یورپی کمیشن کی صدرر ارسلا وان ڈیر لیین نے کہا کہ بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کیلئے ۱۳؍ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابند زیر غور ہے۔
EPAPER
Updated: September 17, 2026, 10:07 PM IST | Paris
یورپی کمیشن کی صدرر ارسلا وان ڈیر لیین نے کہا کہ بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کیلئے ۱۳؍ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابند زیر غور ہے۔
اسٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ سے اپنے سالانہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے کہا کہ یورپی یونین آن لائن خطرات سے نوجوانوں کو بچانے کی کوششوں کے حصے کے طور پر۱۳؍ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔اس دوران،انہوں نے سوشل میڈیا کے استعمال پر عمر کی بنیاد پر پابندیوں کے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا۔مجوزہ قوانین کے تحت،۱۳؍ سے۱۵؍ سال سے کم عمر کے بچوں کو والدین یا سرپرستوں کے ذریعہ قائم اور نگرانی میں محدود فیچر والے’’منی اکاؤنٹس‘‘ استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ ان کا روزانہ استعمال ایک گھنٹے تک محدود ہوگا۔ علاوہ ازیں۱۵؍ سے۱۸؍ سال سے کم عمر کے صارفین کو پلیٹ فارمز میں ڈیزائن کے لحاظ سے بنائے گئے حفاظتی اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھئے: چین کے وزیر دفاع کا جبر کے خلاف انتباہ
بعد ازاں وان ڈیر لیین نے کہا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو یہ بھی دکھانا ہوگا کہ ان کے پلیٹ فارم بچوں کے لیے محفوظ ہیں۔یورپی کمیشن جمعرات کو باضابطہ طور پر یورپی یونین کڈز ایکٹ تجویز کرنے والا ہے۔ توقع ہے کہ یہ قانون سازی عمر کی بنیاد پر تحفظ کی مختلف سطحیں متعارف کرائے گی۔ واضح رہے کہ یہ تجویز بچوں پر سوشل میڈیا کے اثرات اور انہیں آن لائن درپیش خطرات پر بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بحرعرب میں پاکستانی جہاز ہندوستانی جہازسے ٹکرایا،وزارت خارجہ کا سخت ردعمل
یاد رہے کہ اس سے قبل یورپ کے متعدد ممالک کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے یا روکنے کیلئے اس قسم کی قانون سازی کرچکے ہیں، ان میں آسٹریلیا اولین ملکوں میں شامل ہے۔ دراصل سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کے ذہنوں اور جسم پر نقصاندہ اثرات مرتب کر رہا ہے، جبکہ ٹیک کمپنیوں کا الگورتھم بھی اس میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ تاہم ان قانوں کے ذریعے کمپنیوں کو اس بات کا پابند بنایا جارہا ہےکہ وہ سوشل میڈیا کو بچوں کیلئے مزید محفوظ بنائیں، ساتھ ہی بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے مرتکب افراد کو جوابدہ بنائیں۔