Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوشل میڈیا پر ۱۱؍ ہزار پوسٹس کے خلاف کارروائی، الیکشن کمیشن کا کریک ڈاؤن

Updated: April 20, 2026, 5:59 PM IST | New Delhi

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کہا ہے کہ اسمبلی انتخابات کے اعلان کے بعد سے ۱۱؍ ہزار سے زائد سوشل میڈیا پوسٹس کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ ان میں گمراہ کن معلومات، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور اے آئی سے تیار کردہ مواد شامل تھا، جس پر سخت نگرانی جاری ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اتوار کو اعلان کیا کہ اس نے حالیہ اسمبلی انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے بعد سے اب تک ۱۱؍ ہزار سے زیادہ سوشل میڈیا پوسٹس کے خلاف کارروائی کی ہے، جو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ اور امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتی تھیں۔ کمیشن کے مطابق ۱۵؍ مارچ کو آسام، کیرالہ، پدوچیری، تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے بعد نگرانی کا عمل تیز کر دیا گیا تھا۔ پول پینل نے واضح کیا کہ اس دوران کیے گئے اقدامات میں ’’مواد کو ہٹانے کے احکامات، وضاحتی نوٹسز جاری کرنا اور ایف آئی آر درج کرنا‘‘ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہندی بولنے والے ووٹر مغربی بنگال میں ’کنگ میکر‘، ۵۰؍ سیٹوں پر اہم کردار ہوگا

کمیشن نے کہا کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ ایسے مواد کو روکا جا سکے جو ’’انتخابی عمل کے خلاف غلط بیانیہ تیار کرتا ہے یا امن و امان میں خلل ڈال سکتا ہے۔‘‘ یہ کارروائیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت ریاستی نوڈل افسران کے ذریعے انجام دی جا رہی ہیں۔ انتخابی ضابطہ اخلاق ایسے رہنما اصولوں کا مجموعہ ہے جس پر سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور حکومتوں کو انتخابی مہم کے دوران عمل کرنا ہوتا ہے۔ اس میں تقاریر، جلسے، جلوس، منشور اور دیگر انتخابی سرگرمیوں کے لیے واضح حدود مقرر کی جاتی ہیں۔

الیکشن شیڈول کے مطابق، آسام، کیرالہ اور پدوچیری میں ۹؍ اپریل کو پولنگ ہو چکی ہے، جبکہ تمل ناڈو میں ۲۳؍ اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔ مغربی بنگال میں دو مرحلوں میں ۲۳؍ اور ۲۹؍ اپریل کو پولنگ ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی ۴؍ مئی کو کی جائے گی۔ کمیشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ایسے مواد پر تین گھنٹے کے اندر کارروائی کرنا لازمی ہوگا جسے گمراہ کن یا غیر قانونی سمجھا جائے، خاص طور پر اے آئی سے تیار کردہ یا تبدیل شدہ مواد پر۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ٹی ایم سی خواتین کو خود کفیل بنانے کے خلاف ہے: وزیر اعظم

مزید برآں، سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ انتخابی مہم میں استعمال ہونے والے اے آئی مواد پر واضح لیبل لگائیں، جیسے ’’AI-generated‘‘، ’’digitally enhanced‘‘ یا ’’synthetic content۔‘‘ کمیشن نے زور دیا کہ ’’ابتدائی تخلیق کار یا ماخذ کو ظاہر کرنا بھی ضروری ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے اور ووٹرز کو گمراہ ہونے سے بچایا جا سکے۔‘‘ یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت میں انتخابی عمل کے دوران ڈجیٹل پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، اور حکام کسی بھی قسم کی غلط معلومات یا مداخلت کو روکنے کے لیے سختی سے متحرک ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK