ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل جعلی بہانہ کرکے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کررہاہے، جبکہ فلسطینی گروہ حماس اشتعال انگیزیوں کے باوجود جنگ بندی برقرار رکھنے کے اپنے نقطہ نظر پر قائم ہے۔
EPAPER
Updated: November 30, 2025, 10:00 PM IST | Ankara
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل جعلی بہانہ کرکے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کررہاہے، جبکہ فلسطینی گروہ حماس اشتعال انگیزیوں کے باوجود جنگ بندی برقرار رکھنے کے اپنے نقطہ نظر پر قائم ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نےسنیچر کو کہا کہ اسرائیل ’’جعلی‘‘ وجوہات کی بناء پر غزہ کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔استنبول میں سائنس ڈسیمینیشن ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کے دوران اردگان نے کہا کہ فلسطینی گروہ حماس اشتعال انگیزیوں کے باوجود جنگ بندی برقرار رکھنے کے اپنے نقطہ نظر پر قائم ہے۔ اردگان نے مزید کہا، ’’ غزہ میں ۲۷۰؍ سے زائد صحافیوں کے ہلاک ہونے کے باوجود بین الاقوامی میڈیا تنظیمیں اپنے ساتھیوں کی موت کی رپورٹنگ میں ناکام رہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے شمالی مغربی کنارہ کے توبس سے اپنی فوجیں واپس بلا لی
صدراردگان نے زور دے کر کہا کہ اسرائیلی فوجوں کے ہاتھوں۱۳۵۰۰؍ سے زائد طلبہ،۸۳۰؍ اساتذہ اور تعلیمی عملہ، اور۱۹۳؍ سائنسدانوں اور علماء شہید ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا، ۷۸۵۰۰؍ سے زیادہ طلبہ کو ان کے تعلیم کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے، یہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک جان بوجھ کر، دانستہ اور منصوبہ بند اجتماعی قتل کی پالیسی ہے۔‘‘
بعد ازاں انقرہ کے ان مسائل کو اٹھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اردگان نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتہ جی۲۰؍ لیڈراجلاس کے حصے کے طور پر جنوبی افریقہ میں اپنی گفتگو میں بھی ان امور کو زیر بحث لایا تھا۔ واضح رہے کہ اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ پر حملوں میں اسرائیل نے تقریباً۷۰؍ ہزار افراد کو شہید کیا ہے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، جبکہ ایک لاکھ ۷۰؍ ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔تاہم فلسطینی عوام کے ساتھ ’’یکجہتی کا عالمی دن ‘‘ کے موقع پرصدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم این سوشل پر ایک پوسٹ میں، فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کو بھی نشان زد کیا۔ فلسطینیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ترکی سردیوں کے قریب آنے کے ساتھ ہی غزہ میں فلسطینیوں کو انسان دوست امداد پہنچانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اردگان نے کہا کہ انقرہ جنگ بندی برقرار رکھنے اور ایک منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے انسان دوست امداد فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکی آزاد، خود مختار اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بناتے ہوئے۱۹۶۷ء کی سرحدوں پر مبنی فلسطینی ریاست کے قیام تک ’’بلا خوف و خطر‘‘ دو ریاستی حل کی وکالت جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ ہر سال ۲۹؍ نومبر کو منایا جانے والا یہ دن فلسطینیوں کے امن، انصاف اور خودارادیت کے جذبات کو اجاگر کرتا ہے۔اسے۱۹۷۷ء میں اقوام متحدہ نے قائم کیا تھا، جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد۱۸۱؍ کےتحت تھا، جس میں فلسطین کو یہودی اور عرب ریاستوں میں تقسیم کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا، جس نے دونوں فریقوں کے درمیان تصفیہ کی دائمی جستجو کو واضح کیا تھا۔