Updated: June 02, 2026, 10:02 PM IST
| Paris
اطالوی فنکار ماریزیو کیٹیلان کے متنازع اور دنیا بھر میں مشہور آرٹ ورک ’’کامیڈین‘‘ (ڈکٹ ٹیپ بنانا) کو ایک بار پھر نشانہ بنایا گیا ہے۔ فرانس کے سینٹر پومپیڈو میٹز میوزیم سے ہفتے کے آخر میں دیوار پر چپکایا گیا کیلا چوری کر لیا گیا، جس کے بعد میوزیم انتظامیہ نے فوری طور پر نیا کیلا لگا کر نمائش بحال کر دی۔ ۶۲؍ لاکھ ڈالر مالیت کے اس فن پارے کا مرکزی جزو محض ایک کیلا اور سلور ڈکٹ ٹیپ ہے۔
ڈکٹ ٹیپ بنانا۔ تصویر: ایکس
فرانس کے شہر میٹز میں واقع سینٹر پومپیڈو میٹز میوزیم سے اطالوی فنکار ماریزیو کیٹیلان کے مشہور اور متنازع آرٹ ورک ’’کامیڈین‘‘ کا کیلا ہفتے کے آخر میں چوری کر لیا گیا۔ میوزیم کے ایک گارڈ نے سب سے پہلے نوٹس کیا کہ دیوار پر سلور ڈکٹ ٹیپ کے ذریعے چپکایا گیا کیلا اپنی جگہ سے غائب ہے، جس کے بعد انتظامیہ نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی اور باقاعدہ فوجداری مقدمہ درج کرا دیا۔ تاہم اس غیر معمولی چوری کے باوجود نمائش زیادہ دیر متاثر نہیں رہی کیونکہ آرٹ ورک کا اصل تصور کیلا نہیں بلکہ اس کے ساتھ منسلک تصدیقی سرٹیفکیٹ اور ہدایات ہیں۔ اسی وجہ سے میوزیم نے جلد ہی ایک نیا کیلا دیوار پر چپکا کر نمائش بحال کر دی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھلنے کا معاہدہ آئندہ ہفتے متوقع : ٹرمپ
’’کامیڈین‘‘ پہلی بار دسمبر ۲۰۱۹ء میں فلوریڈا کے شہر میامی بیچ میں منعقدہ آرٹ بیسل نمائش میں پیش کیا گیا تھا۔ یہ آرٹ ورک ۱۲۰؍ ہزار ڈالر میں فروخت ہوا تھا، لیکن بعد کے برسوں میں اس کی شہرت اور قیمت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ ۲۰۲۴ء میں چینی نژاد کرپٹو کرنسی کاروباری شخصیت جسٹن سن نے اس کے ایک ایڈیشن کو ۲ء۶؍ ملین ڈالر میں خرید لیا، جس کے بعد اس نے میڈیا کے سامنے خود وہ کیلا کھا لیا۔ اس عمل کو بھی آرٹ ورک کی توسیع اور ایک پرفارمنس آرٹ کے طور پر دیکھا گیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ماریزیو کیٹیلان نے یہ کیلا نیویارک میں سوتھبیز کے قریب ایک ۷۴؍ سالہ دکاندار سے محض ۳۵؍ سینٹ میں خریدا تھا۔ بعد میں یہی سادہ سا پھل جدید آرٹ کی دنیا کی سب سے مہنگی اور متنازع تخلیقات میں شمار ہونے لگا۔ یہ پہلا موقع نہیں جب ’’کامیڈین‘‘ کو نقصان پہنچایا گیا ہو یا اس کا کیلا غائب ہوا ہو۔ درحقیقت اس آرٹ ورک کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔
(۱) ۲۰۱۹ء میں آرٹ بیسل میامی کے دوران پرفارمنس آرٹسٹ ڈیوڈ ڈیٹونا نے نمائش کے درمیان کیلا دیوار سے اتار کر کھا لیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ ’’بھوکا فنکار‘‘ ہے۔ اس واقعے نے عالمی میڈیا میں زبردست سرخیاں بنائی تھیں۔
(۲) ۲۰۲۳ء میں جنوبی کوریا کے سیول میں لیئم میوزیم آف آرٹ میں ایک طالب علم نوہ ہیون سو نے بھی دیوار سے کیلا اتار کر کھا لیا تھا۔ اس نے بعد میں کیلے کا چھلکا دوبارہ دیوار پر چپکا دیا اور کہا کہ اس نے ناشتہ نہیں کیا تھا، اس لیے اسے بھوک لگی تھی۔
(۳) ۲۰۲۵ء کے موسم گرما میں بھی فرانس کے سینٹر پومپیڈو میٹز میں ایک اور مہمان نے کیلا کھا لیا تھا۔ ایک سال قبل ایک اور واقعے میں ایک شخص نے آرٹ ورک کا معائنہ کرتے ہوئے کیلا کھا لیا، جس پر ماریزیو کیٹیلان نے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ انہیں افسوس ہے کہ اس شخص نے کیلے کا چھلکا اور ڈکٹ ٹیپ بھی نہیں کھائی۔
یہ بھی پڑھئے: لبنان معاملے پر ٹرمپ، نیتن یاہو پر برس پڑے، کہا مَیں نے تمہیں جیل جانے سے بچا رکھا ہے
تازہ ترین واقعہ مئی ۲۰۲۶ء میں پیش آیا جب نامعلوم افراد کی جانب سے پورا کیلا چوری کر لیا گیا۔ اس بار میوزیم انتظامیہ نے باقاعدہ مجرمانہ شکایت درج کرائی اور پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اگرچہ بظاہر لگتا ہے کہ چوروں نے ۶۲؍ لاکھ ڈالر مالیت کا فن پارہ چرا لیا ہے، لیکن حقیقت میں آرٹ ورک کی اصل قدر اس کے تصور، تصدیقی سرٹیفکیٹ اور فنکار کی ہدایات میں موجود ہے۔ اسی لیے کیلے کو معمول کے مطابق ہر چند دن بعد تبدیل کیا جاتا ہے کیونکہ یہ قدرتی طور پر خراب ہو جاتا ہے۔
ماریزیو کیٹیلان کا کہنا ہے کہ ’’کامیڈین‘‘ دراصل آرٹ مارکیٹ، فن کی تجارتی قدر اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر ایک طنزیہ تبصرہ ہے۔ وہ ماضی میں آرٹ مارکیٹ پر قیاس آرائیوں کو فروغ دینے اور حقیقی فنکاروں کی مناسب معاونت نہ کرنے پر بھی تنقید کرتے رہے ہیں۔ کیٹیلان اپنے دیگر غیر معمولی فن پاروں کی وجہ سے بھی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کے مشہور ترین منصوبوں میں ’’امریکہ‘‘ نامی ۱۸؍ قیراط سونے سے تیار کردہ مکمل طور پر فعال ٹوائلٹ بھی شامل ہے، جو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ان کے پہلے دورِ صدارت کے دوران پیش کیا گیا تھا۔