اوونز نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو ایپسٹین اور روتھس چائلڈ خاندان سے متعلق الزامات سے جوڑتے ہوئے اثر و رسوخ اور کنٹرول کے وسیع تر نظام کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تنازع ایران میں مغربی طرز کے مالیاتی نظام کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔
EPAPER
Updated: March 23, 2026, 9:56 PM IST | Washington
اوونز نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو ایپسٹین اور روتھس چائلڈ خاندان سے متعلق الزامات سے جوڑتے ہوئے اثر و رسوخ اور کنٹرول کے وسیع تر نظام کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تنازع ایران میں مغربی طرز کے مالیاتی نظام کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔
امریکی قدامت پسند مبصر کینڈس اوونز نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری حالیہ تنازع کے بارے میں کئی متنازع سنسنی خیز دعوے کئے ہیں جن کی وجہ سے سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ جنگ، ایک وسیع تر جیو پولیٹیکل ایجنڈے کا حصہ ہے اور `تیسری عالمی جنگ‘ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
We murdered 250 Iranian school girls absent any imminent threat or provocation. We did it because Bibi and neocons want world war 3, followed by Rothschild banking installed in Iran. Currently debt-slavery is illegal. The Epstein class wants everyone worldwide enslaved by usury. https://t.co/5WUH8gUErQ
— Candace Owens (@RealCandaceO) March 22, 2026
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد پوسٹس میں اوونز نے اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو اور نو-کنزرویٹو (neoconservative) گروپس پر اس تنازع کو ہوا دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ جنگ حادثاتی نہیں بلکہ عالمی طاقت کے ڈھانچے کو نئے سرے سے ترتیب دینے کے مقصد سے منصوبہ بندی کے بعد جان بوجھ کر شروع کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کے خلاف آئی سی سی کیس کے جج پر پابندیاں، روزمرہ زندگی مفلوج
’بلیک میلنگ‘ اور مالیاتی کنٹرول کے دعوے
اوونز نے اس تنازع کو بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین اور روتھس چائلڈ خاندان سے متعلق الزامات سے جوڑتے ہوئے اثر و رسوخ اور کنٹرول کے ایک وسیع تر نظام کی طرف اشارہ کیا۔ دبئی میں مقیم کاروباری شخصیت ماریو نوفل کی ایک پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ عالمی طاقتوں کو ”بلیک میل“ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ تنازع ایران میں مغربی طرز کے مالیاتی نظام کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ ایپسٹین کے اسرائیلی مفادات کے ساتھ روابط تھے اور ایسے نیٹ ورکس کو عالمی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہونے کیلئے استعمال کیا گیا۔ تاہم، یہ دعوے تاحال غیر مصدقہ ہیں اور کسی بھی ذریعہ سے ایپسٹین، اسرائیل یا کسی مربوط عالمی مالیاتی ایجنڈے کے درمیان روابط کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
اوونز نے ”قرض پر مبنی نظام“ پر تنقید کی اور دلیل دی کہ انہیں عالمی سطح پر ان خطوں میں بھی نافذ کیا جا رہا ہے جہاں اسلامی قانون کے تحت سودی مالیات ممنوع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تہران پر نئے حملے، ایران کا جوابی وار، شہری ردعمل اور ہتھیاروں پر سوالات
ٹرمپ سے تعلقات کا خاتمہ اور جنگ پر تنقید
اوونز، جنہوں نے ۲۰۲۴ء کے صدارتی انتخابات کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حمایت کی تھی، اب ان سے تیزی سے دوری اختیار کر رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کی سیاسی بنیاد اس تنازع کی حمایت نہیں کرتی۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ صدر کو عوامی رائے کے بارے میں گمراہ کن معلومات فراہم کی جا رہی ہوگی۔ انہوں نے لکھا، ”ایک چھوٹے سے گروہ کے علاوہ کوئی بھی اس جنگ کی حمایت نہیں کرتا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال کو انتظامیہ کے سامنے غلط رنگ میں پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز کھلی ہے مگر جنگی خوف حاوی، ایران کا امریکہ اسرائیل پر الزام
سوشل میڈیا پر شدید ردعمل
اوونز کے تبصروں نے سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے۔ بہت سے صارفین نے ان کے دعوؤں کو مسترد کیا اور امریکہ و اسرائیل کے اقدامات کا دفاع کیا۔ کچھ صارفین نے دلیل دی کہ امریکی سلامتی کیلئے ایران کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ اس تنازع کی مخالفت کرنا ”پروپیگنڈا پھیلانے“ کے مترادف ہے۔ دیگر نے اسرائیل اور ٹرمپ دونوں کیلئے اپنی مسلسل حمایت کا اظہار کیا اور اوونز سے اپنے موقف پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی۔ ایک صارف نے ایران سے منسوب ماضی کے تشدد کا ذکر نہ کرنے پر ان پر تنقید کی اور اس مسئلے کے حوالے سے ان کے فریم ورک پر سوال اٹھایا۔