Inquilab Logo Happiest Places to Work

چاندیولی اسمبلی حلقہ کی ای وی ایم اور وی وی پیٹ مشینوں کی جانچ شروع

Updated: April 17, 2026, 10:49 AM IST | Mumbai

ڈیڑھ سال قبل ہوئے الیکشن میں گڑبڑی کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس لیڈر عارف نسیم خان نے عدالت میں عرضی داخل کی تھی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اسمبلی انتخابات کے نتائج اور مخلوط حکومت قائم ہوئے تقریباً ڈیڑھ سال ہوچکے ہیں لیکن اب حکمراں پارٹیوں کے خیمے میں عدالت کے فیصلے سے   ہلچل پیدا ہوسکتی ہے۔   ریاست کی ایک اسمبلی سیٹ کے ای وی ایم اور وی وی پیٹ کی جانچ ہونے والی ہے۔ کانگریس لیڈر عارف نسیم خان نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کر کے دوبارہ گنتی اور ای وی ایم کی جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔ عدالت نے اس عرضی کو قبول کرتے ہوئے چاندیولی اسمبلی سیٹ پر ای وی ایم اور وی وی پیٹ کی جانچ کے احکامات دیئے ہیں۔

جمعرات کی صبح ساڑھے ۹؍ بجے سے ای وی ایم کی جانچ شروع ہوگئی  ۔ اس پورے عمل کو انتہائی اہم سمجھا جارہا ہے۔ کانگریس لیڈر عارف نسیم خان خود موقع پر موجود  تھے۔ انہوں نے اس سے قبل چاندیولی اسمبلی انتخابات میں استعمال کی گئی ای وی ایم میں گڑبڑی کے سنگین الزامات لگائے تھے جس کے بعد یہ معاملہ سرخیوں میں آیا تھا۔ خبروں کے مطابق بامبے ہائی کورٹ نے اس معاملے میں دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اہم ہدایات جاری کی تھیں۔ عدالت نے ای وی ایم اور وی وی  پیٹ مشینوں کی تفصیلی جانچ کا حکم دیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پہلی بار امیدواروں کی موجودگی میں ای وی ایم اور وی وی  پیٹ مشینوں کا براہ راست معائنہ کیا جا رہا ہے۔ ایسی صورت میں اس پورے عمل پرسبھی کی نظریں مرکوز ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’منشیات اورڈرگس مافیا سے شہر کو پاک کرنا ضروری ہے‘‘

حال ہی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا  نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) اور ووٹر ویریفائی ایبل پیپر آڈٹ ٹریل (وی وی پی اے ٹی) سسٹم کی برن میموری (یا مائیکرو کنٹرولر) کی تصدیق کیلئے ایک  اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی)  جاری کیا ہے۔ یہ قدم سپریم کورٹ آف انڈیا کے۲۰۰۴ء کے فیصلے اسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارمز بمقابلہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ اس عمل کے تحت ہرمشین پر۱۴۰۰؍ ووٹ تک کا ماک پول کرایا جائے گا۔ اگر اس کے نتائج وی وی  پیٹ کی پرچیوں سے ملتے ہیں تو یہ مانا جائے گا کہ برن میموری کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ہے اور مشین تصدیق شدہ ہے۔ حالانکہ اگر کسی طرح کا تضاد سامنے آتا ہے تو اس سےنمٹنے کیلئے ابھی تک کوئی واضح طریقہ کار طے نہیں کیا گیا ہے۔  چاندیولی اسمبلی حلقہ میں ۴۰۰؍ پولنگ بوتھ پر۴۰۰؍ ای وی ایم کا استعمال ہوا تھا جس کا۵؍ فیصد یعنی۲۰؍ ای وی ایم اور وی وی  پیٹ مشین کی جانچ کی جائے گی۔ یہ تمام مشین کانگریس لیڈر عارف نسیم خان نے خود منتخب کی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK