Inquilab Logo Happiest Places to Work

وزیروں کی گاڑیاں اور بنگلے نیلام کرنے پہنچے کسان حراست میں

Updated: August 28, 2026, 2:17 PM IST | Ali Imran / Agency | Buldhana / Mumbai

پولیس نے کسان لیڈر روکانت توپکر اور ان کے کارکنان کومنترالیہ یا وزیروں کی رہائش گاہ تک جانے نہیں دیا۔

Ravi Kant Topkar (wearing yellow) is being put into the vehicle. Picture: INN
روی کانت توپکر ( پیلا لباس) کو گاڑی میں ڈالا جا رہا ہے۔ تصویر: آئی این این

کرانتی کاری شیتکری سنگھٹنا کے بانی روی کانت توپکر کی قیادت میںسیکڑوں کسان حسب اعلان جمعرات کو ممبئی پہنچے۔ وہ منترالیہ جانا چاہتے تھے لیکن انہیں پولیس نے پہلے ہی حراست میں لے لیا کیونکہ انہوں نے منترالیہ کے آس پاس کھڑی وزیروں کی گاڑیاں اور وہاں موجود ان کے بنگلوں کو علامتی طور پر نیلام کرنے کا اعلان کیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: برسراقتدار لوگوں نے ملک کے اندر پھوٹ ڈال رکھی ہے : نیہا بورا

مرین ڈرائیو پولیس نے تقریباً ۲۰۰؍ کسانوں کو حراست میں لیا لیکن ان کے لیڈر روی کانت توپکر صبح سے ناٹ ریچ ایبل تھے۔ توپکر نے  پولیس سے بچتے ہوئے وزراء کے سرکاری بنگلوں کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کر رہے تھے ، لیکن پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ اس موقع پر ان کے ساتھ موجود متعدد کارکنان کو بھی گاڑیوں میں بٹھا کر لے جایا گیا۔  احتجاج کے پیش نظر منترالیہ احاطے، وزراء کے سرکاری بنگلوں، اراکین اسمبلی کی رہائش گاہوں اور میرین ڈرائیو کے علاقے میں صبح سے ہی پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ کئی کارکنان کو پہلے ہی حراست میں لیا جا چکا تھا۔ پولیس نے کرانتی کاری شیتکری سنگھٹنا بلڈانہ ضلعی صدر ڈاکٹر ٹالے کو بھی حراست میں لے لیا تھا۔ تاہم، اتنی سخت سیکورٹی کے باوجود، توپکر پولیس سے بچنے میں کامیاب رہے اور احتجاج کیلئے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ توپکر نے ایک ایسے راستہ سے داخل ہوئے جہاں پولیس کی موجودگی نسبتاً کم تھی، اور اپنے کارکنان کے ساتھ وزراء کے بنگلوں کی طرف مارچ کیا۔ جیسے ہی اچانک نمودار ہو کر توپکروزراء کے بنگلوں کی طرف جانے لگے پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔

یہ بھی پڑھئے: اشوک اوئیکے کے استعفے کے مطالبے میں شدت

اس موقع پر توپکر اور کارکنان نے نعرے لگائے ’’حکومت ہم سے ڈرتی ہے، پولیس کو آگے کرتی ہے!‘‘ توپکر کو حراست میں لینے کیلئے پولیس بڑی مشقت کرنی پڑی۔ یاد رہے کہ روی کانت توپکر نے کسانوں کے مختلف زیر التوا مطالبات کو لے کر اس احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ اُن کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ جو کسان اپنے قرضے باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں انہیں ۵۰؍ہزار روپے کی مراعاتی سبسڈی کے بجائے ۲؍لاکھ روپے کی چھوٹ دی جائے۔اس کے علاوہ توپکر نے مطالبہ کیا ہے کہ اہل کسانوں کو قرض معافی کا فائدہ ملنا چاہئے۔ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں وزراء کی  رہائش گاہوں اور گاڑیوں کو علامتی طور پر نیلام کرنے کیلئے ممبئی پہنچنے کا اعلان کیا تھا  مگر پولیس نے انہیں منترالیہ پہنچنے نہیں دیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK