ملک کی پہلی بلٹ ٹرین کوریڈور پر کام تیزی سے جاری ہے۔ نیشنل ہائی اسپیڈ ریل کارپوریشن لمیٹڈ (این ایچ ایس آر سی ایل) نے ممبئی-احمد آباد بلٹ ٹرین پروجیکٹ کیلئے۲۱؍ کلومیٹر طویل سرنگ کے بارے میں تازہ معلومات فراہم کی ہے۔
نیشنل ہائی اسپیڈ ریل کارپوریشن لمیٹڈ کی جانب سے ٹنل کی تصویر جاری کی گئی- تصویر:آئی این این
ملک کی پہلی بلٹ ٹرین کوریڈور پر کام تیزی سے جاری ہے۔ نیشنل ہائی اسپیڈ ریل کارپوریشن لمیٹڈ (این ایچ ایس آر سی ایل) نے ممبئی-احمد آباد بلٹ ٹرین پروجیکٹ کیلئے۲۱؍ کلومیٹر طویل سرنگ کے بارے میں تازہ معلومات فراہم کی ہے۔ این ایچ ایس آر سی ایل نے کہا کہ نیو آسٹرین ٹنلنگ میتھڈ (این اے ٹی ایم) کا استعمال کرتے ہوئے سرنگ کے ۵؍ کلومیٹر کے حصے کی کھدائی مکمل ہو گئی ہے۔ این ایچ ایس آر سی ایل نے حالیہ تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ ایک باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کھدائی مکمل ہونے کے بعد اب سرنگ کی تعمیر کے اگلے مراحل پر کام جاری ہے۔یہ سرنگ تھانے کی کھاڑی میںبی کے سی سے شیل پھاٹا تک کھودی جارہی ہے۔
ٹنل کے اندر ڈرینج سسٹم کا کام
نوبھارت ٹائمس کی ایک رپورٹ کے مطابق ممبئی-احمد آباد بلٹ ٹرین کیلئے ۲۱؍کلومیٹر طویل سرنگ کے ۵؍ کلومیٹر حصے کی کھدائی کے بعد، اب سرنگ کے اندر نکاسی کا نظام بنایا جا رہا ہے۔ یہ کام ’ڈرینج کاسٹنگ گینٹری‘ کا استعمال کرتے ہوئے کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے رِستے ہوئے پانی کو محفوظ طریقے سے جمع کرکے ایک مخصوص نکاسی نظام کے ذریعے باہرنکالا جاتا ہے۔اس کے بعد، واٹر پروفنگ گینٹری کا استعمال کرتے ہوئے خصوصی کوورلگائے جارہے ہیںجو سرنگ کو پانی سے بچانے کیلئے حفاظتی تہہ فراہم کرتے ہیں۔
کنکریٹ فریم ورک ڈھال بن جائے گا
بلٹ ٹرین ٹنل کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لئے اس کے پروفائل کے مطابق سلاخوںکی بنیادیں (ری انفورسمنٹ بار کیج ) تیار کی جارہی ہیں۔ آپریشن اور دیکھ بھال کیلئے درکار اہم سسٹم کو انسٹال اور فعال کرنے کے لئے مخصوص کمرے بھی تیار کئے جا رہے ہیں۔ ہر مرحلے پر مسلسل پیش رفت کے ساتھ، ہندوستان کے پہلے بلٹ ٹرین منصوبے کا یہ زیر زمین حصہ تکمیل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ غور طلب ہے کہ ریلوے کے وزیر اشوینی ویشنو نے ملک میں ۱۵؍ ا گست ۲۰۲۷ء تک بلٹ ٹرین چلانے کا وعدہ کیا ہے۔بلٹ ٹرین کا پہلا آپریشن سورت اور بلیمورہ کے درمیان ہوگا۔ سورت کے قریب ایک ڈپو کی تعمیر جاری ہے جس کا کام آخری مراحل میں ہے۔