Inquilab Logo Happiest Places to Work

یورپ: موسمیاتی تبدیلی نے سمندروں کا درجہ حرارت ۲؍ درجہ سیلسیس بڑھا دیا

Updated: August 20, 2026, 2:57 PM IST | Berlin

یورپ موسمیاتی تبدیلی کے سبب گرمی کی شدید لہر سے متاثر ہے، جس نے سمندر کے درجہ حرارت میں ۲؍ درجہ سیلسیس کا اضافہ کردیا،جس کے نتیجے میں ماحولیاتی نظام، ماہی گیری کی صنعت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اس موسم گرما میں یورپ کے سمندر گرمی کی شدید لہر کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی بنیادی وجہ موسمیاتی تبدیلی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی موسمی انتساب (WWA) گروپ کی ایک نئی تشخیص کے مطابق، انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گرمی نے بحیرہ روم کے سمندری درجہ حرارت میں تقریباً ۲؍ درجہ سیلسیس اور مغربی یورپی پانیوں میں ایک اعشاریہ ۳؍سے ایک اعشاریہ ۴؍ درجہ سیلسیس سے زیادہ کا اضافہ کیا ہے۔محققین نے اپنے مشاہداتی ریکارڈز کا موسمیاتی ماڈل سے موازنہ کرکے یہ نتائج اخذ کیے۔برن یونیورسٹی کے ماحولیاتی طبیعیات دان اور مطالعے کے شریک مصنف تھامس فروئلیچر نے کہا، ’’آئرلینڈ کے ساحلی بحر اوقیانوس کے پانیوں سے لے کر بحیرہ روم تک، یورپ کے سمندر درجہ حرارت میں خطرناک اضافے کا سامنا کر رہے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ہند نژاد بچے کو بچانے والے ۱۶؍ سالہ لائف گارڈ سے ٹرمپ نے ملاقات کی

بعد ازاں یہ گرمی محض پانی کے گرم ہونے کا معاملہ نہیں ہے۔ سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ گرم سمندری لہریں آبی انواع پر نقصاندہ اثر ڈال سکتی ہیں، جس سے ماحولیاتی نظام بدل جاتے ہیں اور ماہی گیری میں خلل پڑتا ہے۔ موسمی انتساب نے کہا کہ شدید ماحولیاتی اثرات کے شواہد‘‘موجود ہیں، جن میں انواع کاشمال کی جانب ٹھنڈے پانیوں کی طرف نقل مکانی کرنا شامل ہے۔ اس طرح کی تبدیلیاں خوراک کی زنجیروں کو متاثر کر سکتی ہیں اور ساحلی ماہی گیری اور آبی زراعت پر دباؤ ڈال سکتی ہیں۔
بعد ازاں سمندری ماحولیات کے ماہر جان برونو نے کہا کہ سنگین حیاتیاتی نقصان پہنچانے کے لیے گرمی کی حیران کن حد تک کم مقدار درکار ہو سکتی ہے۔برونو نے صحافیوں کو بتایا،’’مثال کے طور پر، مرجان کی چٹانوں پر صرف ایک ڈگری سینٹی گریڈ کافی ہے۔اگرچہ کچھ انواع گرم حالات سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں، جبکہ دوسری شدید خطرات سے دوچار ہیں۔‘‘ برونو نے اس عمل کو ایک قسم کی دوبارہ ترتیب، برادریوں کی تنظیم نو قرار دیا، جسے سائنس دان ’’جیتنے والے اور ہارنے والے‘‘کہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: جین زی کا ایک گروپ اب بھی کورونا دور کی تنہائی میں زندگی گزار رہا: رپورٹ

واضح رہے کہ موسمی انتساب کے مطابق، جولائی کے گرم ترین دو ہفتوں کے دوران بحیرہ روم کے کچھ حصوں میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے ۶درجہ سیلسیس سے زیادہ درج کیا گیا۔ سمندری گرمی کی لہریں یورپ کے سمندروں کے ایک بڑے حصے میں بھی پھیل چکی ہیں۔مزید برآں اس سال بے آف بسکے اور آئبیرین ساحل کا تقریباً ۹۰ ؍فیصد اور مغربی بحیرہ روم کا ۸۰؍ فیصد حصہ سمندری گرمی کی لہروں کی زد میں آیا۔ موسمی انتساب کا اندازہ ہے کہ اگر انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موجودہ ایک اعشاریہ ۴؍درجہ سیلسیس عالمی گرمائش نہ ہوتی تو ان علاقوں میں سے صرف ۴۰ ؍فیصد متاثر ہوتے۔یہ گرمی زمین پر رہنے والے لوگوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: انڈونیشیا: جنگلات کی آگ بجھانے نکلا ۱۵؍ سالہ ’’سپرمین‘‘، ویڈیو وائرل

ذہن نشین رہے کہ سمندر کا بلند درجہ حرارت ساحلی پٹیوں پر نمی بڑھاتا ہے، جو ممکنہ طور پر شدید گرمی کو مزید خطرناک بنا سکتا ہے۔ موسمی انتساب کی شریک مصنف کلیئر برگن نے کہا کہ’’ گرم سمندر تیراکوں کے لیے پرکشش لگ سکتے ہیں، لیکن سطح کے نیچے سمندری حیات پراس کے اثرات کہیں زیادہ سنگین ہیں۔‘‘ دریں اثناء یہ نتائج اس بڑھتے ہوئے ثبوت میں اضافہ کررہے ہیں کہ یورپ کے گرم ہوتے سمندر تیزی سے سنگین موسمیاتی اور ماحولیاتی خطرہ بن رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK