سرمایہ کاروں کی نظر ایران-امریکہ کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں پر رہے گی۔
EPAPER
Updated: June 29, 2026, 12:53 PM IST | New Delhi
سرمایہ کاروں کی نظر ایران-امریکہ کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں پر رہے گی۔
پیر کو شروع ہونے والے نئے کاروباری ہفتے میں شیئر بازار کی سمت کا تعین بنیادی طور پر مغربی ایشیا میں پیدا ہونے والی تازہ کشیدگی، خام تیل کی عالمی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ ، غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سرگرمیاں، روپے کا اتار چڑھاؤ اور جون کے اقتصادی اعداد و شمارکریں گے۔ایران -امریکہ امن معاہدہ کے بعد گزشتہ ہفتے بازار میں تیزی دیکھی گئی تاہم آبنائے ہرمز کے تعلق سے دونوں ملکوں میں پھر جھڑپوں کی وجہ سے سرمایہ کار حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مغربی ایشیا میں کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آسکتا ہے، جس کا براہ راست اثر ہندوستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کی معیشت اور شیئر بازار پر پڑے گا۔ حالیہ دنوں میں جنگ بندی اور تیل کی فراہمی میں بہتری کے باعث قیمتوں میں نرمی آئی تھی لیکن کسی بھی نئے فوجی یا سفارتی بحران سے صورتحال دوبارہ تبدیل ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آر ٹی ای کے تحت رہائشی ثبوت دینا صرف رسمی نہیں بلکہ لازمی دستاویز ہے: ہائی کورٹ
سرمایہ کار یکم جولائی کو جاری ہونے والے آٹو کمپنیوں کے ماہانہ فروخت کے اعداد و شمار کا بھی انتظار کر رہے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے صارفین کی مانگ اور معیشت کی رفتار کا اندازہ لگایا جائے گا، جس کا اثر آٹو سیکٹر کے حصص پر پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جون میں جی ایس ٹی وصولی، مینوفیکچرنگ پی ایم آئی اور دیگر معاشی اشاریے بھی بازار کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
ماہرین کے مطابق غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں(ایف آئی آئی )کی خرید و فروخت اور روپے کی قدر بھی بازار کیلئے اہم عوامل رہیں گے۔ اگر غیر ملکی سرمایہ کاری کا سلسلہ برقرار رہا اور روپے میں استحکام آیا تو اس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت مل سکتی ہے جبکہ اس کے برعکس صورت حال میں منافع وصولی کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: لوکل ٹرین قتل کیس کا ملزم چاقو سے متعلق بار بار بیان بدل رہا ہے
مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی نے ہندوستانی بازار کو سہارا دیا ہے، لیکن عالمی جغرافیائی سیاسی حالات اب بھی غیر یقینی ہیں۔ اسی لیے آئندہ ہفتے سرمایہ کار محتاط رہیں گے اور ہر نئی عالمی پیش رفت پر ان کی گہری نظر ہوگی۔