Inquilab Logo Happiest Places to Work

وینزویلا کے سابق صدر مادورو منشیات اسمگلنگ کے امریکی مقدمے میں واپس عدالت آگئے

Updated: July 22, 2026, 8:03 PM IST | Washington

وینزویلا کے سابق صدر مادورو منشیات ا سمگلنگ کے امریکی مقدمے میں واپس عدالت آگئے، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اسمگلروں کو امریکہ میں کوکین کی بڑی مقدار بھیجنے میں مدد فراہم کی۔

Former Venezuelan President Nicolas Maduro. Photo: X
وینزویلا کے سابق صدر نیکولس مادورو۔ تصویر: ایکس

وینزویلا کے سابق صدر نیکولس مادورو بدھ کو اپنے وکلاء کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوں گے اور توقع ہے کہ وہ اس امریکی فوجی کارروائی کے خلاف اعتراض جاری رکھیں گے جس کے ذریعےانہیں اقتدار سے ہٹا کر نیویارک لایا گیا تاکہ ان پر منشیات اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے جا سکیں۔۶۳؍سالہ مادورو اور ان کی اہلیہ۶۹؍ سالہ سیلیا فلورس کو اس وقت سے بروکلین کی جیل میں رکھا گیا ہے جب امریکی افواج نے انہیں ان کے کراکس کے گھر سے آدھی رات کو چھاپے میں گرفتار کیا اور جنوری کے اوائل میں نیویارک لایا۔ جبکہ دونوں نے اپنے بے قصورہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فرانس: یورپی یونین سے مقبوضہ مغربی کنارے سے مصنوعات کی درآمد بند کرنے کا مطالبہ

واضح رہے کہ اگر جیوری اس بات پر متفق ہو جاتی ہے کہ وہ امریکہ کو کوکین بھیجنے کی سازش کا حصہ تھے تو انہیں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ جبکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس چھاپے کو چھ سال قبل دائر ایک مجرمانہ مقدمے میں پولیس کارروائی قرار دیا ہے۔ تاہم مادورو نے خود کو جنگی قیدی اور ان کی گرفتاری کو اغوا قرار دیا ہے۔ دریں اثناء امریکی پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ مادورو نے وینزویلا کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے ساتھ ملی بھگت کر کے منشیات کے بڑے کاروباریوں کی مدد کی تاکہ ہزاروں ٹن کوکین امریکہ پہنچائی جا سکے۔انہوں نے جنوری میں اپنی ابتدائی سماعت کے دوران ہسپانوی میں کہا، ’’میں قصوروار نہیں ہوں۔ میں ایک نیک آدمی ہوں، اپنے ملک کا آئینی صدر ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: نئے برطانوی وزیراعظم برنہم نے اپنی کابینہ کی ٹاپ ٹیم تشکیل دینا شروع کر دی

دوسری جانب مادورو کے وکیل بیری پولاک نے کہا ہے کہ وہ مادورو کی ’’فوجی اغوا‘‘ کی قانونی حیثیت کو چیلنج کریں گے۔ مزید برآں وکلاء نے کہا ہے کہ ایسی پیچیدہ قانونی دفاعی تدابیر ہیں جنہیں عدالت کو مقدمے کے آغاز سے قبل حل کرنا ہوگا۔ تاحال مادورو اور فلورس نے ضمانت پر رہائی کی درخواست نہیں کی ہے۔  جبکہ جج ایلون کے ہیلرسٹین نے ابھی مقدمے کی تاریخ مقرر نہیں کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK