Inquilab Logo Happiest Places to Work

خاندانی تنازعات خودکشیوں کی سب سے بڑی وجہ: این سی آر بی رپورٹ

Updated: June 08, 2026, 7:06 PM IST | New Delhi

ہندوستان میں خاندانی تنازعات، جذباتی دباؤ، مالی توقعات اور گھریلو اختلافات بدستور ہزاروں افراد کو شدید ذہنی بحران کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۴ء میں ریکارڈ کی گئی ایک لاکھ ۷۰؍ ہزار ۷۴۶؍ خودکشیوں میں سے ۵ء۳۳؍ فیصد کا تعلق خاندانی مسائل سے تھا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہندوستان میں خاندانی تنازعات اور گھریلو دباؤ ایک خاموش بحران کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) کی تازہ ’’Accidental Deaths and Suicides in India 2024‘‘ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۴ء میں ملک میں ریکارڈ ہونے والی ایک لاکھ ۷۰؍ ہزار ۷۴۶؍ خودکشیوں میں سے ۵ء۳۳؍ فیصد واقعات کی بنیادی وجہ خاندانی مسائل تھے، جس کے باعث یہ عنصر مسلسل سب سے بڑا محرک بن کر سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بیماری ۹ء۱۷؍ فیصد کے ساتھ دوسری بڑی وجہ رہی، جبکہ منشیات یا شراب کی لت، ازدواجی مسائل اور دیگر سماجی و معاشی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے رہے۔ تاہم خاندانی جھگڑے، گھریلو اختلافات، والدین اور بچوں کے درمیان کشیدگی، ازدواجی تنازعات اور رشتہ داروں کے ساتھ تنازعات سب سے زیادہ جان لیوا ثابت ہوئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’امید ہے بی جے پی لیڈر سلنڈر لیکر سڑک پر اترینگے‘‘

ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ خاندانی مسائل سے جڑے بحران اکثر اچانک پیدا نہیں ہوتے بلکہ طویل عرصے تک جاری رہنے والے جذباتی دباؤ، تنہائی، مایوسی اور بے بسی کے احساس کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق بہت سے متاثرہ افراد اپنی تکلیف کے واضح اشارے دیتے ہیں، لیکن خاندان یا معاشرہ اکثر انہیں سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ حالیہ مہینوں میں سامنے آنے والے متعدد واقعات نے اس تشویشناک رجحان کو مزید نمایاں کیا ہے۔ ایک نوجوان طالب علم، جسے اپنی پسند کے برخلاف تعلیمی شعبہ اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا، شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گیا۔ اسی طرح ایک کاروباری شخص مالی ذمہ داریوں اور خاندانی توقعات کے بوجھ تلے دب گیا، جبکہ کئی ایسے بچے اور نوجوان بھی سامنے آئے جو والدین یا خاندان کے درمیان جاری تلخ تنازعات کے باعث شدید نفسیاتی دباؤ میں مبتلا تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں متاثرہ افراد اکثر خود کو تنہا اور بے بس محسوس کرتے ہیں۔

این سی آر بی کے اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان بالغ افراد، خصوصاً ۱۸؍ سے ۳۰؍ سال کی عمر کے افراد، خاندانی مسائل سے متعلق خودکشیوں میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے گروہوں میں شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس عمر میں تعلیمی دباؤ، کریئر کے فیصلے، ازدواجی توقعات اور معاشی غیر یقینی صورتحال خاندانی کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی صحت کے بارے میں معاشرتی بدنامی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بہت سے افراد ڈپریشن، اضطراب یا جذباتی مشکلات کے باوجود پیشہ ورانہ مدد لینے سے گریز کرتے ہیں، جس کے باعث حالات مزید بگڑ جاتے ہیں۔

رپورٹ نے اس بات کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے کہ ذہنی صحت کی سہولیات کو زیادہ قابلِ رسائی بنایا جائے، تعلیمی اداروں اور کام کی جگہوں پر کونسلنگ کے نظام کو مضبوط کیا جائے اور خاندانوں میں مکالمے اور جذباتی تعاون کے کلچر کو فروغ دیا جائے۔ ماہرین کے مطابق بروقت مداخلت، ہمدردانہ گفتگو اور پیشہ ورانہ مدد بہت سے ایسے سانحات کو روک سکتی ہے جو بظاہر معمولی گھریلو تنازعات سے شروع ہوتے ہیں لیکن بعد میں جان لیوا شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ناگپور: شیف وشنو منوہر نے۳؍ ہزارکلو تری پوہا تیار کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا

کون سی ریاست میں سب سے زیادہ خودکشی ریکارڈ ہوئی؟ 
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ریاست مہاراشٹر میں سب سے زیادہ خودکشیاں ریکارڈ کی گئیں۔ تاہم، سب سے زیادہ خودکشی کی شرح پر غور کریں (فی لاکھ آبادی میں اموات)، سکم میں ملک میں سب سے زیادہ شرح ہے۔
(۱) ریاست مہاراشٹر میں مسلسل سب سے زیادہ خود کشیاں ہورہی ہیں جو قومی کل کا تقریباً ۱۳؍ سے ۱۵؍ فیصد ہے۔ خودکشیوں کی سب سے زیادہ تعداد والی دوسری ریاستیں تمل ناڈو اور مدھیہ پردیش ہیں۔
(۲) خود کشی کی شرح کے لحاظ سے۔ ریاستی آبادی کے لحاظ سے جغرافیائی طور پر چھوٹی ریاستوں میں خودکشی کی شرح زیادہ ہے جن میں سکم، کیرالا اور چھتیس گڑھ بالترتیب پہلے، دوسرے اور تیسرے نمبر ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK