کرناٹک کے بیلگاوی میں بی ایل اوز پر دباؤ ڈالنے کا الزام، متعدد پولنگ اسٹیشنوں پر مسلم ووٹروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، خود بی ایل اے کا نام شامل۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 1:36 PM IST | Agency | Bengaluru
کرناٹک کے بیلگاوی میں بی ایل اوز پر دباؤ ڈالنے کا الزام، متعدد پولنگ اسٹیشنوں پر مسلم ووٹروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، خود بی ایل اے کا نام شامل۔
کرناٹک کےبیلگاوی شمال اسمبلی حلقےکےمتعدد پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی فہرستوں سےمسلم ووٹروں کے نام حذف کرانے کی درخواستوں پر مشتمل فارم-۷؍ بڑی تعداد میں سامنے آنے کے بعد تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ بی ایل اوز نےالزام عائد کیا ہے کہ ان پر ان فارموں پر دستخط کرنے کیلئےدباؤ ڈالا گیا۔یہ درخواستیں کم از کم ۶؍پولنگ اسٹیشنوں پر سامنے آئی ہیں، جن میںویر بھدرنگر کے ۴؍اور شیٹّیگلی کے ایک اور گورنمنٹ کنّڑ ہائر پرائمری اسکول کے۲؍پولنگ اسٹیشن شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:راجستھان: مدارس سے متعلق رپورٹ ہائی کورٹ میں پیش کرنے کا حکم
واضح رہے کہ فارم-۷؍انتخابی فہرست سے کسی ووٹر کا نام حذف کرنے کی درخواست کیلئے استعمال ہونے والا قانونی فارم ہے۔ رپورٹس کے مطابق خود کوبیلگاوی سٹی کارپوریشن کا ملازم بتانے والے ۲؍افراد بڑی تعداد میں پہلے سے پرنٹ کیےگئے فارم-۷؍لے کر پہنچے۔ ان فارموں میں ووٹروں کی تفصیلات درج تھیں، جبکہ اعتراض کنندگان کےنام یا تو ہاتھ سے لکھے گئے تھے یا خالی چھوڑ دیے گئےتھے۔ ان درخواستوں میں خصوصی طور پر مسلم ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سےحذف کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ویر بھدراردو ماڈل اسکول کے پولنگ اسٹیشن نمبر ۱۹۶؍ کے بی ایل اے میرصاحب سندی نے بتایا کہ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کا اپنا نام، ان کےبھائی، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے نام بھی نشانےپرتھے۔ انہوں نے کہا ’’میں گزشتہ کم از کم ۱۵؍ سال سے یہاںبی ایل اے ہوں۔ جب میں نے تقریباً ۳۸۰؍ فارم-۷؍درخواستیں دیکھیں تو میں حیران رہ گیا۔‘‘مذکورہ افراد نے بی ایل اوز سے بار بار فارموں پر دستخط کرکے انہیں فوری طور پر واپس کرنےپر زور دیا۔ افسران نے فہرست میں شامل ووٹروں سے اپنی طویل واقفیت کا حوالہ دیتے ہوئے دستخط کرنے سے انکار کیا تو الزام ہے کہ ان افرادنے کسی ایسے شخص کو فون کیا جس نے خود کو الیکٹورل رجسٹریشن افسر ادے کمار بساونتپا تلاور بتایا اور انہیں فارموں پر دستخط کرنے کی ہدایت دی۔ تاہم، بعد میں تلاور نے کہا کہ ان کے نام کا غلط استعمال کیا گیا ہے اور انہوں نے ایسی کوئی ہدایت جاری نہیں کی تھی۔کچھ بی ایل اوز نے دباؤ کے تحت فارموں پر دستخط کر دئیے، جبکہ دیگر نے اپنے اعلیٰ افسران سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی۔
کانگریس کارکن امان سیٹھ نے بتایا کہ بعد میں مذکورہ افراد نے ایک مقامی اسپتال سے اپنے تعلقات کا دعویٰ کیا۔ جن لوگوں کے نام اعتراض کنندگان کے طور پر درج تھے، ان میں سے کئی نے تصدیق کی کہ فارموں پر ان کی تفصیلات موجود تھیں، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نےایسی کوئی درخواست جمع نہیں کرائی تھی۔ شکایات کے بعد فارموں کا ایک بنڈل برآمد کرلیا گیا،تاہم دیگر مقامات پر اسی نوعیت کی درخواستیں جمع ہونے کا سلسلہ جاری رہا۔
مدت ختم ہونے پر بھی درخواستیں
بھالکی میںمسلم ووٹروں کو نشانہ بنانے والی بڑی تعدادمیں درخواستیں۲۳؍ ستمبر کو دعووں اور اعتراضات کی مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی جمع ہوتی رہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۲۴؍ سے۲۹؍ ستمبر کے درمیان ۱۱۳۱؍ درخواستیں جمع کی گئیں، جن میں سے ۱۱۲۳؍ کو ’بلک‘ یعنی بڑی تعداد میں جمع کرائی گئی درخواستوں کے زمرے میںرکھا گیا۔ حکام کے مطابق مقررہ آخری تاریخ کے بعد جمع کرائی گئی درخواستوں کی جانچ پڑتال حتمی انتخابی فہرست۲۷؍ اکتوبر کو شائع ہونے کے بعد ہی کی جائے گی۔