شہر کی ایک سوسائٹی کو بلڈنگ کے زینوں کے درمیان جگہ میں سائیکل کھڑی کرنے پرعجیب و غریب جواز پیش کرکے۲؍ مکینوں پر لاکھوں روپے جرمانہ عائد کرنا اس وقت مہنگا پڑا جب بامبے ہائی کورٹ نے سخت سرزنش کرتے ہوئے جرمانہ رد کر د یاساتھ ہی سوسائٹی کے عہدیداران کو اپنے اختیارات کا بے جا اور غلط استعمال کرنے سے باز رہنے کی ہدایت دی ہے۔
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این
شہر کی ایک سوسائٹی کو بلڈنگ کے زینوں کے درمیان جگہ میں سائیکل کھڑی کرنے پرعجیب و غریب جواز پیش کرکے۲؍ مکینوں پر لاکھوں روپے جرمانہ عائد کرنا اس وقت مہنگا پڑا جب بامبے ہائی کورٹ نے سخت سرزنش کرتے ہوئے جرمانہ رد کر د یاساتھ ہی سوسائٹی کے عہدیداران کو اپنے اختیارات کا بے جا اور غلط استعمال کرنے سے باز رہنے کی ہدایت دی ہے۔
دھن لکشمی کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی کے مکین یوگنی اور سیجل نے ہائی کورٹ کی سنگل بنچ کے جسٹس سندیپ مارنے کے روبرو بلڈنگ کے پیسیج میں سائیکل کھڑی کرنے پر سوسائٹی کے ذریعہ ۱۱؍ سال کیلئے ۱۵؍ لاکھ ۴۵؍ہزار۷۳۰ ؍ روپے جرمانہ عائدکرنے اور سوسائٹی کے فیصلے کو ڈسٹرکٹ ڈپٹی رجسٹرارکےذریعہ جائز قراردینے کے خلاف عرضی داخل کی تھی۔وکلاء عاصم نپھاڑے اورلینا شاہ نے کورٹ کو بتایا کہ سوسائٹی میں سائیکل زینوں کے پیسیج میں کھڑی کی جاتی تھی جس سے آنے جانے میں کسی کو کوئی دقت نہیں تھی۔ سوسائٹی نے سائیکل کھڑی کرنے کی پاداش میں جو رقم عائد کی ہے ، وہ نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ اپنے اختیارات کا بے جا استعمال ہے اور مکینوں کو ہراساں کرنا ہے۔
سوسائٹی نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزارکوسائیکل ہٹانےکیلئےبارہا درخواست کی گئی تھی اور نہ ماننے پر جرمانہ کا انتباہ دیا تھا نیز جرمانہ کی رقم حاصل کرنےکیلئے ڈسٹرکٹ رجسٹرار میں شکایت کی گئی تھی۔تاہم کورٹ نے دونو ں فریق کی بحث سننے کے بعد سو سائٹی اور رجسٹرار کے فیصلہ پر ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ’’بلڈنگ پیسیج میں سائیکل کھڑی کرنے کیلئے جولاکھوں روپے کا جرمانہ عائد کی گئی ہے، کیا اسے قبول کیا جاسکتا ہے ۔ جرمانہ عائد کرنے کے لئے کوئی معقول رقم تجویز کی جاتی تو یہ مان لیا جاتا کہ مکینوں کو سبق سکھانے کیلئے یہ قدم اٹھایا گیاہے لیکن سوسائٹی نے اپنے اختیارا ت کا غلط استعمال کیا ہے۔