• Sat, 10 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ای ڈی کی ۴۰؍ سے زائد سرکاری محکموں میں جعلی بھرتی معاملے پر کارروائی

Updated: January 08, 2026, 10:02 PM IST | New Delhi

ای ڈی نے ۴۰؍ سے زائد سرکاری محکموں میں جعلی بھرتی معاملے پر کارروائی کی ہے، کارروائی کا آغازریلوے بھرتی بد عنوانی سے ہوا تاہم تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ یہ دھوکہ دہی کا کاروبار ریلوے سے کہیں زیادہ وسیع تھا، جس میں۴۰؍ سے زیادہ سرکاری ادارے اور محکمے شامل تھے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بڑے پیمانے پر جعلی سرکاری نوکریوں کے اسکینڈل کی تحقیقات تیز کر دی ہیں اور کئی ریاستوں میں تقریباً۱۵؍ مقامات پر تلاشی آپریشن کیے گئے ہیں۔ جن میں بہار کے مظفرپور اور موتیہاری؛ مغربی بنگال کے کولکاتا، کیرلا کے ایرناکولم، پنڈلم، ادور اور کوڈور، تمل ناڈو کے چنئی، گجرات کے راجکوٹ؛ اور اتر پردیش کے گورکھپور، پریاگراج اور لکھنؤ شامل ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: بہار: زیورات کی دکانوں میں ڈھکے چہروں پر پابندی، سیاسی تنازع

عہدے داروں کے مطابق، یہ اسکینڈل پہلی بار ہندوستانی ریلوے کی بھرتی کے نام پر سامنے آیا۔ تاہم، تفتیش آگے بڑھنے پر یہ بات واضح ہوئی کہ یہ دھوکہ دہی کا کاروبار محکمہ ریلوے سے کہیں زیادہ وسیع تھا، جس میں۴۰؍ سے زیادہ سرکاری ادارے اور محکمے شامل تھے۔ان میںمحکمہ جنگلات،  انڈین پوسٹ، انکم ٹیکس محکمہ، مختلف ہائی کورٹ، پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ، بہار حکومت، دہلی ڈویلپمنٹ اتھارٹی، اور راجستھان سیکرٹیریٹ شامل ہیں۔
تاہم اطلاعات کے مطابق، یہ ریکٹ ایک منظم گینگ کے ذریعے چلایا جا رہا تھا جس نے امیدواروں کو دھوکہ دینے کے لیے جدید طریقے استعمال کیے۔ملزمان نے سرکاری ڈومین کی نقل کرتے ہوئے جعلی ای میل اکاؤنٹ بنائے اور درخواست دہندگان کو جعلی تقرری خط جاری کیے۔

یہ بھی پڑھئے: آسام: ریاست سے بے دخلی کی مہم ، ۱۲۰۰؍ سے زیادہ بنگالی مسلمانوں کے گھر مسمار

بعد ازاں اسکینڈل کو قابل اعتبار بنانے کے لیے، کچھ بھرتی ہونے والے امیدواروں کو دو سے تین ماہ کی تنخواہیں تک ادا کی گئیں، اور انہیں ریلوے اور دیگر محکموں میں عہدوں پر فائز کیا گیا۔دریں اثناء اس حکمت عملی نے گینگ کو اعتماد قائم کرنے اور مزید شکار بنانے میں مدد دی۔ عہدے داروں کے مطابق یہ اسکینڈل انتہائی منظم تھا، جس میں متعدد ریاستوں کے مختلف محکموں کی شمولیت کا انکشاف ہوا ہے، جو الگ الگ واقعات کی بجائے ایک اچھی طرح سے منصوبہ بند نیٹ ورک کی نشاندہی کرتا ہے۔
 تاہم تفتیش کار اب گینگ کے مواصلات، مالی لین دین، اور بھرتی کے سلسلے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ حکام دیگر ممکنہ متاثرین پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس معاملے نے منظم دھوکہ دہی اور سرکاری بھرتی کے عمل کے کمزورہونے کی ایک بار پھر تصدیق کردی ہے، جس کے بعد اداروں نے تحفظ اور طریقہ کار  کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK