• Fri, 04 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نولن کی ’اوڈیسی‘ پر تنقید کے بعد ایملی ولسن نے نظم کا ازسرنو ترجمہ شروع کر دیا

Updated: September 04, 2026, 10:44 AM IST | New York

ہومر کی شہرۂ آفاق رزمیہ نظم کا ۲۰۱۷ء کا مقبول ترجمہ کرنے والی ایملی ولسن اب اسے مکمل طور پر نئے سرے سے انگریزی میں منتقل کررہی ہیں؛ وہ کہتی ہیں کہ نیا کام پرانے ترجمے کی نظرثانی نہیں بلکہ مکمل ازسرنو ترجمہ ہے اور تقریباً آدھا مکمل ہوچکا ہے۔

Christopher Nolan and Emily Wilson. Photo: X
کروسٹوفر نولن اور ایملی ولسن۔ تصویر: ایکس

ہومر کی تقریباً ۲۸۰۰؍ سال پرانی رزمیہ نظم ’’اوڈیسی‘‘ کا مشہور ترجمہ کرنے والی کلاسیکی ادب کی ماہر ایملی ولسن نے اس نظم کا مکمل ازسرنو ترجمہ شروع کردیا ہے۔ ان کے مطابق نیا ترجمہ پہلے ورژن میں ترمیم نہیں ہوگا بلکہ ابتدا سے کیا جانے والا نیا کام ہوگا، جو اس وقت تقریباً نصف مکمل ہوچکا ہے۔ ولسن کا پہلا ترجمہ ۲۰۱۷ء میں شائع ہوا تھا اور یہ ہومر کی ’’اوڈیسی‘‘ کا کسی خاتون کا انگریزی میں کیا گیا پہلا مکمل ترجمہ تھا۔ کتاب نے ایک ملین سے زیادہ نسخے فروخت کیے اور خاص طور پر ہومر کی قدیم زبان اور ساخت کو نسبتاً جدید اور قابلِ رسائی انگریزی میں پیش کرنے کے لیے سراہا گیا۔ ولسن نے اصل یونانی نظم کے ۱۲؍ ہزار سے زیادہ اشعار کے برابر ہی سطری ساخت برقرار رکھنے کی کوشش کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: نیویارک: ۸؍ ویں جماعت تک اے آئی پر پابندی، ہائی اسکول طلبہ کو محدود اجازت

نئے ترجمے میں ولسن اپنے ۲۰۲۳ء میں شائع ہونے والے ’’الیئڈ‘‘ کے ترجمے کے قریب تر طریقہ اختیار کریں گی۔ اس بار وہ اصل نظم سے زیادہ سطریں، مختلف طوالت کے الفاظ اور زیادہ متنوع رفتار استعمال کریں گی۔ ان کے مطابق اس سے ترجمے میں زبان اور شعری آہنگ کے لیے زیادہ گنجائش پیدا ہوگی۔ وہ نئے ایڈیشن میں حواشی کی تعداد بھی تقریباً ۴؍ گنا کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ولسن نے اپنے پہلے ترجمے میں بعض انتخاب پر بھی نظرثانی کی ہے۔ ان کے مطابق قدیم یونانی متن میں غلامی کی مختلف اقسام اور حیثیت رکھنے والے افراد کے لیے الگ الگ اصطلاحات موجود تھیں، لیکن انہوں نے پہلے ترجمے میں ’’slave‘‘ کا لفظ ضرورت سے زیادہ استعمال کیا۔ نئے ترجمے میں وہ اس فرق کو زیادہ واضح انداز میں پیش کرنا چاہتی ہیں تاکہ نظم میں موجود سماجی دنیا کی پیچیدگی بہتر طور پر سامنے آسکے۔

ولسن کی نئی کوشش کا اعلان اس وقت خاص توجہ حاصل کرگیا ہے جب ان کی ۲۰۲۶ء میں ریلیز ہونے والی کرسٹوفر نولن کی فلم ’’The Odyssey‘‘ پر سخت تنقید عالمی ثقافتی بحث کا حصہ بن چکی ہے۔ نولن نے اپنی فلم کے لیے ولسن کے ۲۰۱۷ء کے ترجمے کو اہم حوالوں میں شمار کیا تھا، خاص طور پر اس کی ابتدائی سطر ’’Tell me about a complicated man‘‘ کو۔ فلم میں میٹ ڈیمن نے اوڈیسیئس کا کردار ادا کیا ہے۔ فلم دیکھنے کے بعد ولسن نے لندن ریویو آف بکس میں اس کے اسکرپٹ کو ’’انتہائی خراب‘‘ قرار دیا اور کہا کہ فلم میں نفسیاتی، جذباتی، سیاسی اور اخلاقی گہرائی کی کمی ہے۔ انہوں نے یہ اعتراض بھی کیا کہ کرداروں کے اقدامات اور گفتگو کے لیے قائل کرنے والی وجوہات دکھائی نہیں دیتیں۔ بعد میں انہوں نے ایک مضمون میں فلم کے تشدد اور اخلاقی موضوعات سے نمٹنے کے انداز پر مزید تنقید کی۔ نولن نے ولسن کا براہِ راست نام لیے بغیر بعض سخت فلمی تنقیدوں کو ’’شوقیہ‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کے طریقۂ کار پر سوال اٹھایا۔

یہ بھی پڑھئے: کنیڈا کے برٹش کولمبیا میں نمودار ہونے والا پراسرار جزیرہ چند ہفتوں بعد ہی غائب!

دلچسپ بات یہ ہے کہ نیا ترجمہ نولن کی فلم پر تنازع کے بعد شروع نہیں ہوا تھا۔ ولسن نے فلم کی ریلیز سے پہلے ہی ایک گفتگو میں بتایا تھا کہ وہ ’’اوڈیسی‘‘ کو دوبارہ ترجمہ کرنا چاہتی ہیں کیونکہ تقریباً ایک دہائی گزرنے کے بعد ان کے ترجمے کا طریقہ اور ادبی تجربہ بدل چکا ہے۔ انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ وہ اپنے پہلے کام پر فخر کرتی ہیں، لیکن اب وہ خود کو ان پابندیوں سے آزاد کرنا چاہتی ہیں جو انہوں نے اصل نظم کی سطری ساخت کو بالکل برقرار رکھنے کے لیے عائد کی تھیں۔ ادھر نولن کی فلم نے ’’اوڈیسی‘‘ میں نئی دلچسپی پیدا کردی ہے۔ امریکہ میں نظم کے تمام مطبوعہ ایڈیشنز کی فروخت ۲۰۲۶ء میں اب تک گزشتہ سال کے مقابلے میں ۷۶؍ فیصد بڑھ چکی ہے۔ نیویارک پبلک لائبریری میں ۲؍ جولائی سے ۳۰؍ جولائی کے درمیان ’’اوڈیسی‘‘ کی مطبوعہ، آڈیو اور ڈجیٹل کتابوں کی طلب میں ۳۳۸؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برطانیہ میں فلم کی ریلیز کے بعد ۴؍ ہفتوں کے دوران نظم کے مطبوعہ ایڈیشنز کی فروخت میں ۱۴۰۰؍ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ Waterstones میں ولسن کے ترجمے کی فروخت ایک ہزار فیصد سے زیادہ بڑھی۔

فلم بھی تجارتی طور پر کامیاب رہی۔ اس نے افتتاحی ہفتے کے اختتام پر دنیا بھر میں ۲۶۴؍ ملین ڈالر کمائے، جو نولن کے کریئر کی سب سے بڑی افتتاحی کمائی تھی۔ ولسن نے اشارہ دیا ہے کہ وہ نئے ترجمے میں اپنے پہلے ورژن کی معروف ابتدائی سطر کو غالباً برقرار رکھیں گی، تاہم نئے ایڈیشن کی اشاعت کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK