تفتیشی صحافی اسکاہل کا کہنا ہے کہ غزہ اور ایران پر مغربی میڈیا کی نامہ نگاری ’غیرانسانی بنانےکے تحت کی جاتی ہے جو جنگ کی رپورٹنگ کو مسخ کر دیتی ہے۔
EPAPER
Updated: May 16, 2026, 3:10 PM IST | Gaza
تفتیشی صحافی اسکاہل کا کہنا ہے کہ غزہ اور ایران پر مغربی میڈیا کی نامہ نگاری ’غیرانسانی بنانےکے تحت کی جاتی ہے جو جنگ کی رپورٹنگ کو مسخ کر دیتی ہے۔
’’دی انٹرسیپٹ‘‘ کے بانی ایڈیٹر اسکاہل کا کہنا ہے کہ غزہ اور ایران پر مغربی میڈیا کی رپورٹنگ ’غیرانسانی بنانےکے اصول پر مبنی ہوتی ہے جو جنگ کی رپورٹنگ کو مسخ کر دیتی ہے۔انہوں نے انادولو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’پوری کہانی ایران اور فلسطینیوں کو غیرانسانی بنانے کے بارے میں ہے۔ جو حقیقت کا الٹ ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ مرکزی دھارے کے میڈیا کو حکومتیں اپنے اعمال کو جائز ثابت کرنے کے لیے ایک سیاسی آلے کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔جبکہ فلسطینیوں کی موت اضافی نقصان نہیں۔ اسکاہل نے غزہ میں صحافیوں کے خلاف بے مثال تشدد کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اس وقت انسانی تاریخ میں صحافیوں کے خلاف سب سے بڑے قتل عام کی مہم کے بیچ میں ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مسجد اقصیٰ میں یہودی انتہا پسندوں کا دھاوا، اشتعال انگیز جلوس نکالا گیا
واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیل کے ذریعے ۳۰۰؍ سے زیادہ فلسطینی میڈیا ورکرمارے جا چکے ہیں، ان میں سے اکثر کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے اس طرح کی اموات کو جنگی معاون نقصان قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے اسے’’ایک حقیقی سلسلہ وار قاتل مہم ‘‘قرار دیا جس کا ہدف وہ صحافی ہیں جن کا جرم دنیا کی آنکھیں اور کان ہونا ہے۔‘‘اسکاہل نے مغربی میڈیا تنظیموں کی خاموشی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ اس جرم میں ملوث ہونے کے مترادف ہے۔بعد ازاں اسکاہل نے حق بات کرنے کو جرم قرار دینے کی روایت خلاف خبردار کیا۔ حماس، حزب اللہ اور ایرانی لیڈروں کے انٹرویو کرنے والے اسکاہل نے اس عمل کو صحافت کی بنیادی ذمہ داری قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ’’جب میڈیا بیانیے فلسطینی مزاحمت کا کارٹونی ورژن‘‘ پیش کرتے ہیں یا ایران کو صرف پاسداران انقلاب کے ذریعے چلایا جانے والا ملک بتاتے ہیں، تو یہ عوام کی سمجھ کو مسخ کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت نکبہ کا تسلسل ہے: فلسطینی اہلکار
غزہ کو ’’تاریخ میں پہلی براہِ راست نسل کشی‘‘ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’اسرائیل اور وسیع تر صیہونی منصوبے کے بارے میں عوام کا تصور کبھی اتنے بڑےبحران کا شکار نہیں ہوا تھا۔‘‘