Updated: May 18, 2026, 10:02 PM IST
| California
ایلون مسک ایک بار پھر اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ ایکس پر کیے گئے ان کے تبصروں، جن میں انہوں نے کہا کہ ’’انسٹاگرام لڑکیوں کیلئے ہے‘‘ اور انسٹاگرام استعمال کرنے والے مردوں کا مذاق اڑایا، نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔ ناقدین نے ان بیانات کو جنس پرستانہ قرار دیا۔
ایلون مسک. تصویر: آئی این این
ایلون مسک ایک مرتبہ پھر اپنے سوشل میڈیا بیانات کی وجہ سے شدید تنازع کے مرکز میں آ گئے ہیں۔ اس بار تنازع ان کے اس تبصرے کے بعد کھڑا ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ ’’Instagram is for girls‘‘ یعنی ’’انسٹاگرام لڑکیوں کیلئے ہے‘‘، جبکہ انسٹاگرام استعمال کرنے والے مردوں کا مذاق بھی اڑایا۔ یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب ایکس پر آن لائن رویوں اور ڈجیٹل عادات سے متعلق ایک وائرل بحث چل رہی تھی، جس میں صارفین مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے کلچر، تصویری نمائش، ’’تھرسٹ ٹریپس‘‘، اسٹوریز، اور روزمرہ زندگی کی پوسٹس پر گفتگو کر رہے تھے۔ مسک نے اس بحث میں مداخلت کرتے ہوئے لکھا کہ جب ’’بالغ مرد‘‘ انہیں اپنے انسٹاگرام پروفائلز بھیجتے ہیں تو وہ سوچنے لگتے ہیں کہ ’’کیا آپ ٹرانزیشن کر رہے ہیں یا کیا؟‘‘
یہ بھی پڑھئے : اقوام متحدہ کی نمائندہ کا اسرائیل پر فلسطینیوں کے خلاف منظم تشدد کا الزام
اس بیان نے فوری طور پر شدید ردعمل کو جنم دیا۔ ناقدین نے کہا کہ مسک نہ صرف انسٹاگرام استعمال کرنے والے مردوں کا مذاق اڑا رہے ہیں بلکہ ٹرانس جینڈر افراد کی صنفی شناخت کو بھی طنز اور مذاق کا موضوع بنا رہے ہیں۔ ایکس پر ہزاروں صارفین نے ان کے بیان کو ’’جنس پرستانہ‘‘، ’’ ایل جی بی ٹی کیو پلس مخالف‘‘ اور ’’زہریلا مردانہ رویہ‘‘ قرار دیا۔ ایک صارف لینا رائٹس نے لکھا کہ ’’ایلون مسک ارب پتی ضرور ہیں، لیکن ان کے لطیفے اب مڈل اسکول کے بچوں جیسے لگتے ہیں۔ خواتین اور ٹرانس لوگوں کو نشانہ بنانا مزاح نہیں ہے۔‘‘
ایک اور صارف نواح دی ایڈیٹر نے کہا کہ ’’وہ ہر بار ’فری اسپیچ‘ کی بات کرتے ہیں، لیکن ان کی پوسٹس اکثر کمزور گروہوں کا مذاق اڑانے پر ختم ہوتی ہیں۔‘‘ اسی طرح ٹرانس وائسز ناؤ نے لکھا کہ ’’صنفی منتقلی کسی کا مذاق نہیں۔ دنیا کے طاقتور ترین لوگوں میں سے ایک کی طرف سے ایسے تبصرے خطرناک سگنل دیتے ہیں۔‘‘ بعض صارفین نے اس معاملے کو میٹا اور ایکس کے درمیان جاری مسابقت سے بھی جوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسک طویل عرصے سے انسٹاگرام اور تھریڈز جیسے پلیٹ فارمز کو ’’سطحی‘‘ قرار دیتے رہے ہیں جبکہ ایکس کو سیاسی اور ’’حقیقی‘‘ مباحث کا مرکز بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : اسرائیلی عہدیداروں کے خلاف نئے گرفتاری وارنٹ کی خبریں غلط : آئی سی سی
ایک صارف ٹیک پالیسی گائے نے تبصرہ کیا کہ ’’یہ صرف مذاق نہیں۔ یہ میٹا کے پلیٹ فارمز کو کمتر دکھانے کی مسلسل کوشش ہے۔‘‘ تاہم، مسک کے حامیوں نے ان کی حمایت بھی کی۔ کچھ صارفین نے کہا کہ لوگ ان کے تبصروں کو ’’ضرورت سے زیادہ سنجیدگی‘‘ سے لے رہے ہیں۔ صارف فری اسپیچ میکس نے لکھا کہ ’’انٹرنیٹ پر مزاح ختم ہو چکا ہے۔ ایلون صرف مذاق کر رہے تھے، ہر چیز کو نفرت انگیز بیان نہیں بنایا جا سکتا۔‘‘ ایک اور صارف میم ری پبلک نے کہا کہ ’’ایکس پر لوگ روزانہ اس سے زیادہ سخت میمز بناتے ہیں۔ صرف اس لیے شور مچ رہا ہے کیونکہ یہ ایلون نے کہا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے : امریکہ چین کا تعلقات میں استحکام اور تعاون پر اتفاق
یہ پہلا موقع نہیں جب مسک کو ٹرانس جینڈر کمیونٹی یا خواتین سے متعلق تبصروں پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ماضی میں بھی ان کی کئی پوسٹس ایل جی بی ٹی کیو پلس حلقوں اور سماجی کارکنوں کی جانب سے تنقید کا باعث بنتی رہی ہیں۔ ڈجیٹل کلچر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی بااثر شخصیات کے بیانات محض ’’مزاح‘‘ نہیں سمجھے جاتے کیونکہ ان کا اثر کروڑوں لوگوں کی سوچ اور آن لائن ماحول پر پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تنازع ایک بار پھر اس سوال کو سامنے لایا ہے کہ کیا ’’فری اسپیچ‘‘ کے نام پر طاقتور شخصیات کو ایسے بیانات کی آزادی ہونی چاہیے جو مخصوص طبقات کو نشانہ بناتے ہوں، یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ذمہ داری اور احتیاط کی نئی حدود متعین ہونی چاہئیں۔