اسرائیلی وزیر اسموٹریچ نے ٹرمپ کا ’’غزہ منصوبہ‘‘ مسترد کردیا، اس کا مطالبہ ہے کہ مصر اور برطانیہ جیسے ممالک کو اس منصوبے سے نکال دیا جائے۔
EPAPER
Updated: January 20, 2026, 5:06 PM IST | Tel Aviv
اسرائیلی وزیر اسموٹریچ نے ٹرمپ کا ’’غزہ منصوبہ‘‘ مسترد کردیا، اس کا مطالبہ ہے کہ مصر اور برطانیہ جیسے ممالک کو اس منصوبے سے نکال دیا جائے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ اسموٹریچ نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے،ساتھ ہی جس میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور اس خطے میں اسرائیلی آبادیاں قائم کرنے پر زور دیا ہے۔بیزلیل اسموٹریچ نے پیر کو غزہ میں امریکی قیادت میں ہم آہنگی کے مرکز کو بند کرنے اور مصر اور برطانیہ جیسے جارج ممالک کو اس سے ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا۔ اسموٹریچ کے مطابق، غزہ ہمارا ہے اور اس کا مستقبل ہمارے مستقبل کو کسی اور کے مقابلے میں زیادہ متاثر کرے گا۔ اس نے اصرار کیا کہ اسرائیل کو فوجی حکومت نافذ کرنی چاہیے، جو قبضے کے برابر ہے، اورمشن کو مکمل کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: کابل کے ہائی سیکوریٹی زون میں دھماکہ، کم از کم ۷؍ افرادجاں بحق
دریں اثنء اسموٹریچ کا کہنا ہے کہ ، ’’ہمیں اسے (ٹرمپ) یہ سمجھانا چاہیے کہ اس کا پلان اسرائیل کی ریاست کے لیے برا ہے اور اسے منسوخ کرنا چاہیے۔ بعد ازاں اسموٹریچ نے مصر اور برطانیہ کو نشانہ بناتے ہوئے جنوبی اسرائیلی آبادی کریات گٹ میں واقع سویلین-فوجی ہم آہنگی کے مرکز کو بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے جو ٹرمپ کے پلان کے نفاذ کی نگرانی کرتا ہے۔خبروں کے مطابق، اسموٹریچ نے ’’کمانڈ سینٹر‘‘ سے مصر اور برطانیہ، کو خارج کرنے کا مطالبہ کیا۔واضح رہے کہ یہ مرکز اکتوبر میں امریکی سنٹرل کمانڈ نے قائم کیا تھا اور اس میں درجنوں ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے شامل ہیں۔
مزید یہ کہ اسموٹریچ نے رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کا بھی مطالبہ کیا، جس پر اسرائیل کا کنٹرول ہے، اور غزہ کے فلسطینیوں کو کہیں اور جانے اور مستقبل تلاش کرنے کا شرانگیز مطالبہ کیا۔ یہ یاد رہے کہ اسموٹریچ ، نیتن یاہو حکومت کا اتحادی ہے، اور نتین یاہو پر فلسطینیوں کے خلاف مزید سخت اقدامات کا مطالبہ کرتا رہتا ہے، اس سے قبل بھی وہ تمام فلسطینوں کو قتل کرنے کی بھی وکالت کرچکا ہے، وہ ٹرمپ نے غزہ امن منصوبے کا سخت مخالف ہے، اور امن معاہدے کے بیشتر شرائط کو ماننے سے انکار کرچکا ہے۔