Inquilab Logo Happiest Places to Work

میانمار دوطرفہ مذاکرات کے بعد ۵۰۰۰؍ روہنگیا ؤں کو واپس لینے پرآمادہ: ملائشیا کے وزیراعظم

Updated: July 30, 2026, 10:12 PM IST | Kuala Lumpur

ملائشیا کے وزیر اعظم انوار ابراہیم نے ایک بیان میں کہا کہ میانمار دوطرفہ مذاکرات کے بعد ۵۰۰۰؍ روہنگیا ؤں کو واپس لینے پر آمادہ ہوگیا ہے، جو اس وقت ملائشیا میں پناہ گزین ہیں، انہوں نے اس معاہدے کو ان پناہ گزینوںکے مسائل کے حل کی جانب پہلا قدم قرار دیا۔

Malaysian Prime Minister Anwar Ibrahim۔ Photo: INN.
ملائشیا کے وزیر اعظم انوار ابراہیم۔ تصویر: آئی این این۔

ملائشیا کے وزیر اعظم انوار ابراہیم نے ایک بیان میں کہا کہ میانمار دوطرفہ مذاکرات کے بعد ۵۰۰۰؍ روہنگیا ؤں کو واپس لینے پر آمادہ ہوگیا ہے، جو اس وقت ملائشیا میں پناہ گزین ہیں۔مقامی میڈیا فری ملائیشیا ٹوڈے کے مطابق، انور ابراہیم نے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے اس معاہدے کو روہنگیا پناہ گزینوں کے دیرینہ مسئلے کے حل اور ملائیشیا میں عوامی نظم و نسق برقرار رکھنے کی جانب پہلا قدم قرار دیا۔انہوں نے کہا، ’’لوگ کہتے ہیں `انہیں واپس بھیجو، انہیں واپس بھیجو۔ لیکن واپس کہاں بھیجیں؟ میانمار انہیں لینے کو تیار نہیں تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اسی لیے میانمار کے ساتھ اچھے تعلقات اہم ہیں۔ اب انہوں نے پہلے ۵۰۰۰؍ ا فراد کو لینے پر اتفاق کر لیا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان نے اسرائیل کو اسلحے کے ۲۵۹۶ کھیپ بھیجے: ایمنسٹی انٹرنیشنل؛ غزہ نسل کشی میں معاونت کا انتباہ

واضح رہے کہ ملائیشیا میں خطے کی سب سے بڑی روہنگیا پناہ گزین آبادی موجود ہے، جن میں سے اکثر میانمار کی ریاست راخائن میں ہونے والے ظلم و ستم سے فرار ہوئے تھے۔ مزید برآں انور ابراہیم  نے یہ بھی کہا کہ میانمار نے بنگلہ دیش میں موجود تقریباً۳؍ لاکھ روہنگیا پناہ گزینوں کی واپسی پر بھی اتفاق کیا ہے، تاہم انہوں نے وطن واپسی کی کوئی مخصوص مدت نہیں بتائی۔یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب چند روز قبل۱۰۰؍ سے زائد روہنگیا نے شمالی ریاست پینانگ میں واقع ایک بستی چھوڑ کر کوالالمپور میں اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: میانمار: آن لائن فراڈ کے خلاف سخت ترین قانون منظور، سنگین جرائم پر سزائے موت

دریں اثناء ملائشیا کےحکام نے اس گروپ کو کوالالمپور، سیلنگور اور پینانگ میں عارضی مقامات پر منتقل کر دیا۔ جبکہ انور نے کہا کہ ملائیشیا علاقائی پناہ گزین بحران کے طویل مدتی حل کے لیے میانمار کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا۔ یاد رہے کہ روہنگیا، جو میانمار میں ایک اکثریتی مسلم اقلیت ہے، امتیازی سلوک، ظلم و ستم اور بے وطنی کا شکار ہے اور مشکلات سے بچنے کے لیے اکثر خطرناک سمندری راستوں سے فرار کی کوشش کرتی ہے۔ جبکہ۲۰۱۷ء سے اب تک لاکھوں روہنگیا میانمار سے فرار ہو چکے ہیں کیونکہ فوج اور مسلح گروہوں کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں۱۳؍ لاکھ سے زائد روہنگیا نے بنگلہ دیش میں پناہ لی ہے، جبکہ کچھ خطرناک سمندری سفر کے بعد انڈونیشیا اور ملائیشیا پہنچے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK