Updated: April 09, 2026, 10:16 PM IST
| Toronto
یورپ میں کٹ کیٹ چاکلیٹ کی بڑی کھیپ چوری ہونے کے بعد KitKat نے کنیڈا میں اپنی ڈلیوری کے لیے غیر معمولی سیکوریٹی اقدامات اختیار کیے، جس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ ویڈیو میں ایک ٹرک کو سخت حفاظتی قافلے کے ساتھ شاہراہ پر گزرتے دکھایا گیا ہے۔ نیسلے نے تصدیق کی کہ ۱۲؍ ٹن چاکلیٹ کی چوری ایک حقیقی واقعہ تھا، جس کے بعد آگاہی مہم بھی شروع کی گئی ہے۔
یورپ میں KitKat چاکلیٹ بارز کی ایک بڑی کھیپ چوری ہونے کے بعد کمپنی نے اپنی مصنوعات کی ترسیل کے لیے غیر معمولی حفاظتی اقدامات اختیار کیے ہیں، جس کا ایک ویڈیو حال ہی میں کنیڈا میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ نیسلے کے ذیلی برانڈ KitKat کنیڈا کی جانب سے انسٹاگرام پر شیئر کئے گئے اس ویڈیو میں ایک سرخ رنگ کے ڈلیوری ٹرک کو سیاہ ایس یو ویز کے سخت سیکوریٹی حصار میں سفر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس کے باعث شاہراہ پر دیگر گاڑیوں کے لیے اس کے قریب آنا مشکل نظر آتا ہے۔
ویڈیو میں شامل متن میں لکھا گیا:’’ہم یہاں محض وقت گزارنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے کام کی مکمل نگرانی کے لیے موجود ہیں۔‘‘
جبکہ پوسٹ کے کیپشن میں کہا گیا: ’’ہم اپنے چاکلیٹ کی حفاظت کے تئیں سنجیدہ ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران جنگ بندی پر متضاد دعوے، ماہرین نے نتائج پر سوال اٹھائے
یہ سیکوریٹی اقدام اس واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں مارچ ۲۰۲۶ء میں ایک ٹرک، جس میں تقریباً ۱۲؍ ٹن کٹ کیٹ چاکلیٹ بارز موجود تھیں، وسطی اٹلی سے پولینڈ جاتے ہوئے لاپتہ ہو گیا تھا۔ اس بڑے پیمانے کی چوری نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی، جہاں صارفین نے اسے ’’اب تک کی سب سے دلچسپ ڈکیتی‘‘ قرار دیا۔ اس واقعے کے بعد کمپنی نے ایک آگاہی مہم بھی شروع کی، جس میں طنزیہ انداز اپناتے ہوئے سیکوریٹی گارڈز کے لیے ایک فرضی بھرتی کا اعلان کیا گیا۔ اس اعلان میں کہا گیا کہ امیدواروں کے پاس ’’اعلیٰ قدر کے سامان کی حفاظت کا وسیع تجربہ‘‘ ہونا چاہیے اور انہیں ’’وقفہ لینے کے ساتھ ساتھ چوری کو روکنے کا جذبہ‘‘ بھی ہونا چاہیے۔
اس مہم کو ایک اشتہاری ایجنسی نے تیار کیا، جس کے شریک بانی جوئیل ہولٹ بائی نے کہا کہ ’’ہم نے روایتی تشہیری انداز کے بجائے ایک ایسا تخلیقی طریقہ اختیار کیا جو عوام فوری طور پر سمجھ سکیں اور اس سے جڑ سکیں، جس میں ایک عام ڈلیوری کو غیر معمولی انداز میں پیش کیا گیا۔‘‘
ادھر نیسلے نے ۲۸؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو اس چوری کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ہم ہمیشہ لوگوں کو کٹ کیٹ کے ساتھ ’’بریک‘‘ (وقفہ) لینے کی ترغیب دیتے ہیں، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بعض افراد نے اس پیغام کو غیر معمولی حد تک سنجیدہ لے لیا اور ہماری بڑی مقدار میں چاکلیٹ کے ساتھ ہی وقفہ کر لیا۔‘‘ کمپنی نے مزید کہا کہ ’’اگرچہ اس واقعے میں شامل افراد کے ذوق کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کارگو کی چوری کاروباری دنیا کے لیے ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جس کے لیے مسلسل نئے طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز ایران کا ’’جوہری ہتھیار‘‘ ہے: دمتری میدیدوف
بعد ازاں یکم اپریل کو کمپنی نے واضح کیا کہ یہ واقعہ کسی قسم کا مذاق نہیں تھا اور اس سلسلے میں ایک ’’چوری شدہ کٹ کیٹ ٹریکر‘‘ بھی متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے صارفین یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ آیا ان کی خریدی گئی مصنوعات اس گمشدہ کھیپ کا حصہ ہیں یا نہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا بلکہ اس نے عالمی سطح پر کارگو سیکوریٹی اور سپلائی چین کے مسائل پر بھی توجہ مبذول کرائی ہے، جہاں کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کے تحفظ کے لیے مزید سخت اقدامات کرنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔