Inquilab Logo Happiest Places to Work

مشرق وسطیٰ تنازع عالمی ترقی کو کورونا کے بعد کی نچلی سطح پر لے آئےگا: ورلڈ بینک

Updated: June 12, 2026, 4:10 PM IST | Washington

ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا تنازع عالمی ترقی کو کورونا وباء کے بعدکی نچلی سطح پر لے آئےگا، اس کی بڑی وجوہات میں توانائی کی بلند قیمتیں، مہنگائی میں اضافہ، اور قرضے لینے کی لاگت میں اضافہ شامل ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

عالمی بینک گروپ نے جمعرات کو کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع عالمی اقتصادی ترقی کو کووِڈ۱۹؍ وبا کے آغاز کے بعد کی سب کم شرح پر لے جانے کا امکان ہے۔اپنی تازہ ترین رپورٹ ،’’عالمی اقتصادی امکانات،‘‘ میں بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ عالمی ترقی ۲۰۲۶ء میں کم ہو کر۲؍ اعشاریہ ۵؍ فیصد رہ جائے گی، جبکہ۲۰۲۵ء میں یہ۲؍ اعشاریہ  ۹؍ فیصد تھی۔ اس کی بڑی وجوہات میں توانائی کی بلند قیمتیں، مہنگائی میں اضافہ، اور قرضے لینے کی لاگت میں اضافہ شامل ہیں۔بینک نے کہا کہ جنوری کے مقابلے میں دو تہائی معیشتوں کے امکانات کو کم کر دیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ عالمی ترقی ۲۰۲۷ء میں بہتر ہو کر۲؍ اعشاریہ ۸؍ فیصد ہو جائے گی، لیکن یہ۲۰۱۰ء کی دہائی کی اوسط سےصفر اعشاریہ ۴؍ فیصد کم رہے گی۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے عہدیدار ایپسٹین تنازع پر اندرونی گھبراہٹ کا شکار: نئی کتاب میں انکشاف

رپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز کی بندش نے توانائی کی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت۲۰۲۶ء میں۹۴؍ ڈالر فی بیرل ہوگی، جو ۲۰۲۵ء کی سطح سے ۳۶؍ فیصد زیادہ ہے۔ یہ صورت حال اس مفروضے پر مبنی ہے کہ شدید ترین رکاوٹیں جولائی تک کم ہو جائیں گی۔اس کے علاوہ اس سال کھادوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافے کی توقع ہے، جس کا براہِ راست اثر خوراک کی قیمتوں پر پڑے گا۔ ان دباؤ سے عالمی مہنگائی۲۰۲۵ء میں۳؍ اعشاریہ ۳؍ فیصد سے بڑھ کر۲۰۲۶ء میں ۴؍ اعشاریہ صفر فیصد ہونے کا امکان ہے۔تاہم عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ معیشت کے لیے خطرات اب بھی زیادہ ہیں۔ اگر توانائی کی فراہمی میں رکاوٹیں مزید بڑھ جائیں اور ان کے ساتھ شدید مالی دباؤ بھی ہو، تو عالمی ترقی۲۰۲۶ء میں گر کرایک فیصد رہ سکتی ہے، جبکہ مہنگائی بڑھ کر۴؍ اعشاریہ صفر فیصد تک جا سکتی ہے۔ترقی پذیر معیشتوں میں شرح نمو۲۰۲۵ء میں۴؍ اعشاریہ ۴؍ فیصد سے کم ہو کر۲۰۲۶ء میں وبا کے بعد کی کم ترین سطح۳؍ اعشاریہ ۶؍ فیصد پر آجانے کا اندازہ ہے، تاہم۲۰۲۷ء میں یہ بہتر ہو کر۴؍ اعشاریہ  ۲؍ فیصد ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہند نژاد عرب پتی کا امارات سڑک حادثہ متاثرین کیلئے دو کروڑ کی امداد کا اعلان

بعد ازاں خلیجی ممالک کی معیشتیں، جو تنازع سے براہِ راست متاثر ہوئی ہیں، سب سے زیادہ سست روی کا شکار ہونے کی توقع ہے۔ وہاں شرح نمو۲۰۲۵ء میں۳؍ اعشاریہ ۹؍ فیصد سے گر کر۲۰۲۶ء میں قریب صفر پر آ سکتی ہے۔ تاہم، تجارت بحال ہونے اور تعمیر نو کے اخراجات شروع ہونے کے بعد  ۲۰۲۷ء- ۲۸ءمیں یہ ترقی بڑھ کر تقریباً۵؍ فیصد ہو سکتی ہے۔عالمی بینک گروپ نے کہا ہے کہ وہ تنازع کے نتیجے میں اپنے موجودہ آلات کے ذریعے فوری طور پر۵۰؍ سے۶۰؍ بلین ڈالر تک کی امداد فراہم کر رہا ہے، جس میں۲۵؍ بلین ڈالر کی پہلے سے طے شدہ مالی معاونت شامل ہے۔بینک نے کہا کہ یہ امداد سماجی تحفظ کے جال، مالی گنجائش، کام کا سرمایہ، اور کاروباروں اور کسانوں کے لیے لیکویڈٹی سپورٹ کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔مزید یہ کہ۳۰؍ سے زائد ممالک عالمی بینک گروپ کے ساتھ فعال طور پر کام کر رہے ہیں تاکہ بحران سے نمٹنے کی تیاری کو بہتر بنایا جا سکے۔
مزید برآں بینک نے کہا کہ اگر تنازع اور اس کے معاشی اثرات برقرار رہے تو وہ ۱۵؍ ماہ کے دوران امداد بڑھا کر۸۰؍ سے۱۰۰؍ بلین ڈالر تک کر سکتا ہے۔علاقائی اعتبار سے، جنوبی ایشیا میں ۲۰۲۶ء میں شرح نمو سب سے زیادہ رہنے کی توقع ہے، اگرچہ یہ ۲۰۲۵ء میں۷؍ اعشاریہ صفر فیصد سے کم ہو کر۶؍ اعشاریہ ۳؍ فیصد رہ جائے گی۔
اس کے علاوہ سب صحارا افریقہ میں ترقی ۲۰۲۶ء میں معمولی کمی کے ساتھ۴؍ اعشاریہ صفر فیصد رہنے کی توقع ہے، پھر ۲۰۲۷ء میں بڑھ کر۴؍ اعشاریہ ۴؍ فیصد ہو جائے گی۔ یہاں دباؤ بنیادی طور پر مہنگائی اور کھادوں کی قلت سے منسلک اعلی خوراک کی قیمتوں کی وجہ سے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: تعمیرِ نوکیلئے ۴۹؍ ارب ڈالر درکار، جنگ سے ۵۸؍ ارب ڈالر سے زائد کا نقصان

جبکہ مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل میں شرح نمو ۲۰۲۶ء میں۴؍ اعشاریہ۲؍  فیصد اور ۲۰۲۷ء میں۴؍ اعشاریہ ۴؍ فیصد رہنے کا امکان ہے۔ یورپ اور وسطی ایشیا میں ترقی ۲۰۲۶ء میں کم ہو کر۲؍ اعشاریہ ایک  فیصد اور ۲۰۲۷ء میں معمولی بہتری کے ساتھ۲؍اعشاریہ ۳؍ فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔اس کے علاوہ لاطینی امریکہ اور کیریبین میں ۲۰۲۶ء میں۲؍اعشاریہ ۲؍ فیصد اور ۲۰۲۷ء میں۲؍اعشاریہ ۵؍ فیصد ترقی متوقع ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے خطے میں شرح نمو ۲۰۲۶ء میں کم ہو کر ایک اعشاریہ ۶؍  فیصد رہ جائے گی اور ۲۰۲۷ء میں بحال ہو کر۵؍ اعشاریہ  صفر فیصد ہو جائے گی۔
بعد ازاں رپورٹ میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی قرضوں کی سطح ترقی پذیر معیشتوں کے لیے بحران کا جواب دینا اور طویل المدتی ترقی کے اہداف میں سرمایہ کاری کرنا مشکل بنا رہی ہے۔بینک نے کہا کہ۲۰۱۰ء کے بعد سے ترقی پذیر معیشتوں میں مجموعی سرکاری قرض مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے۴۰؍ فیصد سے کم سے بڑھ کر۷۰؍ فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK