ایک کلو میٹر طویل میٹرو ٹریک کو توڑ کر دوبارہ بنانے کی نوبت آنے سے عوام کے ٹیکس کے ۲۵۰؍ کروڑ روپےکے نقصان کا اندیشہ۔ انتظامیہ نے ایئرپورٹ اتھاریٹی سے اونچائی میں اضافہ کی اجازت دینے کی درخواست کی۔
EPAPER
Updated: August 28, 2026, 3:19 PM IST | Shahab Ansari | Vile Parle
ایک کلو میٹر طویل میٹرو ٹریک کو توڑ کر دوبارہ بنانے کی نوبت آنے سے عوام کے ٹیکس کے ۲۵۰؍ کروڑ روپےکے نقصان کا اندیشہ۔ انتظامیہ نے ایئرپورٹ اتھاریٹی سے اونچائی میں اضافہ کی اجازت دینے کی درخواست کی۔
یہاں مشرقی جانب میٹرو ۷؍ اے کا ٹریک ’ایئر پورٹ اتھاریٹی آف انڈیا(اے اے آئی)‘ کی اجازت سے زیادہ اونچا بنا دیا گیا جس کی وجہ سے ایک کلومیٹر طویل ٹریک توڑ کر دوبارہ بنانے کی نوبت آگئی ہے۔ ایم ایم آر ڈی اے نے اس کی ذمہ داری کنسلٹنٹ کے سر ڈال دی ہے اور جمعرات کو بیان جاری کرکے کہا ہے کہ ایئرپورٹ انتظامیہ سے گفتگو جاری ہے اور حتمی فیصلے کا انتظار ہے۔ اس گڑبڑ کی وجہ سے عوام کا ڈھائی سو کروڑ روپے کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں ICE کی ریکارڈ گرفتاریاں، اکثریت کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں
جمعرات کی دوپہر ایم ایم آر ڈی اے کے میٹرو پروجیکٹ کے ڈائریکٹر بسواراج ایم بی نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’’اس پروجیکٹ کیلئے ضروری منظوریاں حاصل کرنے، متعلقہ ایجنسیوں سے تال میل، پروجیکٹ کے ڈیزائن بشمول فضائیہ سے متعلق ٹریک کی اونچائی وغیرہ کی ذمہ داری اور ٹھیکے کے انتظامات جنرل کنسلٹنٹ/انجینئر (سیسٹرا۔ سی ای جی۔ ایس ایم سی آئی پی ایل) کو دی گئی تھی۔ میٹرو کے ’اوور ہیڈ ایکویپمنٹ(او ایچ ای)‘ بچھانے کیلئے مزید اونچائی کی ضرورت کے تعلق سے کنسلٹنٹ نے صحیح وقت یعنی ڈیزائن اور منصوبہ بندی کے وقت ٹھیک طرح سے آگاہ نہیں کیا تھا۔ ‘‘ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ایم ایم آر ڈی اے فی الحال ایئر پورٹ اتھاریٹی آف انڈیا سے اس سلسلے میں گفت و شنید کررہی ہے اور اونچائی بڑھانے کی درخواست اور دیگر کسی طرح کی تبدیلی کی ضرورت کے تعلق سے حتمی فیصلے کا انتظار کیا جارہا ہے۔ ‘‘ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اے اے آئی کی حتمی رپورٹ آنے کے بعد ایم ایم آر ڈی اے جامع تکنیکی جائزہ لے گا اور پھر مستقبل کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ ‘‘
میٹرو ۷؍ اے کے ذریعہ دراصل میٹرو ۷؍ کی ہی توسیع کی جارہی ہے اور اس کا کچھ حصہ چھترپتی شیواجی مہاراج انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے ’فنل زون‘ میں آتا ہے جس کی وجہ سے ایئر پورٹ انتظامیہ نے اس کی اونچائی کی حد طے کی ہے۔ اس حصہ میں ایئر پورٹ کالونی اسٹیشن کی تعمیر کی جارہی ہے لیکن یہاں ٹریک کی اونچائی دی گئی اجازت سے تجاوز کرچکی ہے۔ اس حصہ کی تعمیر پر ۲۵۰؍ کروڑ روپے خرچ ہوچکے ہیں اور اب یہ مسئلہ پیدا ہونے کے بعد میٹرو انتظامیہ نے اے اے آئی سے درخواست کی ہے کہ وہ اونچائی میں اضافہ کی اجازت دے۔
مطلوبہ ضرورت سے کم اونچائی کی اجازت ملی تھی
میٹرو ۷؍ اے۴۲ء۳؍ کلو میٹر طویل لائن ہوگی جس کا جزوی حصہ اونچائی پر اور کچھ حصہ زیر زمین ہوگا۔ اس کے ذریعہ میٹرو نیٹ ورک کو ایئر پورٹ کے ٹرمنل ۲؍ سے جوڑا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ اسے میرا بھائندر اور میٹرو ۳ (ایکوا لائن) کی مدد سے جنوبی ممبئی سے بھی جوڑا جائے گا۔ایم ایم آر ڈی اے نے نومبر ۲۰۲۳ء میں اے اے آئی سے اونچائی کے تعلق سے اجازت طلب کی گئی تھی اور ۲؍جنوری ۲۰۲۴ء کو یہ اجازت دے دی گئی تھی لیکن اجازت ۲ء۹؍ میٹر اونچائی کیلئے دی گئی تھی جبکہ میٹرو لائن کیلئے اس سے زیادہ اونچائی کی ضرورت تھی۔ اس کے بعد اونچائی کے تعلق سے کچھ دیگر حصہ کی بھی اجازت طلب کی گئی تھی اور اس مرتبہ بھی مطلوبہ ضرورت سے کم اونچائی کی اجازت ملی تھی۔