Inquilab Logo Happiest Places to Work

یورپی ممالک، نوعمر بچوں کے تحفظ کیلئے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کیلئے قانون سازی میں مصروف

Updated: April 09, 2026, 10:17 PM IST | Brussels

یورپی پارلیمنٹ نے سوشل میڈیا کے آزادانہ استعمال کیلئے کم از کم عمر کی حد ۱۶ سال مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اس سے کم عمر صارفین کو والدین کی رضامندی کے ساتھ سوشل میڈیا تک رسائی کی اجازت دی گئی ہے۔ قانون سازوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لت لگانے والے فیچرز (جیسے لگاتار اسکرولنگ) پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

متعدد یورپی ممالک نابالغ بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود یا ممنوع قرار دینے کے منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ کئی یورپی حکومتیں کم عمر صارفین کو سوشل میڈیا سے دور رکھنے کیلئے قانون متعارف کروا رہی ہیں۔ حال ہی میں یونانی وزیرِ اعظم کیریاکوس مِتسوتاکیس نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں جنوری ۲۰۲۷ء سے ۱۵ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کردی جائے گی۔ انہوں نے اس اقدام کو بے چینی، نیند میں خلل اور پلیٹ فارمز کے لت آور ڈیزائن کے شواہد کے تناظر میں پیش کیا۔

فرانسیسی قانون ساز بھی ۱۵ سال سے کم عمر بچوں کیلئے اسی طرح کی پابندی کی حمایت کر رہے ہیں۔ صدر ایمانوئل میکرون ستمبر تک ان پابندیوں کو نافذ کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ اس تجویز میں اسکولوں میں اسمارٹ فون کے استعمال پر سخت کنٹرول بھی شامل ہے۔

اسپین بھی اس سلسلے میں سخت قوانین پر غور کر رہا ہے۔ وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز ۱۶ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کی وکالت کر رہے ہیں۔ انہوں نے موجودہ آن لائن ماحول کو ”ڈجیٹل وائلڈ ویسٹ“ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسپین کا مطالبہ: لبنان حملوں پر اسرائیل سے یورپی معاہدہ معطل کیا جائے

یورپ میں سوشل میڈیا ریگولیشن کیلئے کوششیں

دیگر یورپی ممالک بھی اس حوالے سے سخت اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ آسٹریائی حکومت ۱۴؛سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنانے سے روکنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ پرتگال میں پہلے ہی ۱۶ سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کیلئے والدین کی رضامندی حاصل کرنا لازمی ہے۔

آئرلینڈ میں حکومت نے ڈجیٹل اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پالیسی کے تحت ۱۶ سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کے قانون پر کام کر رہی ہے۔ پولینڈ نے بھی اسی سلسلے میں اہم قدم اٹھاتے ہوئے ستمبر سے ۱۶ سال سے کم عمر طلبہ کیلئے اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔

برطانیہ اس وقت نوعمروں پر مشتمل ایک پائلٹ پروگرام کے ذریعے پابندیوں کی جانچ کر رہا ہے، جس میں اسکرین ٹائم کی حدود اور ایپ کنٹرولز کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جرمنی، اٹلی، ڈنمارک اور سلووینیا سمیت دیگر ممالک بھی اس سلسلے میں ممکنہ اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، جرمنی رواں سال کے آخر میں اپنی تجاویز جاری کرے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان: کیا ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پر پابندی لگائی جارہی ہے؟

علاقائی سطح پر، یورپی پارلیمنٹ نے سوشل میڈیا کے آزادانہ استعمال کیلئے کم از کم عمر کی حد ۱۶ سال مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اس سے کم عمر صارفین کو والدین کی رضامندی کے ساتھ سوشل میڈیا تک رسائی کی اجازت دی گئی ہے۔ قانون سازوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لت لگانے والے فیچرز (جیسے لگاتار اسکرولنگ) پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے جنہیں ان ایپس کے ضرورت سے زیادہ استعمال کی ترغیب دینے والا سمجھا جاتا ہے۔

عالمی سطح پر دیکھا جائے تو آسٹریلیا پہلے ہی ۱۶ سال سے کم عمر بچوں کے لیے ملک بھر میں سوشل میڈیا پر پابندی نافذ کر چکا ہے اور اس کی تعمیل کی ذمہ داری انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ جیسے پلیٹ فارمز پر عائد کی گئی ہے۔ انڈونیشیا نے بھی اسی قسم کی قانون سازی کو نافذ کردیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK