Updated: October 31, 2026, 10:00 PM IST
| New York
ایلون مسک کی کمپنی نیورالنک نے دماغ کے ذریعے کمپیوٹر چلانے اور نابینا افراد کی بینائی بحال کرنے کیلئے دو جدید ٹیکنالوجیز ’ٹیلی پیتھی‘ اور ’بلائنڈ سائٹ‘ متعارف کرانے کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے دماغی اشاروں کو ڈجیٹل احکامات میں تبدیل کرنے اور بصری معلومات براہِ راست دماغ تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایلون مسک کی کمپنی نیورالنک (Neuralink) نے چند ہفتے قبل اپنی ’’اڑنے والی کار‘‘ متعارف کرانے کے بعد اب اپنی دو اہم طبی اور دماغی کمپیوٹر انٹرفیس (BCI) ٹیکنالوجیز، ٹیلی پیتھی (Telepathy) اور بلائنڈ سائٹ (Blindsight) کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ یہ دونوں ٹیکنالوجیز دماغ کے اعصابی نظام اور بیرونی مشینوں کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم کرنے کیلئے تیار کی جا رہی ہیں۔ ان کا مقصد جسمانی حرکات پر کھویا ہوا کنٹرول بحال کرنا، صرف سوچ کے ذریعے ڈجیٹل آلات چلانے کی سہولت فراہم کرنا اور بینائی سے محروم افراد کو دیکھنے کے قابل بنانا ہے۔ اس طرح یہ ٹیکنالوجیز انسانی زندگی کے کئی اہم مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ٹیلی پیتھی: دماغی اشاروں سے کمپیوٹر چلانے کی کوشش
ٹیلی پیتھی نیورالنک کا بنیادی موٹر انٹرفیس ہے، جسے دماغ سے خارج ہونے والے برقی اشاروں کو حقیقی وقت میں حاصل کرکے ڈجیٹل احکامات میں تبدیل کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان افراد کیلئے بنائی گئی ہے جو اپنے ہاتھ پاؤں کی حرکت کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں، مثلاً ریڑھ کی ہڈی کی شدید چوٹ یا امیوٹروفک لیٹرل اسکلروسیس (ALS) نامی اعصابی بیماری میں مبتلا افراد۔ اس امپلانٹ کی مدد سے مریض صرف اپنے ارادے اور سوچ کے ذریعے کمپیوٹر، اسمارٹ فون اور دیگر برقی آلات کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’میں اب اسرائیلی ہونے پر فخر محسوس نہیں کرتی‘: اسرائیلی اداکارہ خیلی گولڈن برگ
یہ ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے؟
الیکٹروڈز کی صف: ٹیلی پیتھی میں ۱۰۲۴؍حیاتیاتی طور پر محفوظ الیکٹروڈز استعمال کئے جاتے ہیں، جو پولی امائیڈ کے۶۴؍ لچک دار دھاگوں پر نصب ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر دھاگا انسانی بال سے بھی کہیں زیادہ باریک ہوتا ہے، تاکہ دماغی بافتوں میں طویل مدت تک سوزش اور سرجری کے دوران ہونے والے نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ ضرورت کے مطابق سگنل کی تیاری: اس ٹیکنالوجی میں خصوصی مائیکرو چپس (ASICs) استعمال کی جاتی ہیں، جو دماغ سے نکلنے والے اعصابی اشاروں کو مضبوط کرکے ڈجیٹل شکل میں تبدیل کرتی ہیں اور بغیر تار کے انتہائی کم تاخیر کے ساتھ بیرونی آلات تک پہنچاتی ہیں۔
تیز رفتار رابطے کی توسیع: ٹیلی پیتھی کا مقصد صرف کمپیوٹر کے کرسر کو حرکت دینے یا ٹائپنگ تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے ذریعے معلومات منتقل کرنے کی رفتار انسانی بولنے یا ہاتھوں سے ٹائپ کرنے کی رفتار سے بھی کہیں زیادہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کیلئے دماغی سرگرمیوں کے ہزاروں گھنٹوں پر مشتمل طبی ڈیٹا سے تربیت یافتہ خصوصی نیورل انکوڈرز استعمال کئےجا رہے ہیں۔ نیورالنک کے انجینئروں نے حال ہی میں بولنے کی صلاحیت بحال کرنے سے متعلق ایک تحقیقی مطالعے میں شریک فرد سے ملاقات کی اور۷۲؍ گھنٹوں پر مشتمل ایک خصوصی ہیکاتھون منعقد کیا۔ اس کا مقصد ایسے زیادہ سے زیادہ نئے فیچرز تیار کرنا تھا، جن کے ذریعے مریض صرف سوچ کے ذریعے نیورالنک کی مدد سے زیادہ بہتر انداز میں بات چیت کر سکیں۔
طبی آزمائشوں کے دوران ٹیلی پیتھی امپلانٹ لگوانے والے بعض ایسے مریض، جو اپنے ہاتھ پاؤں حرکت دینے سے قاصر ہیں، صرف جسمانی حرکات کا تصور کرکے کمپیوٹر آپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے، پیچیدہ آن لائن ویڈیو گیمز کھیلنے، تحریری پیغامات لکھنے اور روبوٹک بازوؤں کو کنٹرول کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جنین: اسکول جانے کیلئے بچوں کو اسرائیلی فوجی گیٹوں کے نیچے سے رینگنا پڑ رہا ہے
کیا ٹیلی پیتھی بازار میں دستیاب ہونے کیلئےتیار ہے؟
فی الحال ٹیلی پیتھی انسانوں پر طبی آزمائشوں کے مرحلے میں ہے۔ اس کی آزمائش پرائم اسٹڈی (PRIME Study) یعنی پریسیژن روبوٹکلی امپلانٹڈ برین کمپیوٹر انٹرفیس کے تحت شروع کی گئی تھی۔ اس مطالعے میں ریڑھ کی ہڈی کی شدید چوٹ کے باعث جسمانی حرکت سے محروم افراد کے دماغ میں نیورالنک کا این ون (N1) امپلانٹ نصب کیا گیا ہے، تاکہ دماغ کے ذریعے کمپیوٹر کا کرسر چلانے، ٹائپنگ کرنے اور ویڈیو گیمز کھیلنے کی صلاحیت کا جائزہ لیا جا سکے۔ ان آزمائشوں کا بنیادی مقصد امپلانٹ کی حفاظت، وائرلیس رابطے، دماغی اشاروں کو حقیقی وقت میں درست طور پر سمجھنے اور دماغی بافتوں میں نصب باریک دھاگوں کے کئی برسوں تک مستحکم رہنے کی صلاحیت کا جائزہ لینا ہے۔
بلائنڈ سائٹ: نابینا افراد کی بینائی بحال کرنے کی کوشش
بلائنڈ سائٹ نیورالنک کا ایک ایسا منصوبہ ہے، جس کے ذریعے بیرونی دنیا سے حاصل ہونے والی بصری معلومات براہِ راست دماغ کے بصری حصے (Visual Cortex) تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد بینائی سے مکمل طور پر محروم افراد کو دیکھنے کے قابل بنانا ہے۔ اسے ایسے افراد کیلئے تیار کیا جا رہا ہے جن کی بصری اعصاب (Optic Nerves) کٹ چکی ہوں، آنکھوں کو شدید چوٹ پہنچی ہو یا جو پیدائشی طور پر نابینا ہوں۔ اس ٹیکنالوجی میں آنکھوں کو نظرانداز کرتے ہوئے دماغ کے ذریعے بصری معلومات پہنچائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مشی گن میں سینیٹ کی انتخابی ریلی کے دوران ٹرمپ کی عبدالسید کے خلاف فرقہ وارانہ بیان بازی میں شدت
یہ ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے؟
ڈجیٹل تصاویر حاصل کرنا: بیرونی کیمرے یا بصری سینسر مریض کے اردگرد موجود ماحول کی ہائی ڈیفینیشن تصاویر حاصل کرتے ہیں۔
اشاروں میں تبدیلی: خصوصی پروسیسنگ ہارڈویئر ان تصاویر میں موجود روشنی، گہرائی اور اشکال کے کناروں سے متعلق معلومات کو مخصوص برقی اشاروں میں تبدیل کرتا ہے۔
دماغ تک معلومات پہنچانا: دماغ کے بنیادی بصری حصے (V1) میں نصب مائیکرو الیکٹروڈز کی مدد سے انتہائی کم مقدار میں برقی جھٹکے پہنچائے جاتے ہیں۔
روشنی کے نقطوں کی تشکیل: یہ معمولی برقی اشارے دماغ کے مخصوص نیورونز کو متحرک کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں مریض کو روشنی کے چھوٹے چھوٹے نقطے دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں سائنسی زبان میں فاسفینز (Phosphenes) کہا جاتا ہے۔ جب ایسے ہزاروں نقطوں کو بیک وقت متحرک کیا جاتا ہے تو دماغ انہیں یکجا کرکے اپنے اردگرد کے ماحول کا ایک ابتدائی اور کم ریزولیوشن والا بصری نقشہ تیار کرتا ہے۔
نیورالنک کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے مریض کو نظر آنے والی تصاویر کم ریزولیوشن والے گرافکس یا بڑے بڑے پکسلز پر مشتمل تصاویر جیسی محسوس ہوں گی۔ تاہم، مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے اور الیکٹروڈز کی تعداد بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ اس طرح وقت کے ساتھ تصاویر کا معیار بہتر ہوسکتا ہے اور ممکنہ طور پر قدرتی انسانی بینائی سے بھی زیادہ ریزولیوشن حاصل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ کمپنی کے مطابق مستقبل میں اس ٹیکنالوجی میں انفراریڈ یا ریڈار جیسی ایسی شعاعوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے، جنہیں انسانی آنکھ قدرتی طور پر نہیں دیکھ سکتی۔ فی الحال بلائنڈ سائٹ کی آزمائش جانوروں پر کی جا رہی ہے اور اسے انسانوں پر ابتدائی طبی تجربات کے مرحلے تک پہنچانے کی تیاری ہے۔ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے اس ٹیکنالوجی کو ’بریک تھرو ڈیوائس ڈیزگنیشن‘ (Breakthrough Device Designation) کا درجہ دیا ہے۔ یہ ایک انتظامی منظوری ہے، جس کا مقصد زندگی بدلنے کی صلاحیت رکھنے والی طبی ٹیکنالوجیز کی تیاری اور ان کے ضابطہ جاتی جائزے کے عمل کو تیز کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نوبیل انعام نہ ملنے پرٹرمپ کا ناروے کے تعلق سے انتہائی نازیبا تبصرہ
فی الحال کمپنی بندروں پر اس ٹیکنالوجی کی تفصیلی آزمائش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے بعد انسانوں پر طبی تجربات شروع کیے جائیں گے، جن میں دماغ کے بصری حصے کو معمولی برقی اشاروں سے متحرک کرنے اور روشنی کے بنیادی نقطوں کے ذریعے تصاویر بنانے کی صلاحیت کا جائزہ لیا جائے گا۔
نیورالنک نے سرجری کیلئے خصوصی روبوٹ بھی تیار کیا
ٹیلی پیتھی اور بلائنڈ سائٹ دونوں ٹیکنالوجیز کی کامیابی کیلئے نیورالنک نے آر ون (R1) نامی ایک خصوصی سرجیکل روبوٹ تیار کیا ہے۔ اس روبوٹ کو اس مقصد کیلئے بنایا گیا ہے کہ دماغ کے انتہائی نازک حصوں میں بغیر خون کی باریک رگوں کو نقصان پہنچائے انتہائی باریک اور لچک دار دھاگے نصب کیے جا سکیں۔
یہ روبوٹ آپٹیکل کوہرنس ٹوموگرافی (OCT) اور تیز رفتار کمپیوٹر وژن ٹیکنالوجی کی مدد سے دماغ کی سطح پر موجود خون کی باریک رگوں کا نقشہ تیار کرتا ہے۔ اس کے بعد یہ روبوٹ دھاگے نصب کرنے والی سوئیوں کو ان رگوں کے درمیان سے گزارنے کا کام کرتا ہے، تاکہ سرجری کے دوران خون بہنے اور دماغی بافتوں کو نقصان پہنچنے کے امکانات کم کئےجا سکیں۔ آر ون روبوٹ ایک منٹ میں زیادہ سے زیادہ چھ لچک دار دھاگے نصب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جن میں مجموعی طور پر ۱۹۲؍الیکٹروڈز موجود ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ روبوٹ دماغ میں الیکٹروڈز نصب کرنے کے سرجری کے انتہائی پیچیدہ اور حساس مراحل کو خودکار بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔