ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے ہندوستان اور پاکستان میں ایک دوسرے کے خبر رساں اداروں کی مسلسل بلاکنگ پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد اور بلا روک ٹوک معلوماتی رسائی خطے میں اعتماد، مکالمے اور امن کے لیے ناگزیر ہے۔
EPAPER
Updated: January 15, 2026, 10:11 PM IST | New Delhi
ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے ہندوستان اور پاکستان میں ایک دوسرے کے خبر رساں اداروں کی مسلسل بلاکنگ پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد اور بلا روک ٹوک معلوماتی رسائی خطے میں اعتماد، مکالمے اور امن کے لیے ناگزیر ہے۔
ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے بدھ کو ہندوستان اور پاکستان میں نیوز ویب سائٹس اور ڈجیٹل پلیٹ فارمز کی مسلسل بندش پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پریس باڈی کا کہنا ہے کہ خبروں اور معلومات تک آزاد رسائی، بالخصوص جنوبی ایشیا کے پڑوسی ممالک کے درمیان، خطے کے عوام اور اقوام کے درمیان اعتماد اور باہمی افہام و تفہیم قائم کرنے کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔ اپنے بیان میں ایڈیٹرز گلڈ نے کہا کہ خبروں، خیالات، مختلف نقطۂ نظر اور معلومات تک بلا روک ٹوک رسائی نہ صرف ایک باخبر شہری معاشرے کی تشکیل میں مدد دیتی ہے بلکہ تعمیری مکالمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ گلڈ کے مطابق میڈیا پر پابندیاں عوام کے حقِ معلومات کو محدود کرتی ہیں اور سرحد پار غلط فہمیوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سڑک کنارے پھینکی گئی نومولود بچی بیگ سے زندہ برآمد
یہ ردِعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ۲۰۲۵ء میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے متعدد نیوز آؤٹ لیٹس کو بلاک کر دیا۔ یہ کشیدگی ۲۲؍ اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد مزید شدت اختیار کر گئی تھی۔ہندوستان میں اپریل اور مئی کے دوران کم از کم ۱۲؍ پاکستانی نیوز ویب سائٹس کے بلاک کیے جانے کی تصدیق کی گئی، جن میں پاکستان کا معروف انگریزی روزنامہ ’’ڈان‘‘ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ حکومت ہند نے جیو نیوز، اے آر وائی نیوز اور اور دیگر سمیت مجموعی طور پر ۱۶؍ پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی عائد کی۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ اقدام ہندوستانی فوج اور کشمیر سے متعلق گمراہ کن مواد پھیلانے کے الزامات کے تحت اٹھایا گیا۔
جوابی اقدام کے طور پر پاکستان نے تقریباً ۸؍ مئی سے ہندوستانی میڈیا آؤٹ لیٹس تک رسائی محدود کر دی۔ اس دوران انڈیا ٹوڈے، ریپبلک ورلڈ، دی ہندو اور این ڈی ٹی وی سمیت کم از کم آٹھ ہندوستانی نیوز ویب سائٹس کے ناقابلِ رسائی ہونے کی تصدیق ہوئی۔ پاکستانی حکام نے ۳۲؍ ہندوستانی نیوز ویب سائٹس اور ۱۶؍ ہندوستانی یوٹیوب چینلز کو بھی بلاک کرنے کا اعلان کیا۔ ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے دونوں حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ میڈیا پر عائد پابندیوں پر نظرِ ثانی کریں اور خطے میں آزاد صحافت اور ذمہ دار معلوماتی تبادلے کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں۔