Updated: August 15, 2026, 10:14 PM IST
| Gaza
فلسطینی وزارتِ صحت کی جانب سے یہ انتباہ عالمی تنظیم ’ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ (ایم ایس ایف) کی جانب سے ۱۲ اگست کو دیئے گئے اس بیان کے چند دنوں بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی حکام اسپتالوں کے جنریٹرز، ایمبولینسز اور دیگر اہم سہولیات کو چلانے کیلئے درکار انجن آئل اور اسپیئر پارٹس کے داخلے پر پابندی جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے ہزاروں زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
غزہ میں امدادی سامان کے داخلے پر اسرائیلی پابندیاں بدستور عائد ہیں۔ تصویر: ایکس
فلسطینی وزارتِ صحت نے سنیچر کے روز متنبہ کیا کہ اسرائیلی ناکہ بندی کے درمیان، غزہ پٹی میں کل ۳۴ آکسیجن اسٹیشنوں میں سے کم از کم ۲۲ اسٹیشنز ناکارہ ہوچکے ہیں جنہیں اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے درست نہیں کیا جاسکا۔ وزارت نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیلی ناکہ بندی اور اسپیئر پارٹس کی شدید قلت کے باعث باقی ماندہ سہولیات کے بھی بند پڑ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: میٹا پر فلسطین حامی مواد کو منظم طریقے سے دبانے کا الزام : رپورٹ
وزارت نے مزید بتایا کہ فی الحال کام کر رہے ۱۲ آکسیجن اسٹیشنز ”انتہائی پیچیدہ تکنیکی اور مکینیکل حالات“ کے تحت چل رہے ہیں، جس سے میڈیکل سہولیات اور طبی خدمات فراہم کرنے والوں کی آکسیجن کی ضروریات کو پورا کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ اسٹیشنوں کی آپریشنل صلاحیت ”مکمل طور پر ختم“ ہو چکی ہے اور بار بار پیدا ہونے والی خرابیوں کے درمیان یہ سہولیات اپنی زیادہ سے زیادہ صلاحیت سے بھی آگے کام کر رہی ہیں۔
وزارت نے مزید بتایا کہ آکسیجن سلنڈر بھرنے کیلئے استعمال ہونے والے ۳۰ آلات میں سے صرف چار فعال ہیں۔ اس نے خبردار کیا کہ وہ کسی بھی لمحے بند ہو سکتے ہیں کیونکہ انجینئرنگ ٹیمیں ان کی ہنگامی دیکھ بھال کرنے سے قاصر ہیں۔ وزارت نے زور دے کر کہا کہ ”آکسیجن کی دستیابی کوئی طبی عیاشی یا لگژری نہیں ہے؛ یہ بہت سے اہم اور جان بچانے والے شعبوں کیلئے لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: فلم ’’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘‘ کے خلاف فلسطین حامی کارکنوں کی بائیکاٹ مہم
فلسطینی وزارتِ صحت نے متنبہ کیا کہ باقی ماندہ اسٹیشنز ”مکمل مفلوج پن“ کا سامنا کر رہے ہیں، جس سے اسپتالوں اور گھروں میں علاج کروانے والے مریضوں کیلئے آکسیجن کی سپلائی کو خطرہ لاحق ہے۔ وزارت نے نئے آکسیجن اسٹیشنوں کی فوری فراہمی کے ساتھ ساتھ اسپیئر پارٹس اور تکنیکی آلات لانے کیلئے ”فوری اور براہِ راست راستے کھولنے“ کا مطالبہ کیا۔
فلسطینی وزارتِ صحت کی جانب سے یہ انتباہ عالمی تنظیم ’ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ (ایم ایس ایف) کی جانب سے ۱۲ اگست کو دیئے گئے اس بیان کے چند دنوں بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی حکام اسپتالوں کے جنریٹرز، ایمبولینسز اور دیگر اہم سہولیات کو چلانے کیلئے درکار انجن آئل اور اسپیئر پارٹس کے داخلے پر پابندی جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے ہزاروں زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مارک رُفالو، ہاویئربارڈیم سمیت دیگر فنکاروں نے غزہ میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کی
اقوام متحدہ کے دفتر رابطہ برائے انسانی امور (اوچا) نے جمعہ کے روز اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا کہ کیرم شالوم (Kerem Shalom) کراسنگ غزہ میں سامان کے داخلے کا واحد فعال نقطہ بنا ہوا ہے، یہاں سے کئی ضروری اشیاء اور آلات کی اقسام کے غزہ میں داخلے میں اسرائیلی پابندیاں بدستور جاری ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے ۱۱ اگست کو شائع ہونے والے تازہ ترین اعداد و شمار، جن میں ۳۱ جولائی تک کی مدت کا احاطہ کیا گیا ہے، نے بھی غزہ کی طبی سہولیات میں صحت کے وسائل اور خدمات کی دستیابی میں بڑی کمیوں کو ظاہر کیا ہے۔