Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوروویژن ۲۶ء: اسرائیل کی شرکت پر ویانا میں سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا

Updated: May 11, 2026, 9:57 PM IST | Rome

یورپ میں Eurovision Song Contest 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی اسرائیل کی شرکت ایک بار پھر شدید سیاسی تنازع کا مرکز بن گئی ہے۔ ویانا میں ہونے والے مقابلے کے دوران مختلف یورپی ممالک میں احتجاج، بائیکاٹ مہمات اور میڈیا کارکنوں کی تنقید سامنے آ رہی ہے۔

Photo : X
تسویر : ایکس

یورپ میں Eurovision Song Contest 2026 اس ہفتے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں شروع ہو رہا ہے، لیکن موسیقی کے اس عالمی مقابلے کے گرد ایک بار پھر شدید سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ ۷۰؍ واں یوروویژن مقابلہ وینر سٹیڈتھل میں منعقد کیا جا رہا ہے، جہاں سیمی فائنلز ۱۲؍ اور ۱۴؍ مئی جبکہ گرینڈ فائنل ۱۶؍  مئی کو ہوگا۔ تاہم اس بار توجہ صرف موسیقی یا پرفارمنس تک محدود نہیں بلکہ اسرائیل کی شرکت پر ہونے والی سیاسی بحث نے تقریب کو عالمی سطح پر متنازع بنا دیا ہے۔

اطالوی سرکاری نشریاتی ادارے آر اے آئی میں یونین نمائندے کلوڈیو سیسونے نے کہا کہ یوروویژن کو ثقافتی اتحاد اور امن کی علامت ہونا چاہیے، لیکن ان کے بقول اسرائیل اس پلیٹ فارم کو اپنی حکومت کا ’’نرم اور مثبت چہرہ‘‘ پیش کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے انادولو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’یوروویژن ثقافتوں کے درمیان مکالمے اور امن کا پلیٹ فارم ہونا چاہیے، لیکن جب کسی وفد کو اپنی حکومت کی شبیہ بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے تو اسے برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب مختلف کارکنوں اور یورپی شخصیات نے سوال اٹھایا کہ اگر روس کو یوکرین جنگ کے باعث یوروویژن سے نکالا جا سکتا ہے تو اسرائیل کو غزہ، لبنان اور شام کے تناظر میں کیوں شامل رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے : گوا: ہندوستان میں سب سے زیادہ جنسی زیادتی کی شرح، بیشتر متاثرین نابالغ

سیسونے نے کہا کہ ’’اگر روس کو یوکرین کے معاملے پر خارج کیا گیا تو پھر اسرائیل کے ساتھ مختلف سلوک کیوں؟‘‘ یوروویژن کو دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپی اتحاد کے ثقافتی منصوبے کے طور پر شروع کیا گیا تھا، لیکن ناقدین کے مطابق اب یہ مقابلہ جغرافیائی سیاست سے الگ نہیں رہا۔ سیسونے نے الزام لگایا کہ اسرائیل ہر سال موسیقی، رقص اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی پالیسیوں کے بارے میں نرم تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، جسے انہوں نے ’’صہیونی دھلائی‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق یوروویژن میں اسرائیل کی موجودگی یورپی شناخت کے اندر اس کی جگہ مضبوط کرنے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے : آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی مہینوں جاری رہے، تب بھی ایران کو فرق نہیں پڑے گا: سی آئی اے رپورٹ

اس تنازع نے خود اطالوی میڈیا اداروں کے اندر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ آر اے آئی اور یو ایس بی سے وابستہ کارکنوں نے مطالبہ کیا کہ اٹلی کو اسرائیل کی شرکت کے خلاف سخت مؤقف اپنانا چاہیے تھا۔ رپورٹس کے مطابق اسپین، آئرلینڈ، آئس لینڈ، نیدر لینڈس اور سلووینیا میں بھی مختلف سطحوں پر بائیکاٹ یا احتجاجی مہمات سامنے آئی ہیں۔ اٹلی، اسپین، فرانس، جرمنی اور برطانیہ یوروویژن کے ’’بگ فائیو‘‘ ممالک میں شامل ہیں، جو مقابلے کے بڑے مالی معاون سمجھے جاتے ہیں اور براہ راست فائنل میں جگہ حاصل کرتے ہیں۔ سیسونے کا کہنا تھا کہ اگر ’’بگ فائیو‘‘ کے اہم ممالک اسرائیل کی شرکت کے خلاف اجتماعی مؤقف اختیار کرتے تو یہ ایک طاقتور علامتی پیغام ہوتا۔

واضح رہے کہ یوروویژن ۲۰۲۶ء کے آغاز کے ساتھ ہی ویانا میں مظاہروں، احتجاجی مہمات اور سیاسی بیانات کے مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے واضح ہو رہا ہے کہ یہ مقابلہ اب صرف موسیقی کا نہیں بلکہ وسیع تر سیاسی اور ثقافتی مباحث کا میدان بن چکا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK