’واقف‘ کی پوتی کے پاکستانی ہونے کی وجہ سے ’کسٹوڈین آف اینیمی‘ نے سرکاری ریکارڈ سے مالکان کا نام ہٹادیا تھا۔
EPAPER
Updated: July 28, 2026, 12:22 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
’واقف‘ کی پوتی کے پاکستانی ہونے کی وجہ سے ’کسٹوڈین آف اینیمی‘ نے سرکاری ریکارڈ سے مالکان کا نام ہٹادیا تھا۔
ولے پارلے میں واقع وقف کی جائیداد کو ’کسٹوڈین آف اینیمی پراپرٹی فار انڈیا‘ نے اپنی نگرانی میں لے لیا تھا لیکن بامبے ہائی کورٹ نے گزشتہ ہفتے سنائے گئے اپنے فیصلے میں ’کسٹوڈین‘ کے عمل کو غلط قرار دیتے ہوئے یہ املاک خریدنے والوںکو اس کا اصل حقدار قرار دے دیا ہے۔
ماہم میں رہنے والے محمد خان بہادر حاجی شیخ مہر بخش نے اپنی ۲؍ ہزار ۹۴۹ء۱۰؍ مربع میٹر کی زمین کو ۱۹؍ جنوری ۱۹۲۶ء کو اپنی اولادوں اور آنے والی نسلوں کیلئے ’وقف علی الاولاد‘ کے طور پر وقف کیا تھا جس کے تحت اس جائیداد کی آمدنی کو ان کی اولادیں اپنے کاموں میں لاسکتی ہیں۔ البتہ واقف نے اپنی وراثت میں کہا تھا کہ اگر آنے والی نسلیں کوئی وارث چھوڑے بغیر انتقال کرجاتی ہیں تو اس ملکیت سے ہونے والی آمدنی کو مذہبی اور خیر کے کاموں میں استعمال کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: پرائمری اسکولوں کے اساتذہ کو بی ایل او کی ڈیوٹی دینے کے خلاف عرضی
اس کے دستاویز میں شق نمبر ۱۲؍ میں وقف کی جائیداد کے متولیوں کو اس وقف کی جائیداد کو فروخت کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ اس اختیار کی بنیاد پر اس ملکیت کو مہتا امپیکس پرائیویٹ لمیٹڈ کو فروخت کردیا گیا تھااور ’ریوینیو ڈپارٹمنٹ‘ کے ریکارڈ میں کمپنی کے مالکان کا نام اس زمین کے مالک کے طور پر درج کرلیاگیا تھا۔
البتہ مارچ ۲۰۰۴ء میں پہلی مرتبہ ’کسٹوڈین آف اینیمی پراپرٹی‘ نے نوٹس جاری کرکے اس ملکیت کو ’اینیمی پراپرٹی‘ قرار دیا تھا۔ اسی سال جائیداد کے مالکان نے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور پھر ان کی درخواست پر ’کسٹوڈین‘ نے سوا لاکھ روپے عدالت میں جمع کرنے کے عوض انہیں جائیداد کے تعلق سے اپنا این او سی دے دیا۔ تاہم چند برس بعد پھر اس وقف جائیداد کے تعلق سے تحقیق شروع کی گئی اور عدالت کا حکم موجود ہونے کے باوجود ’کسٹوڈین‘ نے ریوینیو ریکارڈ سے مالکان کا نام نکال کر ’کسٹوڈین‘ کا نام درج کروادیاکہ اب یہ ملکیت ان کی نگرانی میں ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ واقف کے بڑے بیٹے ایس ایم فاروق کی بیٹی نبیلہ بیگم جو پاکستانی ہیں اور وہیں رہتی ہیں، نے بامبے ہائی کورٹ میں ایک سوٹ داخل کرکے اس جائیداد میں اپنا حصہ طلب کیا تھا۔ ہائی کورٹ کی توسط سے نبیلہ بیگم اور ان کے پاکستانی وارثین کو اس جائیداد میں حصہ کے طور پر سوا لاکھ روپے ادا کئے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹی ای ٹی پیپر لیٖک معاملے میں ریاستی وزیر تعلیم سے ۷؍ دن میں استعفیٰ کا مطالبہ
ان کے مطابق ان حالات میں اپنے آپ یہ جائیداد ’کسٹوڈین‘ کی نگرانی میں آجاتی ہے۔ تاہم مالکان نے اس فیصلے کو بھی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور جسٹس سمن شیام اور جسٹس شیام سی چانڈک کی دو رکنی بنچ کے سامنے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے اسی نوعیت کے دیگر معاملات کے فیصلوں پر انحصار کرتے ہوئے دلیل دی کہ کسی بھی جائیداد کو دشمن کی جائیداد قرار دینے اور کسٹوڈین کی نگرانی میں لینے کیلئے طریقہ کار موجود ہے جس میں مالکان کو اپنی بات رکھنے کا موقع بھی دیا جاتا ہے لیکن اس معاملے میں ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ آج تک کوئی بھی ملکیت اپنے آپ کسٹوڈین کو نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق فی الوقت اس ملکیت میں صرف ہندوستانی مالکان ہیں اس لئے اسے ’اینیمی پراپرٹی ‘ قرار نہیں دیاجاسکتا۔
فریقین کی بحث سننے کے بعد ججوں نے ۲۲؍ جولائی کو سنائے گئے اپنے فیصلے میں کسٹوڈین کے عمل کو غلط قراردیا اور اس ملکیت کو خریدنے والوں کو اس کا اصل حقدار قرار دےد یا۔