Updated: October 26, 2026, 10:01 PM IST
| Dubai
کانگو سے لائے گئے ۱۱۳۸؍ قیراط کے خام ہیرے کو ۲۰۲۲ء سے ۲۰۲۴ء کے درمیان تراش کر ’’انفینٹی‘‘ کی شکل دی گئی؛ بلجیم کی کمپنی ڈائمنڈ ٹریڈنگ این وی نے اسے دبئی ڈائمنڈ کانفرنس میں پیش کیا، امریکی ادارے جی آئی اے نے ۲۰۱۳ء میں خام پتھر کو اپنی جانچ اور رپورٹنگ کی تاریخ کا سب سے بڑا قدرتی سنگل کرسٹل ہیرا قرار دیا تھا۔
متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں دنیا کے نایاب قدرتی ہیروں میں شمار ہونے والا ۸۸ء۸۸۸؍ قیراط کا سیاہ ہیرا پہلی بار نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ ’’انفینٹی‘‘ نامی اس ہیرے کو بلجیم کی کمپنی ڈائمنڈ ٹریڈنگ این وی نے دبئی ڈائمنڈ کانفرنس کے دوران متعارف کرایا، جس کا انعقاد دبئی ملٹی کموڈیٹیز سینٹر (ڈی ایم سی سی) کر رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ہیرا جمہوریہ کانگو سے حاصل کیے گئے ۱۱۳۸؍ قیراط کے خام پتھر سے تیار کیا گیا ہے۔ اس خام ہیرے کو ۱۹۷۵ء میں اینڈریو کاکسَن نے ڈی بیئرز کی جانب سے حاصل کیا تھا۔ تقریباً نصف صدی کے اس سفر میں خام پتھر کی جانچ، اسے تراشنے کی منصوبہ بندی اور پھر کئی ماہ تک جاری رہنے والا فنی عمل شامل رہا۔ اس ہیرے کی تاریخ میں ایک اہم مرحلہ ۲۰۱۳ء میں آیا، جب جیمولوجیکل انسٹی ٹیوٹ آف امریکہ (جی آئی اے) نے خام پتھر کا معائنہ کیا۔ ادارے نے اسے اس وقت تک اپنی جانچ اور رپورٹنگ میں شامل ہونے والا سب سے بڑا قدرتی سنگل کرسٹل ہیرا قرار دیا تھا۔ اس کے بعد ہیرے کو تراشنے اور پالش کرنے کا کام ۲۰۲۲ء سے ۲۰۲۴ء کے درمیان مکمل ہوا اور اس کا حتمی وزن ۸۸ء۸۸۸؍ قیراط رہا۔ خام پتھر کے مقابلے میں اس کے وزن میں کمی تراشنے کے عمل کا قدرتی نتیجہ ہے، جس میں ہیرے کی ساخت، سطح اور حتمی شکل کو سامنے رکھتے ہوئے مواد ہٹایا جاتا ہے۔ ڈائمنڈ ٹریڈنگ این وی کے مطابق اسے اس غیر معمولی پتھر کی قدرتی ساخت کو برقرار رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک کے پارک میں ۸۹؍ ہزار ڈالر کا اے آئی روبوٹ، انسانوں سے میل جول کی تربیت
کمپنی کے ڈینیئل ڈی بیلڈر نے نمائش کے دوران ہیرے کی ساخت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’یہ ایک سیاہ ہیرا ہے۔ اس میں ان آتش فشانی عمل کے آثار موجود ہیں، جب یہ زمین کی سطح سے تقریباً ۱۵۰؍ کلومیٹر گہرائی سے اوپر آیا تھا۔‘‘ ان کے مطابق ہیرے کو تراشنے کا طریقہ اس کی قدرتی ساخت کے مطابق ترتیب دیا گیا، نہ کہ اس کے اندر موجود قدرتی نشانات کو مکمل طور پر مٹانے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ زمین کی گہرائی سے سطح تک آنے کے اس تیز اور غیر معمولی عمل کے آثار ہیرے کی شناخت کا حصہ ہیں۔ ’’انفینٹی‘‘ کو تیار کرنے کا کام صرف ہیرے کو تراشنے تک محدود نہیں تھا۔ اتنے بڑے اور غیر معمولی خام پتھر پر کام کرنے کے لیے اس کی ساخت، قدرتی دراڑوں اور ممکنہ کٹائی کے زاویوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری تھا۔ سیاہ ہیروں میں اکثر گریفائٹ اور دیگر معدنی مادوں کی شمولیت اور اندرونی دراڑیں ان کا رنگ گہرا بناتی ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں تراشنے اور پالش کرنے کے لیے خاص مہارت درکار ہوتی ہے۔ جی آئی اے کے مطابق قدرتی سیاہ ہیرے عموماً اپنی اندرونی شمولیتوں کی وجہ سے مبہم ہوتے ہیں، اور ان کی قدر کا تعین صرف قیراط کے وزن سے نہیں بلکہ رنگ کی یکسانیت، کٹائی کے معیار اور قدرتی یا مصنوعی رنگ کی تصدیق جیسے عوامل سے بھی ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: انتخابات سے قبل ایران کے خلاف کارروائی پر نیتن یاہو اور فوجی سربراہ میں اختلاف
دبئی میں اس ہیرے کی نمائش ایسے وقت ہوئی ہے جب شہر عالمی ہیروں کی تجارت میں اپنا کردار بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ڈی ایم سی سی کے مطابق دبئی ڈائمنڈ ویک ۲۶؍ سے ۲۹؍ اکتوبر تک جاری رہے گا۔ اس میں دبئی ڈائمنڈ کانفرنس کے ساتھ زیورات، قیمتی پتھروں اور متعلقہ ٹیکنالوجی کی نمائش بھی شامل ہے۔ کانفرنس میں کان کنی، تیاری، تجارت، زیورات کی صنعت، مالیاتی خدمات اور ٹیکنالوجی سے وابستہ عالمی اداروں کے نمائندے شریک ہیں۔ ڈی ایم سی سی نے بتایا ہے کہ دبئی کی ہیروں کی تجارت کا حجم ۷ء۴۱؍ ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جس سے شہر کی عالمی تجارتی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس ہیرے کی قیمت کے بارے میں رپورٹوں میں فرق موجود ہے۔ خلیج نیوز کی رپورٹ میں کمپنی کی جانب سے کوئی واضح قیمت یا فروخت کی پیش کش ظاہر نہیں کی گئی، جبکہ عربی اخبار ’’الخلیج‘‘ نے اس کی تخمینی قیمت ۷۲؍ لاکھ ڈالر سے زیادہ بتائی ہے۔ اس لیے ۷۲؍ لاکھ ڈالر کو باضابطہ فروختی قیمت یا کمپنی کی تصدیق شدہ قیمت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ کمپنی نے فی الحال اسے ایک نایاب قدرتی پتھر اور فنی مہارت کے غیر معمولی نمونے کے طور پر پیش کیا ہے۔