کہا : ان کے پونے آنے سے یہ لوگ اتنے ڈرے ہوئے کیوں ہیں۔ شیوسینا (یوبی ٹی ) کے لیڈر سنجے راؤت نے کہا : یہاں سے طلبہ کی گونج پورے ملک میں پہنچے گی۔ وزیراعلیٰ نے الزام لگایا کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا والوں کو بھی پیسے دے کر مدعو کیا گیا تھا ۔ اس کی جانچ کی جائے گی۔
پونے میں ’’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام میں بڑی تعداد میں طالبات بھی شریک ہوئی تھیں۔ تصویر: پی ٹی آئی
پونے میں ’’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام پرطالبات نے راہل گاندھی کی تعریف کی اور ان پر بی جے پی کی تنقیدوں کا جواب بھی دیا۔ اسی طرح ان کے حامیوں نےکہا کہ راہل گاندھی عوامی مسائل، بے روزگاری اور آئینی اداروں کی آزادی کی کھل کر بات کرتے ہیں جبکہ مخالفین کا یہ ماننا ہے کہ راہل گاندھی کے دورے محض سیاسی پروپیگنڈاہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: مسلمانوں کو وضو، ایشیائی برادریوں کو چاول دھونے میں پانی بچانے کا مشورہ
راہل گاندھی کا یہ پیڈ پبلسٹی ایونٹ ہے، اس کی جانچ ہوگی:دیویندر فرنویس
اس پروگرام کے بارے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے کانگریس پر سنگین الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ پونے میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے پروگرام میں آنے والی۹۰؍ سے ۹۵؍ فیصد لڑکیاں کانگریس لیڈروں کے کالجوں کی ہیں۔ ان لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا والوں کو بھی پیسے دے کر مدعو کیا گیا تھا ساتھ ہی بی جے پی کے ترجمان نوناتھ بان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی بھی جانچ کی جائے گی۔ریاستی وزیرمحصولات چندرشیکھر باونکلے نے الزام لگایا ہے کہ نوجوانوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کرکے ملک بھر میں راہل گاندھی اس طرح کی نوٹنکی کر رہے ہیں ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ دم توڑتی ہوئی کانگریس کو زندہ کرنے کے مقصد سے طلبہ کو سیاست کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ نوجوانوں کو آگے لا کر تصادم کی صورتحال پیدا کی جائے اور اس سے سیاسی فائدہ اٹھایا جائے۔ نوجوانوں کو سیاست کیلئے اکسانے کی بجائے انہیں سائنس، ٹیکنالوجی اور ترقی کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے۔
پروگرام میں شریک طالبات کاردعمل
راہل گاندھی کے اس پروگرام میں سوشل میڈیا والوں کو۲۵،۲۵؍ ہزار روپے دے کر مدعو کرنے کے الزام پر ایک طالبہ نے کہا کہ اس طرح کی حرکتیں بی جے پی والے کر سکتے ہیں۔ ان کا آئی ٹی سیل غلط پروپیگنڈاکرتا ہے۔ دراصل کون کس کس کو خریدتا ہے، یہ پورا مہاراشٹر اور پورا ملک جانتا ہے۔ انہوں نے’ پناس کھوکے ایک دم اوکے‘کی مثال دی۔اس طالبہ نے کہا کہ کانگریس بہت اچھی پارٹی ہے۔دوسری طالبہ نے کہا کہ راہل گاندھی کے پونے میں آنے سے بی جے پی والوں کو اتنا خوف کیوں ہے، یہ لوگ اتنے ڈرے ہوئے کیوں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: لوک سبھا اجلاس ملتوی مگر اب بھی جاری!
ناندیڑ سے تعلق رکھنے والی طالبہ نے نیٹ پیپر لیٖک ہونے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ اس معاملے کی جڑوں تک پہنچنا چاہئے اور راہل گاندھی کو چاہئے کہ وہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچے اور اس کے تار کہاں کہاں تک جڑے ہیں، اسے بے نقاب کریں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگلے وزیراعظم راہل گاندھی ہوں گے۔ایک طالبہ نے کہا کہ بس ہو گیا مودی مودی مودی، ہمیں مودی نہیں چاہئے، ہمیں راہل گاندھی چاہئے کیونکہ ہمیں ہمارا ایجوکیشن سسٹم درست کرنا ہے۔
’’بی جے پی اس پروگرام سے خوفزدہ ہے‘‘
شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے اس بارے میں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) اس پروگرام سے خوفزدہ ہے۔ اس پروگرام میں ہزاروں طلبہ بالخصوص طالبات نے شرکت کی اور راہل گاندھی سے گفتگو کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پونے ایک ایسی جگہ ہے جہاں سے آزادی کی چنگاری بھی نکلی تھی ۔ یہاں سے طلبہ کی گونج پورے ملک میں پہنچے گی اور اسی کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی )خوفزدہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اُردو سے تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر پھر ایکسائز افسر اور اب ڈی ایس پی تک کا شاندار سفر
’’پروگرام نے بی جے پی کو ہلا کر رکھ دیا ہے‘‘
پونے کے پروگرام پر مخالفین کی سخت تنقیدوں پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کانگریس کے قومی سیکریٹری سچن ساونت نے کہا کہ بی جے پی پونے میں راہل گاندھی کے ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام سے گھبرا گئی ہے۔ انہوں نےدعویٰ کیا کہ راہل گاندھی کی نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مقبولیت سے بی جے پی والوں کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ میٹرو کو بند کرنے، کئی پابندیاں عائد کرنے اور غنڈہ گردی کا سہارا لینے کے باوجود بڑی تعداد میں نوجوان خواتین نے پروگرام میں شرکت کی۔اس کامیاب پروگرام نے بی جے پی کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور فرنویس کو راتوں کو نیند نہیں آئی۔ لیکن یہ خوف اچھا ہے۔‘‘