Updated: May 31, 2026, 3:05 PM IST
| New Delhi
پروڈیجی فنانس کی گلوبل چیف بزنس آفیسر سونل کپور نے نوٹ کیا کہ بیرون ملک مقیم ہندوستانی طلبہ بیک وقت کئی مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں ایندھن کے عالمی مارکیٹ میں خلل کی وجہ سے ہوائی جہاز کے ٹکٹوں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ویزا پالیسیوں کے گرد پایا جانے والا عدم استحکام شامل ہیں۔ اس کے باعث سفر کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس سے متوسط آمدنی والے خاندانوں کے طلبہ کیلئے اضافی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
روپے کی گرتی ہوئی قدر، ہوائی سفر کے بڑھتے اخراجات اور عالمی سطح پر جیوپولیٹیکل کشیدگی کے درمیان بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کے مجموعی اخراجات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے امریکہ میں زیر تعلیم ہندوستانی طلبہ کو مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ہندوستانی وزارتِ خارجہ کے سال ۲۰۲۵ء کے اعداد و شمار کے مطابق، ۱۲ لاکھ سے زائد ہندوستانی طلبہ بیرون ملک اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس سے ایک سال قبل یہ تعداد ۱۳ لاکھ ۳۰ ہزار سے زیادہ تھی، لیکن ویزا کی پابندیوں، پالیسیوں کے عدم استحکام اور کئی ممالک میں معاشی اتار چڑھاؤ کے درمیان بیرون ملک جانے والے طلبہ کی تعداد میں خاصی کمی آئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی ویزا کے ’’انتظار کے اوقات‘‘ میں ریکارڈ اضافہ
تعلیمی قرض فراہم کرنے والے ادارے پروڈیجی فنانس (Prodigy Finance) نے بتایا کہ ہندوستانی طلبہ کی بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کی دلچسپی اب بھی برقرار ہے، لیکن طلبہ اور ان کے خاندانوں پر مالی بوجھ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کیلئے اب منزل مقصود تک پہنچنے سے پہلے ہی بڑے پیمانے پر مالیاتی منصوبہ بندی اور فنڈنگ کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بیرون ملک تعلیم کی منصوبہ بندی کرنے والے ۷۹ فیصد سے زائد ہندوستانی طلبہ کا تعلق ٹائر-۲ اور ٹائر-۳ (چھوٹے) شہروں سے ہے۔ تقریباً ۶۰ فیصد طلبہ کا تعلق متوسط یا کم آمدنی والے گھرانوں سے ہے، جہاں خاندان اکثر بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کیلئے بڑی مالی قربانیاں دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پریمیم کھپت میں اضافے کے باعث ہندوستانیوں نے غیر ملکی سفر پر ۴۵ء۱ لاکھ کروڑ روپے خرچ کئے: کوٹک رپورٹ
امریکی ڈالر کے مقابلے میں ہندوستانی روپے کی قدر میں گراوٹ ان طلبہ کیلئے ایک بڑی تشویش بن کر سامنے آئی ہے جو پہلے ہی بیرون ملک زیرِ تعلیم ہیں اور جو آنے والے تعلیمی سیشنز کیلئے باہر جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ روپے کی کمزور پوزیشن کے باعث جب اخراجات کو ہندوستانی کرنسی میں تبدیل کیا جاتا ہے، تو ٹیوشن فیس، رہائشی اخراجات اور روزمرہ کے رہن سہن کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔
پروڈیجی فنانس کی گلوبل چیف بزنس آفیسر سونل کپور نے نوٹ کیا کہ بیرون ملک مقیم ہندوستانی طلبہ بیک وقت کئی مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں ایندھن کے عالمی مارکیٹ میں خلل کی وجہ سے ہوائی جہاز کے ٹکٹوں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ویزا پالیسیوں کے گرد پایا جانے والا عدم استحکام شامل ہیں۔ اس کے باعث سفر کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کے طلبہ کیلئے اضافی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بڑھتے اخراجات، کم طلب؛ ایئر انڈیا اور انڈیگوگھریلو پروازوں میں بڑی کمی کا اعلان
واضح رہے کہ اس سال روپے کی قدر میں ۰۴ء۷ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ۲۰۲۶ء کے آغاز میں جنوری کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر ۵۰ء۸۹ سے ۹۰ء۸۹ روپے کے درمیان تھی لیکن آنے والے مہینوں میں یہ مسلسل کمزور ہوتا چلا گیا۔ ۱۹ مئی کو ڈالر کے مقابلے میں ۵۶ء۹۶ روپے تاریخ کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔