین اضافوں میں سے ایک ہے۔ اس کے ساتھ ہی دبئی حکومت نے مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والا ’’دبئی پاپولیشن ناؤ‘‘ نامی ریئل ٹائم آبادی نگرانی کا نظام بھی متعارف کرایا ہے، جو روایتی مردم شماری کی جگہ مسلسل اپ ڈیٹ ہونے والے ڈجیٹل نظام کے طور پر کام کرے گا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۵ء کے اختتام تک دبئی کی مستقل رہائشی آبادی ۵۸۰ء۴؍  ملین تک پہنچ گئی، جو ایک سال پہلے ۲۴۸ء۴؍ ملین تھی۔ اس طرح صرف ایک سال میں تقریباً ۳؍ لاکھ ۳۲؍ ہزار نئے رہائشی دبئی میں شامل ہوئے، جبکہ سالانہ آبادی میں اضافے کی شرح ۵ء۷؍ فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعداد و شمار روایتی مردم شماری کے بجائے سرکاری ریکارڈ، ڈجیٹل حکومتی نظام اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مرتب کیے گئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ سفارتکاری کے حق میں تو یاہو کا جنگ پر زور

رپورٹ کے مطابق دبئی میں صرف مستقل رہائشی ہی نہیں بلکہ روزانہ بڑی تعداد میں سیاح، ملازمین، طلبہ اور خریدار بھی آتے ہیں۔ اسی وجہ سے دن کے اوقات میں امارت میں موجود افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر ۶۳؍ لاکھ ۹۲؍ ہزار تک پہنچ جاتی ہے، جن میں تقریباً ۱۸؍ لاکھ ۱۲؍ ہزار ایسے افراد شامل ہوتے ہیں جو مستقل رہائشی نہیں ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ سڑکوں، پبلک ٹرانسپورٹ، صحت، بجلی، پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہ نیا نظام دبئی کے ولی عہد، نائب وزیراعظم، وزیر دفاع اور دبئی ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم کی منظوری سے شروع کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد حکومت کو حقیقی وقت میں آبادی سے متعلق مستند معلومات فراہم کرنا ہے تاکہ شہری منصوبہ بندی اور پالیسی سازی زیادہ مؤثر انداز میں کی جا سکے۔ 
دبئی ڈجیٹل کے ڈائریکٹر جنرل حمد عبید المنصوری نے کہا کہ ’’یہ منصوبہ دبئی کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت جدید ٹیکنالوجی اور قابلِ اعتماد ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے مربوط ڈجیٹل نظام قائم کیا جا رہا ہے، تاکہ حکومتی ادارے زیادہ درست پالیسیاں بنا سکیں، پیشگی خدمات فراہم کریں اور مستقبل کی ضروریات کے لیے بہتر منصوبہ بندی کر سکیں۔‘‘ دبئی ڈیٹا اینڈ اسٹیٹسٹکس اسٹیبلشمنٹ کے چیف ایگزیکٹو یونس النصر کے مطابق آبادی میں تیزی سے اضافہ دبئی کی مضبوط معیشت اور عالمی کشش کا مظہر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ۲۰۲۵ء میں دبئی کی معیشت ۴ء۵؍  فیصد کی شرح سے ترقی کی، شہر نے ایک کروڑ ۹۶؍ لاکھ بین الاقوامی سیاحوں کا استقبال کیا، جبکہ دبئی ایئرپورٹس سے گزرنے والے مسافروں کی تعداد ۹؍ کروڑ ۶۰؍ لاکھ تک پہنچ گئی۔ ان کے مطابق یہ تمام عوامل دبئی میں روزگار، سرمایہ کاری اور معیارِ زندگی میں بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: میانمار دوطرفہ مذاکرات کے بعد ۵۰۰۰؍ روہنگیا ؤں کو واپس لینے پرآمادہ: ملائشیا کے وزیراعظم

حکام کے مطابق نئی آبادی نگرانی کا نظام مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور پیش گوئی پر مبنی تجزیاتی ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے، جس کے ذریعے مستقبل کی آبادی، رہائش، تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور دیگر شہری خدمات کی ضروریات کا بھی اندازہ لگایا جا سکے گا۔ اس نظام کے ذریعے ریئل ٹائم پاپولیشن کلاک بھی چلائی جائے گی تاکہ فیصلہ ساز ہر وقت آبادی میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھ سکیں۔ رپورٹ کے مطابق دبئی گزشتہ ۱۴۴؍ برسوں میں آبادی کے لحاظ سے غیر معمولی ترقی کر چکا ہے۔ ۱۸۸۱ء میں شہر کی آبادی ۱۲؍ ہزار سے بھی کم تھی، جبکہ اب یہ بڑھ کر ۴۵؍ لاکھ ۸۰؍ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جدید انفراسٹرکچر، کاروبار دوست پالیسیاں، عالمی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی ٹیلنٹ کو متوجہ کرنے کی صلاحیت نے دبئی کو ترقی یافتہ معیشتوں میں تیزی سے بڑھنے والے شہروں میں شامل کر دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK