Inquilab Logo Happiest Places to Work

یورپ، مہاجرین کی اموات گننے کو عمومی عادت نہیں بنا سکتا: پوپ لیو

Updated: June 12, 2026, 3:04 PM IST | Madrid

پوپ لیو چہاردہم نے ایک بیان میں کہاکہ یورپ کو مہاجرین کی ا موات گننے کو عمومی عادت نہیںبنا لینا چاہئے، بلکہ اس بحران کو ختم کرنے کیلئے اقدامات پر زور دینا چاہئے۔

Pope Leo XIV. Photo: X
پوپ لیو چہاردہم۔ تصویر: ایکس

پوپ لیو چہار دہم نے جمعرات کو یورپ پر زور دیا کہ وہ نقل مکانی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کرے۔ انہوں نے مہاجرین کے لیے محفوظ اور قانونی راستے فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اور سمندر میں ہونے والی اموات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بے حسی کے خلاف خبردار کیا۔اسپین کے جزیرے گران کینیریا کی بندرگاہ ارگینیگین میں خطاب کرتے ہوئے جو مغربی افریقہ سے بحر اوقیانوس کے راستے آنے والے مہاجرین کے لیے یورپ کے اہم داخلی راستوں میں سے ایک ہے —،پوپ نے کہا کہ نقل مکانی کو حکومتوں اور بین الاقوامی برادری کے لیے ’’ اخلاق کا جائزہ‘‘ بننا چاہیے۔
مزید برآں انہوں نے کہا، ’’ہم اموات گننے کو عادت نہیں بنا سکتے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’انسانی وقار کے لیے ضروری ہے کہ قانونی اور محفوظ نقل مکانی کے راستے ہوں، امدادی اور ریسکیو کارروائیاں ہوں، اسمگلروں کے خلاف حقیقی تعاون ہو، متاثرین کے لیے مؤثر تحفظ ہو، انضمام کے سنجیدہ عمل ہوں، اور ایسی پالیسیاں ہوں جو ہر شخص کو اپنے وطن میں باوقار زندگی گزارنے کا موقع دیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسرائیل پرمقبوضہ مغربی کنارے میں نسل کشی تیز کرنے کا الزام

بعد ازاں پوپ لیو نے مہاجرین کی حفاظت اور ان مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف لڑائی میں اصل، عبوری اور منزل والے ممالک پر بھی زیادہ ذمہ داری لینے پر زور دیا جو مایوسی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تاہم پوپ نے خبردار کیا کہ یورپ انسانی وقار کا تحفظ نہیں کر سکتا جبکہ وہ بحیرہ روم اور بحر اوقیانوس میں مہاجرین کی اموات گننے کا عادی بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے ان سمندروں کو ’’قبروں کے بغیر قبرستان‘‘ قرار دیا۔پوپ نے کہا، ’’ہر کشتی جو آتی ہے، وہ نہ صرف مہاجرین لاتی ہے بلکہ ایک سوال بھی لاتی ہے،ہم نے کس قسم کی دنیا تعمیر کی ہے جب ہمارے اتنے بھائیوں اور بہنوں کو زندگی کی تلاش میں موت کو دعوت دینی پڑتی ہے؟‘‘مزید برآںلیو نے کینری جزائر پہنچنے والے مہاجرین کی مدد کرنے والے امدادی کارکنوں، رضاکاروں اور امدادی تنظیموں کو بھی سراہا۔اپنی تقریر کے بعد، شرکاء نے سمندر پار کرنے کی کوشش میں مرنے والے مہاجرین کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ لیو نے سمندر میں پھول پھینکے اور مہاجرین کی کشتیوں کی لکڑی سے بنی ایک صلیب کو برکت دی جو جزائر تک پہنچی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے ۱۷؍ ہزار فلسطینیوں کو علاج کیلئے بیرون ملک جانے سے روک دیا

واضح رہے کہ ہسپانوی این جی او ’’کامیناندو فرونتیراس‘‘ کے مطابق،۲۰۲۶ء کے پہلے پانچ مہینوں میں سمندر کے راستے اسپین پہنچنے کی کوشش میں۱۳۰۰؍ سے زائد مہاجرین ہلاک ہوئے۔کینری جزائر کا یہ دورہ پوپ فرانسس کی ایک دیرینہ خواہش کو پورا کرنے والا تھا، جو اپنی وفات سے پہلے اس جزیرےکا دورہ کرنا چاہتے تھے۔نقل مکانی لیو کے اسپین دورے کے اہم موضوعات میں سے ایک ہے۔یاد رہے کہ یہ پوپ بننے کے بعد اٹلی سے باہر کسی بڑی مغربی یورپی ملک کا ان کا پہلا دورہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK