Inquilab Logo Happiest Places to Work

خاتون مائو نواز کمانڈر ارمیلا کی خود سپردگی، ۱۳؍ سال سے سرگرم تھی

Updated: April 26, 2026, 10:54 AM IST | Mumbai

صرف ۱۵؍ سال کی عمر میں بندوق اٹھانے والی ارمیلا کے ہتھیار ڈال دینے سے مان پور میں نکسل واد ختم ہو گیا۔

Urmila alias Tatki. Photo: INN
ارمیلا عرف ٹیٹکی۔ تصویر: آئی این این

۱۳؍ سال ماؤنوازوں کے پرتشدد راستے پر چلنے کے بعد، چھتیس گڑھ کے موہلا۔مان پور۔امبا گڑھ چوکی ضلع کی آخری فعال کیڈر کہلانے والی کمانڈر ارمیلا عرف ٹیٹکی (۲۸) نے بالآخر۲۴؍ اپریل کو پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی۔ ارمیلا کے ہتھیار ڈالنے کے بعد موہلا۔مان پور۔امبا گڑھ چوکی ضلع، جو ۲۰۲۲ء میں روشنی میں آیا تھا ماؤنوازوں سے پاک ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دھولیہ کے مولوی گنج سے لاپتہ ۶؍ سالہ محمد عمر کی ۳؍ ماہ بعد بھی کوئی خبر نہیں

  مان پور تعلقہ کے گاؤں مونجال کی رہنے والی، ارمیلا کا تعلق جنکو نامی ایک شدید ماؤنواز سے اس وقت ہوا جب وہ صرف ۱۵؍ سال کی تھی۔ چھوٹی عمر میں، اسے بسترکے علاقے کوالی بیڈا لے جایا گیا اور ایک مسلح تنظیم میں بھرتی کر لیا گیا ۔ اسے ہتھیار چلانے سے لے کر قتل تک کی تربیت دی گئی ۔ وہ گزشتہ ۱۳؍ سال سے راؤگھاٹ ایریا کمیٹی میں سرگرم تھی۔ ارمیلا کا ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ بہت سنسنی خیز تھا۔ کچھ دن پہلے وہ کوئی اشارہ دیئے بغیر تنظیم سے نکل گئی۔ بغیر کوئی ہتھیار لئے، وہ بستر کے گھنے جنگلوں سے ہوتی ہوئی مان پور کی طرف پیدل چلی گئی۔ ایک طرف سیکوریٹی فورس کا خوف اور دوسری طرف تنظیم سے اپنی جان کو خطرہ، وہ موت سے بچتے ہوئے ضلعی ہیڈ کوارٹر پہنچی اور خود سپردگی کی خواہش ظاہر کی۔ارمیلا نے پوچھ تاچھ کے دورانبتایا کہ ڈیڑھ ماہ قبل اس کی ملاقات ماؤ نواز چندر اور روپی سے ہوئی تھی۔ روپی ایک انکاؤنٹر میں مارا گیا، لیکن چندر اب بھی بستر کے علاقے میں اپنے ۱۰؍ تا ۱۲؍ ساتھیوں کے ساتھ سرگرم ہے،۔ اس اطلاع نے سیکوریٹی فورس کو چوکنا کردیا ہے۔ارمیلا راؤگھاٹ ایریا کمیٹی کی ایک سرگرم ماؤنواز رکن تھی، جس میں وہ کمانڈر کے طور پر کام کرتی تھی۔ اس کے سر پر ۵؍لاکھ روپے کا انعام تھا۔ اس کے ہتھیار ڈالنے کے بعد اب اس علاقے میں تنظیم کا نیٹ ورک ختم کر دیا گیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK