Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیفا ورلڈکپ کا ’خوف کے ماحول‘ میں آغاز، امیگریشن کریک ڈاؤن کے خطرات برقرار: ایچ آر ڈبلیو رپورٹ

Updated: June 12, 2026, 10:06 PM IST | Washington

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے آغاز کے ساتھ ہی ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے ۷۹ صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ورلڈ کپ کا آغاز امریکہ کی جارحانہ امیگریشن کریک ڈاؤن، صحافتی آزادی کو لاحق خطرات اور فیفا کی اپنے انسانی حقوق کے وعدوں کو برقرار رکھنے میں ناکامی کے باعث ”خوف کے ماحول“ میں منعقد ہو رہا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کا آغاز جمعرات کو میکسیکو سٹی اسٹیڈیم میں ایک شاندار افتتاحی تقریب کے ساتھ ہوا، جس کے بعد شریک میزبان میکسیکو نے گروپ اے کے افتتاحی میچ میں جنوبی افریقہ کو ۲-صفر سے شکست دی۔ ٹورنامنٹ کے آغاز کے ساتھ ہی ’ہیومن رائٹس واچ‘ (ایچ آر ڈبلیو) نے ۷۹ صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں خبردار کیا گیا کہ ورلڈ کپ کا آغاز امریکہ کی جارحانہ امیگریشن کریک ڈاؤن، صحافتی آزادی کو لاحق خطرات اور فیفا کی اپنے انسانی حقوق کے وعدوں کو برقرار رکھنے میں ناکامی کے باعث ”خوف کے ماحول“ میں منعقد ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مشرق وسطیٰ تنازع عالمی ترقی کو کورونا کے بعد کی نچلی سطح پر لے آئےگا: ورلڈ بینک

ایچ آر ڈبلیو کے گلوبل انیشی ایٹوز کی ڈائریکٹر منکی ورڈن نے کہا کہ ”یہ انسانی حقوق کے فریم ورک کے ساتھ ہونے والا تاریخ کا پہلا ورلڈ کپ ہونا تھا، لیکن امریکی انتظامیہ کے ظالمانہ امیگریشن کریک ڈاؤن، امتیازی پالیسیوں اور پریس کی آزادی کو لاحق خطرات کا مطلب یہ ہے کہ محرومی اور خوف کے، اس ٹورنامنٹ کی پہچان بننے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔“ ہیومن رائٹس واچ نے فیفا پر الزام لگایا کہ اس نے ٹورنامنٹ کی منصوبہ بندی میں انسانی حقوق کے تحفظات کو شامل کرنے کے وعدوں کے باوجود، شائقین، ورکرز اور صحافیوں کے تحفظ کیلئے امریکی انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کیلئے بہت کم کوششیں کی ہیں۔ گروپ نے فیفا سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک ”آئی سی ای صلح نامہ“ (ICE Truce) حاصل کرے جو اس بات کی ضمانت دے کہ امیگریشن حکام ورلڈ کپ کے مقامات پر کریک ڈاؤن نہیں کریں گے۔

یہ خدشات محض خیالی نہیں ہیں۔ عراقی فٹ بالر ایمن حسین کو امریکہ پہنچنے پر حراست میں لیا گیا اور تقریباً ۷ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ صومالی ریفری عمر ارتان، جو فیفا ورلڈ کپ کیلئے منتخب ہونے والے تاریخ کے پہلے صومالی آفیشل ہیں، کو امریکہ میں داخلے کی سرے سے اجازت ہی نہیں دی گئی۔ ایران کی قومی ٹیم کو اپنا ٹریننگ بیس میکسیکو میں قائم کرنے اور صرف میچوں کیلئے امریکہ سفر کرنے پر مجبور کیا گیا۔ جنوبی افریقہ نے ویزا میں تاخیر کی اطلاع دی، جبکہ ازبکستان اور سینیگال کو وسیع سیکوریٹی اسکریننگ (جانچ پڑتال) سے گزرنا پڑا۔ متعدد ممالک کے شائقین کو ویزا کے حصول میں شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ، آسٹریلیا اور کنیڈا کا دو ریاستی حل کیلئے مشترکہ فنڈ قائم کرنے کا اعلان

امریکی انتظامیہ کے اس رویے پر ایچ آر ڈبلیو کے علاوہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی مارچ میں اسی طرح کے خدشات اٹھائے تھے۔ بین الاقوامی تنظیم نے اپنی رپورٹ بعنوان ”انسانیت کی جیت ہونی چاہئے“ (Humanity Must Win) میں خبردار کیا تھا کہ لاکھوں فٹبال شائقین کو سخت امیگریشن پالیسیوں اور سیکوریٹی کے سخت اقدامات کے نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے بھی امریکی امیگریشن اور سیکوریٹی پالیسیوں پر ”بڑے پیمانے پر نظرِ ثانی“ کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ نسلی بنیادوں پر کی جانے والی پروفائلنگ اور نگرانی کے اثرات ٹیموں، آفیشلز اور حامیوں پر ابھی سے پڑ رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK