ہندوستان کی نمائندگی کے بعد بھی اگر مجھے اپنی شہریت ثابت کرنے کیلئے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے، توعام شہری کا کیا حال ہوگا؟: نودیپ سُوری۔
EPAPER
Updated: August 24, 2026, 11:37 AM IST | Agency | New Delhi
ہندوستان کی نمائندگی کے بعد بھی اگر مجھے اپنی شہریت ثابت کرنے کیلئے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے، توعام شہری کا کیا حال ہوگا؟: نودیپ سُوری۔
پنجاب میں جاری ایس آئی آرمیں ایک سابق سفارت کار کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ آسٹریلیا میں ہندوستان کے ہائی کمشنر اور متحدہ عرب امارات و مصر میں سفیر رہ چکے نودیپ سوری نے ووٹر لسٹ میں اصلاح سے متعلق اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے عمل پر سنگین سوالات قائم کئے ہیں۔انہوں نے ایکس پر اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے اس نظام میں شفافیت اور واضح معلومات کی کمی کا الزام عائد کیا۔انہوں نے شہریت ثابت کرنے کیلئے’’غیر واضح دستاویزات‘‘ طلب کیے جانے پر بھی سوال اٹھایا، جبکہ وہ۳؍ ممالک میں ہندوستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی پربی جے پی کی تنقید، جواب طالبات نے دیا
نودیپ سوری نے بتایا کہ پنجاب میں ایس آئی آر کے عمل کے دوران وہ بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) کے پاس گئے اور اپنا ووٹر آئی ڈی اور آدھار کارڈ جمع کرایا، جہاں انہیں یقین دلایا گیا کہ سب کچھ درست ہے۔تاہم، بعد میں ایک رضاکار کے ذریعے انہیں اطلاع ملی کہ ان کی معلومات۲۰۰۳ء کی ووٹر لسٹ سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ اس کے بعد بی ایل اونے انہیں ایک نوٹس دیا اور ایسے دستاویزات پیش کرنے کو کہا، جن سے ان کی ہندوستانی شہریت ثابت ہو سکے۔سابق سفیر نے کہا کہ۲۰۰۳ء میں وہ بیرونِ ملک تعینات تھے، اسلئے ہندوستان میں موجود نہیں تھے۔ اس پر ان سے شہریت کے ثبوت کے طور پر پاسپورٹ مانگا گیا۔ اس عمل پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے نودیپ سوری نے لکھا، ’’۳؍ ممالک میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے کے بعد بھی اگر مجھے اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے، تو ملک کے عام شہری کا کیا حال ہوگا؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’ہندوستان کا خلائی پروگرام نمایاں طور پر وسیع ہوا ‘‘
کون ہیں نودیپ سنگھ سُوری؟
نودیپ سنگھ سُوری سبکدوش سفارت کار ہیں، وہ انڈین فارین سروس میں ۳۶؍سال خدمات انجام دے چکے ہیں۔ آسٹریلیا میں ہندوستان کے ہائی کمشنر اور مصر اور متحدہ عرب امارات میں سفیر بھی رہ چکے ہیں۔علاوہ ازیں دمشق، واشنگٹن، دارالسلام اور لندن میں ہندوستانی مشن میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔جوہانسبرگ میں ہندوستان کے قونصل جنرل بھی رہے ہیں۔ اب وہ عالمی امورکے تجزیہ کار ہیں، وہ اپنے مضامین اور تبصروں میں ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے پر تنقید کرچکے ہیں اور اسرائیل کے فلسطین پر قبضے اور غزہ میں اس کی ظالمانہ کارروائیوں پر بھی کھل کر مذمت کرچکے ہیں۔