Inquilab Logo Happiest Places to Work

آر ٹی ای کے تحت رہائشی ثبوت دینا صرف رسمی نہیں بلکہ لازمی دستاویز ہے: ہائی کورٹ

Updated: June 29, 2026, 10:28 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

عدالت نے طلبہ کے والدین کے ذریعہ رہائشی ثبوت دینے میں ناکامی پر آر ٹی ای کے تحت اسکول انتظامیہ کے ذریعہ داخلہ نہ دینے کے فیصلہ کو درست قرار دیا۔

Bombay High Court building. Photo: INN
بامبے ہائی کورٹ کی عمارت۔ تصویر: آئی این این

اسکول میں رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ کے تحت ۲۵؍ فیصد کوٹہ میں رہائشی پتہ کی ٹھوس تفصیلات فراہم نہ کرنے والے طلبہ کو داخلہ نہ ملنے پر اس کے والد نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا ۔ تاہم کورٹ نے یہ کہتے ہوئے اسکول انتظامیہ کے فیصلہ کو درست قرار دیا کہ ’’ آر ٹی ای کے تحت داخلہ کی شرطوں میں ٹھوس رہائشی دستاویز دینا رسمی نہیں بلکہ لازمی عمل ہے ۔‘‘ یہی نہیں کورٹ نے مذکورہ معاملہ میں مزید شنوائی کرنے سے انکار کرتے ہوئے درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ پونے کے رہنے والے سندیپ ساٹھے نےبامبے ہائی کورٹ کے کار گزار چیف جسٹس کے روبرو عرضداشت داخل کرتے ہوئے بتایا کہ پونے کی پودار انٹر نیشنل اسکول نے ۲۵؍ فیصد کوٹہ میں آر ٹی ای کے تحت میرے بیٹے کو داخلہ دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ انہوںنے یہ بھی دعویٰ کہ وہ اسکول سے چند منٹ کی دوری پر کرایہ کے مکان میں رہتے ہیںاورکرایہ کے مکان میں رہنے کا رہائشی ثبوت دینے کے باوجود اسکول انتظامیہ نےداخلہ دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ درخواست گزار نے اسکول انتظامیہ کے ذریعہ آر ٹی ای کے تحت داخلہ حاصل کرنے کیلئے آن لائن کی گئی درخواست کو مسترد کرنے کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ایک بچےکو تعلیم سے محروم کرنے کا بھی الزام لگایا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹی ای ٹی پیپر لیک پر اپوزیشن کی تنقید، شدید برہمی کا اظہار

عرضداشت گزار کا یہ بھی الزام تھا کہ اسکول انتظامیہ نے رہائشی پتہ کے لئے دیئے گئے دستاویزات میں جو تضاد بتایا ہے وہ بے بنیاد اور جھوٹا ہے اور یہ کہ غلط رہائشی پتہ کا جواز پیش کرکے اسکول انتظامیہ ایک بچےکو اس کے تعلیمی حق سے اور آر ٹی ای کے تحت ملنے والے داخلہ سے محروم نہیں کر سکتا ہے ۔اس پرحکومت کی پیروی کرتے ہوئے وکیل کیدار دیگھے نے کار گزار چیف جسٹس رویندر گھوگے اور جسٹس گوتم انکھڈ کو بتایا کہ ’’ گوگل میپ کے مطابق اسکول انتظامیہ نے مذکورہ رہائشی پتہ کا جائزہ لیا تھا لیکن جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ سڑک کے کنارے ایک چھوٹا سا روم ہے جس میں درخواست گزار کی والدہ کھانے کا ٹھیلہ چلاتی ہے،اس لئے اسے رہائشی مکان نہیں کہا جاسکتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر: کل سے ’بی ایل او‘ گھر گھر جاکر سروے کریں گے

وہیں کورٹ کو یہ بھی بتایا گیا کہ درخواست گزار نے آن لائن داخلہ فارم بھرتے وقت جو آدھار کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ دیا ہے اس پتہ میں بھی تضاد ہے۔بعد ازیں دونوں فریق کی جرح سننے کے بعد کار گزار چیف جسٹس نے کہا کہ ’’ آر ٹی ای کے تحت طالب علم کا  داخلہ لینا جس طرح اس کا حق ہے ، اسی طرح آر ٹی ای کے قواعد کے مطابق رہائش سے متعلق ٹھوس دستاویز دینا یا ہونا صرف رسمی نہیں بلکہ لازمی ہے ۔‘‘ کورٹ نے اسکول انتظامیہ کے فیصلہ کو درست قرار دیتے ہوئے درخواست پر مزید سماعت کرنےسے انکار کر دیا اور عرضداشت کو خارج کردیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK