Inquilab Logo Happiest Places to Work

پانی میں رہنے سے سکون، باہر آتے ہی جسم میں جلن، ۱۶؍سالہ اقبال کی عجیب بیماری

Updated: August 10, 2026, 8:08 PM IST | Kolkata

مغربی بنگال کے مرشدآباد میں ۱۶؍سالہ اقبال کی عجیب کیفیت نے سب کو حیران کردیا ہے، جس میں پانی سے باہر آتے ہی اس کے پورے جسم میں شدید جلن اور تکلیف شروع ہوجاتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ علامات کسی نایاب جلدی عارضے سمیت کئی طبی وجوہات کی جانب اشارہ کرسکتی ہیں، تاہم حتمی تشخیص کیلئے مکمل طبی معائنہ ضروری ہے۔

Iqbal can be seen in the pond. Photo: Instagram
اقبال کو تالاب میں دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: انسٹاگرام

زیادہ تر لوگوں کیلئے تالاب میں تیراکی کے بعد باہر نکلنے کا مطلب تولیہ اٹھانا ہوتا ہے، لیکن مغربی بنگال کے مرشدآباد سے تعلق رکھنے والے ۱۶؍ سالہ لڑکے کیلئے پانی سے باہر آنا پورے جسم میں شدید جلن اور تکلیف کا باعث بن جاتا ہے۔ مرشدآباد کے۱۶؍ سالہ اقبال کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ طویل وقت تک تالاب میں رہتا ہے، کیونکہ پانی میں رہنے سے اسے سکون ملتا ہے، جبکہ پانی سے باہر آتے ہی اسے شدید تکلیف شروع ہوجاتی ہے۔ اقبال شیخ کی کہانی میں سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہاں پانی بیک وقت مسئلہ بھی ہے اور پناہ بھی۔ ایک ایسی کیفیت جو کسی حد تک اس تجربے سے مشابہ ہوسکتی ہے، اسے ’ڈِس اِس تھیژیا‘ (dysesthesia) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک نایاب عارضہ ہے جس میں پانی کے رابطے کے بعد شدید خارش، سوئیاں چبھنے، ڈنک لگنے یا حتیٰ کہ جلن جیسا احساس ہوسکتا ہے، جبکہ جلد پر اکثر کوئی نمایاں تبدیلی نظر نہیں آتی۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں ایشیائی شیروں کی تعداد ۱۰؍ سال میں بڑھ کر ۸۹۱؍ ہوئی: وزیرِ جنگلات

کچھ لوگوں میں یہ تکلیف پانی سے باہر نکلنے کے بعد زیادہ محسوس ہوتی ہے، جب جلد خشک ہونا شروع ہوتی ہے۔ تاہم اقبال کے معاملے میں صورت حال قدرے مختلف ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پانی سے باہر نکلنے پر جلن شروع ہوجاتی ہے اور پانی میں ڈوبے رہنے سے ہی اسے سکون ملتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اقبال کو ایکواجینک پروریٹس ہی ہے۔ اس کی کیفیت اس عارضے کی عام علامات سے مطابقت نہیں رکھتی، کیونکہڈِس اِس تھیژیا میں عموماً پانی خود علامات کو متحرک کرتا ہے۔ تاہم، شدید جلن اور تکلیف کی یہ مماثلت اور علامات ظاہر ہونے کا وقت اس عارضے کو سمجھنے کے قابل ضرور بناتا ہے، خاص طور پر اقبال کے معاملے کو دیکھتے ہوئے۔ اس کے اہل خانہ اس کیفیت کو کسی مافوق الفطرت اثر سے جوڑتے ہیں، لیکن ممکن ہے کہ اس کے پیچھے کوئی جسمانی یا طبی وجہ ہو۔ تاہم مناسب طبی معائنے کے بغیر اس کی علامات کی اصل وجہ کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔ پونے کی ماہر امراضِ جلد ڈاکٹر کریتیکا شرما نے کہا، ’’ایکواجینک پروریٹس میں سب سے زیادہ الجھن کی بات یہ ہے کہ مریض کو شدید تکلیف محسوس ہوسکتی ہے، حالانکہ جلد بالکل معمول کے مطابق دکھائی دیتی ہے۔ ‘‘عام جلدی الرجی کے برعکس اس مسئلے کی وجہ لازماً پانی میں موجود کوئی چیز نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ۲۰۰؍ طالبات میں سائیکلیں تقسیم کیں

جلد میں جلن کیوں ہوتی ہے؟
ڈاکٹروں کے پاس ابھی تک اس بات کی مکمل وضاحت موجود نہیں ہے کہ ڈِس اِس تھیژیاکیوں ہوتا ہے۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ پانی سے جلد کا رابطہ اعصاب یا جلد میں موجود دیگر نظاموں کے غیر معمولی ردِعمل کو متحرک کرتا ہے، جس کے نتیجے میں خارش، سوئیاں چبھنے یا جلن جیسا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ علامات مختلف اقسام اور مختلف درجۂ حرارت کے پانی سے بھی ظاہر ہوسکتی ہیں۔ اس لئے صرف ٹھنڈے پانی کی جگہ گرم پانی استعمال کرنا ضروری نہیں کہ مسئلے کو حل کردے۔ ڈاکٹر شرما نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’ڈِس اِس تھیژیامیں پانی کے جلد سے رابطے کے بعد ایسا احساس پیدا ہوسکتا ہے، لیکن عام الرجی کی طرح جلد پر کوئی واضح علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ ‘‘ایکواجینک پروریٹس کو ایک غیر معمولی عارضہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، شدید نوعیت کی صورت میں یہ روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکتا ہے، خصوصاً نہانے، تیراکی اور ورزش کے دوران۔ جلد پر کسی قسم کے دانے یا نشان نہ ہونے کی وجہ سے اس کیفیت کی تشخیص مزید مشکل ہوسکتی ہے۔ مریض کو شدید خارش یا جلن محسوس ہوسکتی ہے، جبکہ جلد بظاہر بالکل صحتمند دکھائی دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رائے گڑھ: اسکولی طالبات کی خستہ حال سڑک کی رپورٹنگ کا ویڈیو وائرل

کیا یہ نفسیاتی عارضہ ہوسکتا ہے؟
ڈاکٹر پریانکا ہیمراجانی، سینئر کنسلٹنٹ برائے امراضِ جلد، کے مطابق ان علامات کی کئی ممکنہ وجوہات ہوسکتی ہیں اور مریض کا معائنہ کیے بغیر اصل وجہ معلوم کرنا مشکل ہے۔ ڈاکٹر ہیمراجانی کہتی ہیں، ’’بعض اوقات اس میں نفسیاتی عنصر بھی شامل ہوسکتا ہے، جہاں ذہنی دباؤ یا بے چینی علامات کو مزید شدید محسوس کراسکتی ہے۔ ایسی صورت میں جسمانی علامات کے علاج کے ساتھ ادراکی رویہ جاتی تھیراپی (CBT) اور بے چینی پر قابو پانے کے دیگر طریقے بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ ‘‘ڈاکٹر نے یہ بھی کہا کہ الرجی بھی اس کی ایک ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے، جبکہ اگر جلد پر کوئی واضح تبدیلی نظر نہ آئے تو جلد یا کنیکٹیو ٹشو سے متعلق دیگر بیماریوں کو بھی مدِنظر رکھنا ضروری ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر ہیمراجانی نے وضاحت کی، ’’کبھی کبھی مریض کو شدید علامات ہوسکتی ہیں، حالانکہ جلد پر بظاہر کچھ بھی غیر معمولی نظر نہیں آتا۔ ایسی صورت میں ہمیں محض جلد کی ایک عام بیماری سے آگے سوچنا اور دیگر امکانات کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ناسک ضلع میں زلزلے کے جھٹکوں سے سراسیمگی

وٹامن کی کمی بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے
ڈاکٹر کے مطابق وٹامنز کی کمی بھی جلد میں بعض طرح کے غیر معمولی احساسات اور علامات کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لئے اگر علامات مستقل رہیں تو خون کے ٹیسٹ اور مکمل طبی معائنہ مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ لہٰذا علاج کا انحصار مکمل طور پر طبی معائنے کے نتائج پر ہوگا۔ ڈاکٹر ہیمراجانی کہتی ہیں، ’’اگر کسی بنیادی وٹامن کی کمی، الرجی یا کسی دوسری طبی بیماری کا پتہ چلتا ہے تو اسی کے مطابق علاج کیا جائے گا۔ اگر نفسیاتی عوامل علامات میں اضافے کا سبب بن رہے ہوں تو ان عوامل پر توجہ دینا بھی علاج کا اہم حصہ ہوسکتا ہے۔ ‘‘ڈاکٹر نے مزید کہا کہ اس نوعمر لڑکے میں بیان کی گئی علامات غیر معمولی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’اپنی۱۰؍ سالہ طبی پریکٹس میں، میں نے ذاتی طور پر اس طرح کی علامات والا کوئی کیس نہیں دیکھا۔ یہ یقینی طور پر ایسا معاملہ ہے جس کا مناسب طبی معائنہ ضروری ہے، بجائے اس کے کہ فوراً اسے کسی خاص نایاب بیماری سے منسوب کردیا جائے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK