۱۰۲؍سال پرانے بائیکلہ پولیس اسٹیشن میں اتوار کو لگنے والی آگ پر نصف گھنٹے میں تو قابو پالیا گیا تھا لیکن گراؤنڈ پلس ایک منزلہ عمارت میں اس حادثہ کے سبب کئی کمپیوٹرس اور فرنیچر ہی نہیں بلکہ کئی کیسز کی فائلیں اور اہم دستاویزات خاکستر ہوگئے۔
EPAPER
Updated: July 28, 2026, 12:26 PM IST | Mumbai
۱۰۲؍سال پرانے بائیکلہ پولیس اسٹیشن میں اتوار کو لگنے والی آگ پر نصف گھنٹے میں تو قابو پالیا گیا تھا لیکن گراؤنڈ پلس ایک منزلہ عمارت میں اس حادثہ کے سبب کئی کمپیوٹرس اور فرنیچر ہی نہیں بلکہ کئی کیسز کی فائلیں اور اہم دستاویزات خاکستر ہوگئے۔
۱۰۲؍سال پرانے بائیکلہ پولیس اسٹیشن میں اتوار کو لگنے والی آگ پر نصف گھنٹے میں تو قابو پالیا گیا تھا لیکن گراؤنڈ پلس ایک منزلہ عمارت میں اس حادثہ کے سبب کئی کمپیوٹرس اور فرنیچر ہی نہیں بلکہ کئی کیسز کی فائلیں اور اہم دستاویزات خاکستر ہوگئے۔ پولیس کے سینئر افسر کے بقول ضائع ہونے والے تمام ریکارڈز کو اکٹھا کرنے کی کوشش تو کی جائے گی لیکن اس میں کتنا وقت لگے گا، ابھی کہا نہیں جاسکتا ہے ۔
یہ بھی پڑھئے: ہائی کورٹ نے وقف پراپرٹی کو ’دشمن کی ملکیت‘ قراردینے کیخلاف فیصلہ سنایا
بائیکلہ کے سینئر پولیس انسپکٹر دیپک ساونت نے اس بارے میں بتایا کہ ’’ اتوار کو رات تقریباً ۸؍ بجکر ۲۴؍ منٹ پر پولیس اسٹیشن کے ریکارڈ روم اور کمپیوٹر روم میں اچانک آگ لگ گئی تھی ، اس وقت میں گھر پر تھا ۔ فائر بریگیڈ کو فوراً فون پر اطلاع دی گئی تھی جس نے ۴؍ فائر انجن ، ۳؍ واٹر ٹینکروں اور ایک مخصوص فائر وین کی مدد سے آگ پر ۲۵؍ سے ۳۰؍ منٹ میں قابو پا لیا تھا ۔ اس آگ میں کئی دستاویزات ، کمپیوٹرس اور فرنیچر کو نقصان پہنچا ہے ۔ تاہم بہت سی فائلیں اور دستاویزات کو محفوظ کرنے میں کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کتنے دستاویزات کا نقصان ہوا ہے، ابھی اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ہے اور اسے دوبارہ حاصل کرنے کیلئے کتنا وقت لگے گا، یہ بھی بتایانہیں جاسکتا ہے ۔ ڈپٹی پولیس کمشنر جینت مینا نے اس بارے میں کہا کہ ابتدائی جانچ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کے سبب لگی تھی لیکن صحیح وجہ جانچ کے بعد ہی معلوم ہوسکے گی۔
یہ بھی پڑھئے: اکبرپیر بھائی کالج کی طالبہ شیخ عارفہ ڈیٹاسائنس میں یونیورسٹی ٹاپر
چیف فائر آفیسررویندر امولگیکر کے مطابق آگ لگنے کے باوجود دستاویزات کو محفوظ رکھنے کیلئے پانی کا کم سے کم استعمال کیا گیا تھا۔