Inquilab Logo Happiest Places to Work

ای یو کا بائیومیٹرک پر مبنی اینٹری سسٹم نافذ؛ ہندوستانی مسافروں کے پاسپورٹ پر مہر لگانے کا سلسلہ ختم

Updated: April 10, 2026, 10:12 PM IST | Brussels

ای ای ایس کے نفاذ کے ابتدائی مرحلے کے دوران، خاص طور پر مصروف ہوائی اڈوں اور زمینی سرحدوں پر مسافروں کو پروسیسنگ کیلئے طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ امیگریشن کے طریقہ کار کیلئے اضافی وقت نکالیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

یورپی یونین (ای یو) نے اپنے بارڈر کنٹرول سسٹم میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے امیگریشن کیلئے بائیومیٹرک پر مبنی نیا ڈجیٹل سسٹم متعارف کرایا ہے جس کے تحت، ہندوستان سمیت کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر یورپی مسافروں کیلئے روایتی پاسپورٹ اسٹیمپنگ (مہر لگانے) کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ اس نئے نظام کو ”اینٹری/ایگزٹ سسٹم“ (ای ای ایس) کا نام دیا گیا ہے اور اسے ۱۰ اپریل سے نافذ کردیا گیا ہے۔ یہ ان سیاحوں پر لاگو ہوگا جو ۱۸۰ دن کی مدت کے دوران ۹۰ دن تک کے مختصر قیام کیلئے شینگن علاقہ میں داخل ہوگے۔

یہ بھی پڑھئے: دبئی: ۳۱؍ مئی تک فی دن ایک غیر ملکی پرواز کی اجازت، ہندوستان سب سے زیادہ متاثر

بائیومیٹرک ٹریکنگ کی طرف منتقلی

نئے نظام کے تحت، مسافروں کے پاسپورٹ پر اب اسٹیمپ یا مہر نہیں لگائی جائے گی۔ اس کے بجائے، کسی بھی یورپی ملک میں پہلی مرتبہ داخلے کے موقع پر سرحدی حکام، مسافروں کے چہرے کی تصاویر اور انگلیوں کے نشانات سمیت بائیومیٹرک ڈیٹا جمع کریں گے۔ یہ معلومات قیام کی تاریخ، مقام اور دورانیہ جیسی تفصیلات کے ساتھ ڈجیٹل طور پر ریکارڈ کی جائیں گی۔ یہ ڈیٹا تین سال تک یا مسافر کے نیا پاسپورٹ حاصل کرنے تک ایک مرکزی ڈیٹا بیس میں محفوظ رہے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نظام آمد و رفت کے ریکارڈ کی خودکار ٹریکنگ کو ممکن بنائے گا، جس کی مدد سے ویزا کی مدت سے زیادہ قیام کرنے والوں کی نشان دہی کرنا اور شناختی دھوکہ دہی کو روکنا آسان ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: یورپی ممالک، نوعمر بچوں کے تحفظ کیلئے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کیلئے قانون سازی میں مصروف

ابتدائی مرحلے میں طویل انتظار کا خدشہ

حکام نے خبردار کیا ہے کہ ای ای ایس کے نفاذ کے ابتدائی مرحلے کے دوران، خاص طور پر مصروف ہوائی اڈوں اور زمینی سرحدوں پر مسافروں کو پروسیسنگ کیلئے لمبی قطاروں اور طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جدید سسٹم کو پہلی بار استعمال کرنے والے مسافروں کو اپنا بائیومیٹرک رجسٹریشن مکمل کرنا ہوگا، جس کے باعث انتظار کے وقت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، ایک بار رجسٹریشن ہو جانے کے بعد، دوبارہ آنے والے مسافروں کو تیز تر پروسیسنگ کا فائدہ ملنے کی توقع ہے، کیونکہ ان کا ڈیٹا تصدیق کیلئے سسٹم میں پہلے سے دستیاب ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: یورپ میں کٹ کیٹ چوری کے بعد کنیڈا میں سیکوریٹی قافلہ، ویڈیو وائرل

نئے نظام پر منتقلی کو آسان بنانے کیلئے، مسافر یورپ میں آمد سے ۷۲ گھنٹے پہلے تک ”ٹریول ٹو یورپ“ (Travel to Europe) پلیٹ فارم کے ذریعے پاسپورٹ کی تفصیلات اور تصاویر پہلے سے اپ لوڈ کرسکتے ہیں۔ اگرچہ اس سے قطاریں ختم نہیں ہوگی، لیکن بارڈر چیک پوائنٹس پر پروسیسنگ کا وقت کم ہو سکتا ہے۔ ماہرین نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ امیگریشن کے طریقہ کار کیلئے اضافی وقت نکالیں، خاص طور پر کنیکٹنگ فلائٹس یا سفر کے مصروف ایام کے دوران اس بات کا خیال رکھیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسپین کا مطالبہ: لبنان حملوں پر اسرائیل سے یورپی معاہدہ معطل کیا جائے

ای ای ایس، ای یو کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ

یورپی کمیشن کے مطابق، ای ای ایس، سرحدی انتظام کو جدید بنانے اور پورے خطے میں سلامتی کو بہتر بنانے کی وسیع تر کوشش کا حصہ ہے۔ دستی اسٹیمپنگ کو ختم کرکے، اس نظام کو متعارف کرانے کا مقصد انسانی غلطی کو کم کرنا اور سرحدی آپریشنز کو آسان بنانا ہے۔ کمیشن نے واضح کیا کہ نیا نظام ویزا کی ضروریات کا متبادل نہیں ہے اور یہ مستقبل میں آنے والے ’یورپی ٹریول انفارمیشن اینڈ آتھرائزیشن سسٹم‘ (ای ٹی آئی اے ایس) سے علاحدہ طور پر کام کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK