Inquilab Logo Happiest Places to Work

بلغاریہ کی گلوکارہ نےاسرائیل مخالف مظاہروں کےدرمیان یوروویژن۲۰۲۶ء کا مقابلہ جیتا

Updated: May 17, 2026, 4:06 PM IST | Vienna

بلغاریہ کی گلوکارہ نےاسرائیل مخالف مظاہروں کے سائے میں یوروویژن ۲۰۲۶ء کا مقابلہ جیتا ، جبکہ نتائج کے اعلان کے دوران انہیں عوام کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

بلغاریہ نے یوروویژن ۲۰۲۶ء کا گلوکاری کامقابلہ جیت لیا ہے۔ یہ مقابلہ آسٹریا میں منعقد ہوا، لیکن غزہ میں جاری نسل کشی کے دوران اسرائیل کی شرکت کے خلاف احتجاج، بائیکاٹ اور مظاہروں نے اس کی چمک ماند کردی۔یوروویژن گیت مقابلے کے۷۰؍ویں ایڈیشن کا فائنل ویانا کے وینر اسٹاڈ ہالے ایرینا میں ہوا، جہاں بلغاریہ کی گلوکارہ دارا نے اپنے گانے’’بنگرنگا‘‘ کے ذریعےججوں اور ناظرین سے۵۱۶؍ پوائنٹس حاصل کرکے پہلا مقام حاصل کیا۔جبکہ اسرائیل۳۴۳؍ پوائنٹس کے ساتھ دوسرے اور رومانیہ۲۹۶؍ پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو حکومت آئندہ ہفتے گرسکتی ہے،اتحادیوں کا پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا مطالبہ

واضح رہے کہ پانچ ممالک ا سپین، سلووینیا، نیدرلینڈز، آئس لینڈ، اور آئرلینڈ نے اسرائیل کی شرکت کے خلاف احتجاجاً مقابلے کا بائیکاٹ کیا۔بعد ازاں اسرائیلی مدمقابل نوم بیتان، جس نے فائنل میں تیسرے نمبر پر پرفارم کیا، کو ایرینا کے اندر احتجاج کا سامنا کرنا پڑا، جہاں سامعین نے اس کی پرفارمنس کے دوران فلسطینی جھنڈے لہرائے۔اس کے علاوہ جب اسرائیل کے پبلک ووٹ کے نتائج کا اعلان کیا گیا تو بوز (ناراضگی کی آوازیں) بھی سنائی دیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکرٹری جنرل ایگنیس کالامارڈ نے نشریات کے دوران اسرائیل کی شرکت پر تنقید کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’’جب تک نسل کشی، غیر قانونی قبضہ اور ظلم جاری ہے، تب تک یوروویژن میں اسرائیل کے لیے کوئی اسٹیج نہیں ہونا چاہیے۔
دریں اثناءفائنل سے کئی گھنٹے پہلے، ایک ہزار سے زیادہ فلسطین حامی مظاہرین ویانا کے کرسچن بروڈا اسکوائر پر جمع ہوئے اور وینرا سٹاڈ ہالے کے مقام کی طرف مارچ کیا۔مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا،’’نسل کشی کا جشن نہ منائیں‘‘ اور ’’اسرائیل، بچوں اورعورتوں کا قاتل،‘‘جبکہ وہ ’’اسرائیل کا بائیکاٹ کرو‘‘ اور ’’نسل کشی کے لیے کوئی اسٹیج نہیں‘‘ جیسے نعرے لگا رہے تھے۔بین الاقوامی کارکنوں، فنکاروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے یوروپی براڈکاسٹنگ یونین (EBU) پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو مقابلے سے خارج کرے اوردیگر ممالک (بشمول آسٹریا) سے کہا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور فوجی تعاون ختم کریں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ اورایران پرمغربی میڈیا کی رپورٹنگ ’غیرانسانی بنانے‘ پر مبنی ہے: صحافی اسکاہل

اسی اثناء میں جمعہ کو ویانا کے ماریا تھریسین اسکوائر پر ایک علیحدہ کنسرٹ، گانے کا احتجاج نسل کشی کے لیے کوئی اسٹیج نہیں،منعقد ہوا، جس میں بین الاقوامی فنکاروں اور کارکنوں نے فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا اور اسرائیل کی شرکت پر EBU کے موقف پر تنقید کی۔۱۲؍ مئی کو پہلے سیمی فائنل کے دوران، بیتان کو بھی سامعین جنہوں نے ’’نسل کشی روکو‘‘ کے نعرے لگائے اور فلسطینی جھنڈے دکھائے  کی طرف سے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ مظاہرین جن پر ’’ آزاد فلسطین‘‘ کے نعرے لکھے تھے، کو سیکیورٹی اہلکاروں نے مقام سے نکال دیا۔ہسپانوی پبلک براڈکاسٹر RTVE نے نشریات کے آغاز پر ’’فلسطین کے لیے امن اور انصاف‘‘ کی حمایت میں ایک پیغام نشر کیا، جس میں اس نے اپنی اسکرین کو عارضی طور پر سیاہ کرکے یہ پیغام ہسپانوی اور انگریزی میں دکھایا۔بیلجیم کے فلیمش پبلک براڈکاسٹر VRT نے بھی خبردار کیا کہ جب تک EBU یوروویژن میں حصہ لینے والے ممالک کے بارے میں اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرتا، وہ مستقبل میں شرکت پر دوبارہ غور کر سکتا ہے۔اس کے علاوہ مقابلے میں کئی ممالک میں ٹیلی ویژن کی درجہ بندی (ریٹنگز) بھی کم دیکھنے میں آئی، جس کی وجہ بائیکاٹ کی اپیل اور اسرائیل کی شرکت پر تنقید تھی۔
اٹلی میں، پبلک براڈکاسٹر RAI پر پہلا سیمی فائنل ایک اعشاریہ ۸۷؍ ملین ناظرین نے دیکھا، جو گزشتہ سال ۲؍ اعشاریہ ۴۸۹؍ ملین سے کافی کم تھا۔نیدرلینڈز میں، سیمی فائنل کے ناظرین کی تعداد ۲۰۲۵ءکے مقابلے میں۴۲؍ فیصد کم ہوگئی، جو۲۰۱۲ء کے بعد ملک کا سب سے کم دیکھا جانے والا یوروویژن سیمی فائنل بن گیا۔مزید برآںرپورٹ کردہ اعداد و شمار کے مطابق، برطانیہ، سویڈن اور بیلجیم میں بھی ناظرین کی تعداد گزشتہسال کے مقابلے میں کم ہوئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK