Inquilab Logo Happiest Places to Work

یورپ میں توانائی کا بحران سنگین: ای یو کی شہریوں سے ’ورک فرام ہوم‘ اور رفتار کی حد کم کرنے کی اپیل

Updated: April 02, 2026, 3:00 PM IST | Brussels

ای یو کے اینرجی کمشنر نے رکن ممالک سے آئی ای اے کی سفارشات، جیسے شاہراہوں پر رفتار کی حد میں ۱۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی کمی، پبلک ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، کار شیئرنگ کا فروغ اور نجی گاڑیوں کا متبادل دنوں میں استعمال، اپنانے کی اپیل کی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کی وجہ سے یورپ میں توانائی کا بحران سنگین ہوتا جارہا ہے۔ اس سے نمٹنے کیلئے یورپی یونین (ای یو) نے شہریوں اور رکن ممالک سے ایندھن کی بچت کرنے کیلئے موثر اقدامات اپنانے کی اپیل کی ہے۔ یونین نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ گھر سے کام (ورک فرام ہوم) کریں اور شاہراہوں پر گاڑیوں کی رفتار کی حد کم رکھیں۔

ای یو نے پیر کو رکن ممالک کے وزرائے توانائی کیلئے ایک غیر معمولی اجلاس کا انعقاد کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ای یو کے اینرجی کمشنر ڈین جورجنسن نے خبردار کیا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ختم بھی ہو جائے تب بھی اس بحران کے دیرپا نتائج مستقبل قریب میں ختم نہیں ہوگے۔ انہوں نے ایندھن کی کھپت کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ”اگر کل امن قائم ہو بھی جائے، تو بھی ہم مستقبل قریب میں معمول پر لوٹ نہیں سکیں گے۔“

جورجنسن نے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ انٹرنیشنل اینرجی ایجنسی (آئی ای اے) کی سفارشات پر عمل کریں۔ ان سفارشات میں شاہراہوں پر رفتار کی حد میں ۱۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی کمی، پبلک ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، کار شیئرنگ کا فروغ، نجی گاڑیوں کا متبادل دنوں میں استعمال اور ڈرائیونگ کے زیادہ موثر طریقے اپنانے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور ایندھن کی طلب کم کرنے کیلئے جہاں ممکن ہو، ریموٹ ورکنگ (گھر سے کام) کو بھی کلیدی اقدام کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ایران ۶؍ ماہ تک جنگ جاری رکھ سکتا ہے ،فیصلہ امریکہ کو کرنا ہے‘‘

یورپ میں توانائی کا بحران

مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستے ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی ترسیل میں خلل پڑنے سے توانائی کا بحران مزید سنگین ہوگیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی پر ایران کی حالیہ پابندیوں نے سپلائی پر مزید دباؤ ڈالا ہے، جس سے تیل کی قیمتیں، جہاز رانی کے اخراجات اور انشورنس پریمیم بڑھ گئے ہیں۔

آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً ۲۰ ملین تیل گزرتا ہے اور اس میں کسی بھی قسم کا خلل پڑنے سے عالمی سپلائی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ای یوکے حکام نے خبردار کیا کہ یہ صورتحال بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں میں طویل مدتی عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ سپلائی کی سطح فی الحال مستحکم ہے، لیکن آسمان چھوتی قیمتیں گھرانوں اور کاروباروں پر دباؤ بڑھا رہی ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران، اس تنازع نے یورپ کے تیل کے درآمدی اخراجات میں اندازاً ۱۴ بلین یورو کا اضافہ کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ اور اسرائیل عالمی نظام پر اپنا حکم نہیں چلا سکتے: اسپین کی وزیر دفاع

یورپی ممالک کے جوابی اقدامات

یورپی ممالک نے اس بحران سے نمٹنے کیلئے پہلے ہی اسٹریٹجک ذخائر سے تقریباً ۴۰۰ ملین بیرل کے مربوط انتظام کا نظام اپنا لیا ہے جو اس سلسلے میں اب تک کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔ تاہم، جورجنسن نے اس بات پر زور دیا کہ طلب کو کنٹرول کرنے اور طویل مدتی استحکام کو یقینی بنانے کیلئے مزید مربوط اقدامات کی ضرورت ہوگی۔

اسپین اور کروشیا سمیت کئی ممالک نے صارفین کے تحفظ کیلئے ایندھن کی قیمتوں کی حد اور ٹیکسوں میں کمی جیسے اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ اس کے باوجود، ای یو کے حکام نے متنبہ کیا ہے کہ اس مسئلہ کا کوئی ایک حل موجود نہیں ہے، بلکہ بحران پر قابو پانے کیلئے اجتماعی کارروائی ناگزیر ہے۔ جورجنسن نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ”ہمیں اب عمل کرنا ہوگا اور ہمیں مل کر عمل کرنا ہوگا۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK