• Thu, 22 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مشرقی یروشلم میں یو این عمارتوں کی مسماری، اقوام متحدہ کی سخت مذمت

Updated: January 21, 2026, 10:03 PM IST | Jerusalem

اقوام متحدہ نے مشرقی یروشلم میں اسرائیلی فورسیز کی جانب سے یو این آر ڈبلیو اے کی عمارتوں کی مسماری کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر کارروائی روکنے اور املاک کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اقوام متحدہ نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں اسرائیلی فورسیز کی جانب سے اقوام متحدہ سے وابستہ عمارتوں کی مسماری پر شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے اس اقدام کو ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی املاک اور استثنیٰ سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی فورسیز نے مشرقی یروشلم کے ایک علاقے میں یو این آر ڈبلیو اے سے وابستہ متعدد عمارتوں کو بلڈوز کر دیا۔ رپورٹس کے مطابق اس کارروائی کی قیادت اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر نے کی، جو خود موقع پر موجود رہے اور اسرائیلی فورسیز کے ساتھ انہدامی عمل کی نگرانی کرتے رہے۔ اقوام متحدہ کے بیان میں کہا گیا کہ یو این آر ڈبلیو اے کی عمارتیں اقوام متحدہ کی ملکیت ہیں اور انہیں خصوصی قانونی تحفظ حاصل ہے۔ سیکریٹری جنرل نے واضح کیا کہ کسی بھی رکن ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ یو این کی املاک کو یکطرفہ طور پر مسمار کرے یا ان میں مداخلت کرے۔ انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ نہ صرف انہدامی کارروائیاں فوری طور پر روکی جائیں بلکہ مسمار شدہ ڈھانچوں کو بحال بھی کیا جائے۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ بندی کے ۱۰۰؍ دن: امدادی کارروائیوں میں اب بھی اسرائیلی رکاوٹیں: یو این

یو این آر ڈبلیو اے کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا کہ یہ کارروائی صرف عمارتوں پر حملہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے پورے امدادی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق یو این آر ڈبلیو اے لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کو تعلیم، صحت، خوراک اور بنیادی خدمات فراہم کرتا ہے، اور اس طرح کی کارروائیاں براہِ راست انسانی بحران کو مزید گہرا کریں گی۔ اسرائیلی حکام نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ عمارتیں ’’غیر قانونی تعمیر‘‘ کے زمرے میں آتی تھیں اور قومی سلامتی کے خدشات کے باعث کارروائی ضروری تھی۔ اسرائیل کی جانب سے یو این آر ڈبلیو اے پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے کہ اس کے کچھ ملازمین کا تعلق عسکری گروہوں سے رہا ہے، تاہم اقوام متحدہ اور آزاد تحقیقات میں ان الزامات کو اجتماعی بنیاد پر درست قرار نہیں دیا گیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب غزہ جنگ اور مغربی کنارے میں کشیدگی پہلے ہی اپنے عروج پر ہے۔ مشرقی یروشلم میں یو این سے وابستہ عمارتوں کی مسماری کو فلسطینیوں کے خلاف دباؤ کی ایک نئی کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ اقوام متحدہ کے ساتھ سفارتی تعلقات کے بنیادی اصولوں کو بھی مجروح کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی وزیر اسموٹریچ نے ٹرمپ کا ’’غزہ منصوبہ‘‘ مسترد کردیا

بین الاقوامی سطح پر اس کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ متعدد ممالک اور عالمی اداروں نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ تعاون کرے اور امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ ڈالے۔ ماہرین کے مطابق اگر یو این آر ڈبلیو اے کو مشرقی یروشلم اور دیگر علاقوں میں کام کرنے سے روکا گیا تو اس کا سب سے بڑا نقصان عام فلسطینی شہریوں کو ہوگا۔ اقوام متحدہ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو معاملہ مزید بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا جا سکتا ہے۔ سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ تنازع کے حل کا راستہ طاقت کے استعمال یا اداروں کی مسماری نہیں بلکہ سیاسی مکالمہ اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری ہے۔ مجموعی طور پر مشرقی یروشلم میں یو این آر ڈبلیو اے کی عمارتوں کی مسماری ایک علامتی نہیں بلکہ انتہائی سنجیدہ پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جو اسرائیل اور اقوام متحدہ کے تعلقات، فلسطینی عوام کی حالتِ زار اور خطے میں جاری تنازع کی سمت پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK