Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلبی

Updated: June 29, 2026, 1:42 PM IST | Moinuddin Usmani | Mumbai

برسوں پہلے میں نے بزرگوں سے سن رکھا تھا کہ کتاب انسانی علم میں اضافہ کرتی ہے، اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ شاید اسی بنا پر میں نے کتب بینی کو اپنا شعار بنا لیا تھا۔ میرے دن کا بیشتر حصہ مطالعہ کی نذر ہو جایا کرتا تھا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

برسوں پہلے میں نے بزرگوں سے سن رکھا تھا کہ کتاب انسانی علم میں اضافہ کرتی ہے، اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ شاید اسی بنا پر میں نے کتب بینی کو اپنا شعار بنا لیا تھا۔ میرے دن کا بیشتر حصہ مطالعہ کی نذر ہو جایا کرتا تھا۔ بے شمار اوراق تھے جو نظروں سے گزرتے ، جس سے سرور ملا مگر کبھی کبھی ایسا بھی لگتا کہ وہ نہیں مل پا رہا ہے جو ملنا چاہیے تھا۔میں سوچنے لگتا کہ کیا یہ ورق گردانی یوں ہی گزر جائے گی ؟ پھر خیال آتا کہ نہیں کسی نہ کسی دن کوئی لفظ یا جملہ ایسا ہو گا جو ہاتھ آئے گا تو موتی لٹائے گا۔ پھر یہ خیال بھی دستک دیتا کہ مطالعہ کے ہمراہ تجربہ کاروں کی رہنمائی بھی کوئی چیز ہے ، مگر اطراف میں تو کوئی ایسا نہ تھا جو اس طویل رہ گزر کا راہی رہا ہو۔میں سوچتار ہتاکہ شاید میری تلاش ہی میں کمی ہے۔

یہ کا ئنات توبہت وسیع ہے، جہاں قدرت نے اسرار کے پردے میں خزانہ رکھ دیا ہے، جو صرف دل کی آنکھوں سے دکھائی دیتا ہے۔ میں سمجھ نہیں پاتا کہ قدرت نے چھپا کر دکھایا ہے یا دکھا کر چھپا دیا ہے۔ ممکن ہے کسی دن سر راہ چلتے چلتے کسی سے کہیں مڈ بھیڑ ہو جائے۔

کبھی یوں بھی ہوتا کہ کسی دن کوئی مصروفیت آجاتی تو طبیعت میں عجیب طرح کی بے چینی رہتی۔کام میں جی نہیں لگتا اور اکثر ایسے لمحات میں گھر کی چہار دیواری سے باہر انجانے سکون کی تلاش میں نکل جاتا۔ معمولی پگڈنڈی سے ہو کر شارع عام کی پیمائش کرتے ہوئے کبھی دور کسی سوکھے درخت کے سائے تلے تو کبھی اندھے کنویں کے چبوترے پر بیٹھ جاتا اور سوچ و فکر کے صحرا میں ادھر سے ادھر اور ادھرسے ادھر کی خاک چھانتا رہتا۔راستے میںدرخت ، ندی، نالے اور پہاڑ میری آمد پر گنگنانے لگتے مگر دوسرے ہی پل شک و شبہات اور سوالات کا ہجوم کبھی نزدیک آتا تو کبھی دور سے گزر جاتا۔ جب جب بھی میں سوال کے کسی سرے کوپکڑنے کی کوشش کرتا، شکوک و شبہات کا ہجوم نزد یک آکر شور مچاتا۔ شور شرابے میں انہیں گرفت میں لینے کی سعی کرتا تو وہ مجھ سے دور چلے جاتے اور آخرش پھر مجبور ہو کر محض جائزے پر اکتفا کرنے لگتا۔

یہ بھی پڑھئے: مانگے کی کتابیں

جب وقت کا پہیہ پر لگا کر اونچی اڑان بھرنے لگتا اور پرندوں کی چہچہاہٹ خاموشی کی رِدا میں پناہ لینے لگتی تو مجھے احساس ہوتا کہ اب بستی کی حدود میں شام کا قافلہ داخل ہونے کے در پر ہے۔ مجھے لوٹ جانا چاہئے۔ کانوں میں افراد خانہ کی سرگوشیاں سنائی دینے لگتیں۔

والد کے کھانسنے کی کُرّی آواز میں مدغم والدہ کی شکایت آمیز بڑبڑاہٹ پکارنے لگتی۔ بیوی کے طنز یہ فقروں کے درمیان بچوں کی فرمائشی گزارشات چیخ چیخ کر گھر کی دہلیز کی جانب آمادہ ہونے کے لئے متوجہ کرتیں تو قدم خود بخود کمرے کی جانب اٹھنے لگتے۔پھر میں کچھ ہی دیر میں کمرنشینی کے ساتھ سیاہ رات کی آغوش میں چلا جاتا۔

اس دن جب گھومنے کی غرض سے باہر نکلا تو آسمان پر مطلع صاف تھا۔ بارش کے آثار نہیں تھے۔ ہواؤں میں عجیب طرح کی فرحت تھی ۔ چند ہی قدم آگے بڑھائے تھے کہ مجھے وہ نظر آ گیا۔ وہ اکثر مجھے وہاں اپنے نحیف و کمزور بدن ، جس پر پھٹے پرانے کپڑے، کھچڑی بال، جو پتہ نہیں کب تراشے گئے تھے، بیٹھا دکھائی دیتا۔ حالانکہ اس کے معمولات میں تسلسل نہیں تھا۔ کبھی کبھی تو ہفتوں غائب رہتا۔ لوگ باگ نیز اطراف کے بچے کبھی اس کے ارد گرد دکھائی دیتے تو کبھی اکیلا ہی بیٹھا نظر آتا۔ کسی نے کچھ دیا تو کھا لیتا نہیں تو بس بیٹھے رہنا اس کا معمول تھا۔

میں نے اسے کسی سے زیادہ بات کرتے ہوئے بھی نہیں دیکھا تھا۔ لوگ اکثر اس سے طرح طرح کے سوالات کرتے تھے لیکن اس کے جوابات بہت مختصر ہوا کرتے تھے۔ بہت سارے سوالات کے جوابات تو وہ خاموشی کی زبان میں محض مسکرا کر دے دیا کرتا تھا۔ مجھے حیرت اس وقت ہوتی جب اس کی زبان سے بے معنی الفاظ نکل جایا کرتے تھے۔ کسی کی بھی کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ تبھی وہ زیرِ لب مسکرا کر اچٹتی سی نگاہ پاس میں بیٹھے لوگوں پر ڈالتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: روحانی تسکین کیلئے پہلے سے زیادہ اَدب اور آرٹ کی ضرورت ہے

اس روز اس نے منہ ہی منہ میں کچھ کہا تھا جو پتہ نہیں کیسے راہ چلتے ہوئے میری سماعت سے ٹکرا گیا۔تم زمین والوں پر.... آسمان والا....‘‘ مگر میری سمجھ میں نہ آسکا تھا اور میں وہاں سے چلا آیا تھا۔ اس بات کو عرصہ گزر گیا تھا مگر پتہ نہیں کیسے اس نا فہم جملے کی گونج اب بھی میرے کانوں میں تھی۔ میں موقع کی تلاش میں تھا کہ کسی دن وہ مجھے تنہا نظر آ جائے تو ضرور دریافت کروں گا۔ اس بات کو جب عرصہ گزر گیا تو وہ بات بھی ذہن سے محو ہونے لگی۔ دن گزرتے رہے۔دن رات میں اور رات دن میں تبدیل ہوتے رہے۔ سورج اور چاند ستاروں کی گردش حسب معمول جاری رہی مگر اس دن جب اچانک وہ مجھے تنہا دکھائی دیا تو وہ جملہ میری سماعت میں لوٹ آیا۔

میری خوشی کی انتہانہ رہی۔ آج اتفاق سے موقع میسر آ گیا تھا۔ ویسے اس کے اور میرے درمیان فاصلہ زیادہ نہ تھا، بمشکل دوگز کی دوری تھی لیکن پتہ نہیں کیوں یہ فاصلہ بھی میلوں کا محسوس ہورہا تھا جبکہ مستقل طور پر وہ اکثر مجھے اس پیڑ کے نیچے ہی بیٹھا نظرآتا۔ میرا جب بھی اس راستے سے گزر ہوتا ، اکثر اس پر نظر پڑتی۔ بعض اوقات میں اسے بغور دیکھتا تو کبھی کبھار ا چٹتی سی نگاہ ڈال کر آگے بڑھ جاتا۔

اس روز بھی جب میں وہاں سے گزر رہا تھا تو پتہ نہیں کیوں میرے قدم غیر ارادی طور پر اس کی جانب اٹھنے لگے تھے۔ میں آہستگی سے اس کی جانب بڑھ رہا تھا اور وہ تھا کہ اپنے خیالوں میں منہمک ، گردن جھکائے ، اپنے آپ سے محوکلام تھا۔کچھ ہی لمحوں کے بعد مجھے خیال آیا کہ یہ میں کیا کر رہا ہوں؟ مجھے اس کے پاس نہیں جانا چاہیے۔ لوگ باگ دیکھیں گے تو کیا کہیں گے؟ مگر پھر دل نے کہا: مجھے لوگوں سے کیا لینا؟ میں نے ذہن کو جھٹکادے کر قدم آگے بڑھائے۔

مگر اس کے باوجود اس کے انہماک میں کوئی فرق نہیں آیا۔ قدرے توقف کے بعد میں سوچنے لگا ، لوگ بھی عجیب ہیں، دنیا و مافیہا سے دور بے خبری میں جیتے ہیں۔ اب میں اس کے بہت قریب پہنچ چکا تھا، اتنا قریب کہ اس کی دھیمی آواز سنائی دینے لگی تھی، مگر یہ واضح نہیں ہو پارہا تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ مجھے لگا کہ روزانہ زندگی میں بے شمار آوازیں ہمارے تعاقب میں ذہن کے اطراف شور مچاتی ہیں۔ ہم کچھ سن پاتے ہیں اور کچھ نہیں۔ اس کے باوجود آوازیں کچھ نہ کچھ کہہ جاتی ہیں۔ جو آوازیں سماعت سے ٹکرا کر ذہن کو دستک دیتی ہیں، ہم تو ان آوازوں کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں، جو سماعت سے پرے رہ جائیں ان کے بارے میں غور کرنا تو گویا فضول ہے۔میں سوچنے لگا کہ آیا مجھے اس سے بات کرنی چاہئے؟ پھر غیر ارادی طور پر قریب جا کر میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔ اس نے گردن اٹھا کر میری طرف دیکھا اور مسکرا دیا  اور نہایت آہستگی سے کہہ گیا:’’غذا کے ساتھ تحفظ کے احساس نے انسان کو جانور بنا دیا ہے۔‘‘اور پھر پتہ نہیں کیوں اس نے خاموشی اختیار کر لی  اور یوں بیٹھا رہا جیسے یہاں ہو کر بھی نہ ہو۔

یہ بھی پڑھئے: مہکتے رشتے

بہت دیر تک جو کچھ نہ بولا اور انتظار کے لمحات طول پکڑنے لگے تو میں وہاں سے لوٹ آیا۔ گھر آ کر اس کے جملے پر غور کرنے لگا۔ تھوڑی ہی دیر میں یہ عقدہ کھلا کہ واقعی ہماری تمام تگ و دو تو انہی دو باتوں کے درمیان ہے۔صبح سے شام تک کھانے کے  لئے کھانا اور پھر کمانے کے لئے کھانا ، اور اپنی اور اہل وعیال کی اپنے ہی طرح کے انسانوں سے حفاظت کرنا ۔ مگر یہ کام تو جانور بھی انجام دیتے ہیں۔ صبح سے شام تک غذا کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں اور خود کی جان بچاتے ہیں اور آخر ایک دن اسی جدو جہد میں فوت ہوجاتے ہیں۔

میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ دونوں میں فرق کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ ایک جنگل میں تو دوسرا گھر میں رہتا ہے۔ شاید اسی لیے اسے سماجی جانور کہا گیا تھا۔ میں خیالات کی اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ اچانک کھڑکی کے راستے نیند کی پریاں کمرے میں داخل ہو گئیں اور میرے نہ چاہنے کے باوجود مجھے اپنے ساتھ آسمانوں کی سیر کے لیے لے اڑیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: اردو زبان کس خاندان سے تعلق رکھتی ہے؟

میں فضا میں گھومتا رہا، کبھی مشرق تو کبھی مغرب کی طرف غوطے لگاتا رہا۔ جب چاروں سمتوں کی سیر ہوگئی تو آسمان میں موجود سورج نے روپہلی کرن کی روشنی میں مجھے دیکھا، میں ہڑ بڑا کے اٹھ بیٹھا۔بغیر کچھ کھائے پیے لب سڑک نکل پڑا اور چلتے چلتے پھر وہیں پہنچ گیا۔وہ اب بھی اسی طرح بیٹھا تھا، مانو میرا ہی انتظار کر رہا ہو۔ مجھے نہیں معلوم ، مجھے دیکھتے ہی کسی طرح اس کی آواز میں شدت آگئی اور کہنے لگا: ’’تم زمین والوں پر رحم کرو تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔‘‘یہ سن کر مجھے ایسا لگا جیسے مجھے انسان بننے کی کلید مل گئی ہے۔ غیر ارادی طور پر میری آواز کمرے سے باہر چلی گئی تو دیکھا، میں تو اپنے ہی کمرے میں ہوں ، جہاں صرف میں ہوں اور میرے سوا کوئی نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK