Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’اتھنال خوردنی اشیاء کو بھی مہنگا کررہاہے‘‘

Updated: August 22, 2026, 10:24 AM IST | Agency | New Delhi

شکر کی قیمتوں میں اضافہ کے بیچ ای -۲۰؍ پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ۔

Jairam Ramesh. Picture: INN
جے رام رمیش۔ تصویر: آئی این این

ملک میں شکر کی قیمتوں  میں  بے تحاشہ اضافہ کیلئے مودی سرکار کی پیٹرول میں   اتھنال  ملانے کی ’ای  -۲۰؍ پالیسی‘کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کانگریس نے اس پر فوری نظر ثانی کی مانگ کی ہے۔  پارٹی نے اسے ’’عوام مخالف ‘‘ قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ یہ پالیسی  نہ صرف گاڑیوں کیلئے مسائل پیدا کررہی ہے بلکہ گھریلو اخراجات کو بھی بڑھا رہی ہے، جو  قطعی ناقابل قبول ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اسرائیل: اعلیٰ تعلیم یافتہ شہریوں کا ریکارڈ اخراج، ’برین ڈرین‘ کا خطرہ بڑھ گیا

کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رامیش نے  متنبہ کیا ہے کہ گنے کو اتھنال بنانے کیلئے استعمال کرنے کی وجہ سے کھانے پینے کی چیزیں مہنگی ہورہی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق  حکومت نے ۲۵؍ لاکھ ٹن گنا جس سے شکر تیار ہوسکتی تھی، کو اتھنال کی تیاری کیلئے استعمال ہونے دیا اور اب ملک میں شکر کی قلت سے نمٹنے کیلئے شکر کی درآمد پر ڈیوٹی صفر کردی گئی ہے۔ جے رام رمیش نے مودی سرکار کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ گاڑی بھی مہنگی پڑے اور کھانا بھی مہنگا ہو،ایسی عوام دشمن پالیسی ملک کیلئے ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے ایکس پوسٹ کیا ہے کہ ’’مغرور مودی حکومت کے غلط فیصلوں کی وجہ سے عوام مہنگے کھانے اور مہنگے سفر دونوں کی قیمت چکا رہے ہیں۔ مودی حکومت کی کوتاہ بینی اور عوام دشمن ای ۲۰؍ پالیسی کی وجہ سے ایک طرف مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف گاڑیوں کے مالکان کم مائلیج اور گاڑیوں کی خرابی کا خمیازہ بھگتنے پر مجبور ہیں۔ عوام سڑکوں اور کچن دونوں جگہوں پر اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:راہل نے سسٹم ہلا دیا، سرکار گھٹنوں پر، ایف آئی آر درج کرنی پڑی

کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ یہ فطری تھا کہ جب گنے اور اناج کو اتھنال میں تبدیل کر کے پٹرول میں ملایا  جائے گا تو گنے سے تیار ہونے والی مصنوعات کی قلت ہو جائے گی، جب کہ اتھنال کیلئے تیار نہ ہونے والی گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کا بھی خطرہ ہو گا۔  انہوں  نے کئی خوردنی اشیاء کی مہنگائی کو براہ راست اتھنال  سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ۲۵؍لاکھ ٹن  شکر بنانے  کے قابل گنے کو اتھنال میں تبدیل کر دیا گیا ، جس کے نتیجے میں پچھلے ۳؍مہینوں میں ہی  شکر  کی قیمت ۴۸؍روپے سے بڑھ کر ۶۷؍ روپے کلو، گڑ کی قیمت ۵۰؍روپے سے بڑھ کر ۶۵؍ روپے فی کلو تک بڑھ گئی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK